شمالی وزیرستان: معاوضوں کی عدم ادائیگی پر تاجر برادری کا 8 فروری کو مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان

میرانشاہ ( دی خیبرٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک ) شمالی وزیرستان کی تاجر برادری نے آپریشن ضربِ عضب کے دوران ہونے والے نقصانات کے بقایاجات کی عدم ادائیگی پر حکومت اور انتظامیہ کے خلاف احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔ میرانشاہ پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے تاجر رہنماؤں نے 8 فروری کو ضلع بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال اور پشاور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تاجر برادری کے چیئرمین ثناء اللہ خان، صدر میرانشاہ تاجر برادری انور حسن درپہ خیل اور صدر میرعلی تاجر برادری احمد گل نے بتایا کہ تاجروں کے لئے مجموعی طور پر 9 ارب 29 ملین روپے کا معاوضہ منظور کیا گیا تھا، جس میں سے اب بھی 2 ارب 987 ملین روپے (تقریباً پونے تین ارب روپے) بقایا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے جاری کردہ 1.5 بلین روپے میں سے 72 کروڑ روپے مل چکے ہیں، جبکہ 78 کروڑ روپے صوبائی حکومت کے پاس موجود ہونے کے باوجود تاحال ریلیز نہیں کیے جا رہے۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت کے ذمے اب بھی 1 ارب 487 ملین روپے واجب الادا ہیں۔
صدر میرعلی تاجر برادری احمد گل نے کہا کہ آپریشن ضربِ عضب کے دوران میرعلی بازار کے 7 ہزار 724 دکاندار متاثر ہوئے، جن میں سے 4 ہزار 18 دکاندار اب بھی اپنے پہلے مرحلے کے معاوضے کے منتظر ہیں۔
تاجر رہنماؤں نے ضلعی انتظامیہ کو خبردار کیا کہ وہ تاجروں کے جائز حقوق کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ انہوں نے اپنے مطالبات کے حق میں اعلان کیا کہ 8 فروری کو شمالی وزیرستان کے تمام چھوٹے بڑے بازاروں میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی۔ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو پشاور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جائے گا، جبکہ انصاف کے حصول کے لیے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا جائے گا۔
تاجر رہنماؤں نے مقامی اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس نازک موقع پر تاجروں کا ساتھ دیں اور اسمبلیوں میں ان کے مسائل مؤثر انداز میں اٹھائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ایک ایک پائی کی مکمل ادائیگی نہیں ہو جاتی، احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں