A political feature graphic collage from "The Khyber Times" (دی خیبر ٹائمز), written by Safiullah Gul, discussing "The Future of the Political Enclosure: Trump and Netanyahu" (سیاسی حصار کا مستقبل: ٹرمپ اور نتن یاہو). The collage features Gadi Eisenkot (left), Donald Trump (center/top), and Benjamin Netanyahu (right), with American and Israeli flags, a golden globe, and a Middle East map in the background.

نتن یاہو دوراہے پر: کیا ٹرمپ دور کا سیاسی حصار ٹوٹنے لگا ہے؟

عالمی امور | تجزیہ

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی، اسرائیل میں غیر فیصلہ کن انتخابی نتائج اور علاقائی کشیدگی کے سفارتی اثرات واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کو نئے امتحان سے دوچار کر رہے ہیں۔

تحریر: صفی اللہ گل

واشنگٹن کی نیلی لہر اور اسرائیل کے لیے اس کے اثرات

3 نومبر 2026 کے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی حاصل کرکے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بڑا سیاسی دھچکا پہنچایا۔ اس نتیجے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کو اپنی صدارت کے باقی دو برسوں میں قانون سازی اور حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے زیادہ سخت مزاحمت کا سامنا ہو سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کی۔ سینیٹ کی کم از کم سات نشستیں اور ایوانِ نمائندگان کے درجنوں حلقے ری پبلکنز سے چھینے گئے۔ اخراجاتِ زندگی، ایندھن کی قیمتوں، محصولات اور ایران جنگ سے متعلق حکومتی پالیسی پر عوامی بے اطمینانی نے انتخابی نتائج میں اہم کردار ادا کیا۔
نتن یاہو کیلئے اس صورت حال کے اثرات اہم ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے ساتھ ان کے قریبی سیاسی تعلق نے اسرائیل کی سفارتی حکمت عملی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ تاہم ڈیموکریٹس کے زیرِ کنٹرول کانگریس اسرائیل کیلئے فوجی امداد، سفارتی حمایت اور علاقائی پالیسیوں پر زیادہ سخت سوالات اٹھا سکتی ہے۔ اس کا مطلب امریکی حمایت کا خاتمہ نہیں، بلکہ اس حمایت کے گرد سیاسی اتفاقِ رائے میں ممکنہ کمی ہے۔

نتن یاہو کی انتخابی کامیابی، مگر حکومت سازی کا بحران
27 اکتوبر 2026 کو اسرائیل میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتائج نے حکومت سازی کو پیچیدہ بنا دیا۔ نتن یاہو کی جماعت لیکوڈ 120 رکنی کنیسٹ میں 27 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی۔ تاہم ان کے حمایت یافتہ اتحاد کو 53 نشستیں ملیں، جبکہ گادی آئزن کوٹ سے وابستہ اپوزیشن بلاک نے 48 نشستیں حاصل کیں۔ عرب قیادت کی جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں جیتیں۔ حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں، اس لئے کسی بھی بڑے سیاسی اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔
اب نتن یاہو کیلئے اصل امتحان حکومت سازی ہے۔ انہیں یا تو مختلف جماعتوں کو ساتھ ملا کر اکثریت بنانا ہوگی یا مخالف جماعتیں کوئی متبادل اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کریں گی۔ اسرائیلی کنیسٹ کے سرکاری نتائج میں جماعتوں کی نشستوں کی حتمی تقسیم درج ہے، جبکہ نئی پارلیمان کا افتتاحی اجلاس 10 نومبر کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔
نتن یاہو ایک تجربہ کار سیاست دان ہیں اور ان کے پاس مضبوط سیاسی حمایت موجود ہے، لیکن حالیہ انتخاب نے واضح کیا ہے کہ شدید سیاسی تقسیم کے ماحول میں اتحاد قائم کرنا ان کیلئے پہلے سے زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔

کیا ٹرمپ نتن یاہو کیلئے سیاسی حصار برقرار رکھ سکیں گے؟
گزشتہ برسوں میں نتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات سے سیاسی اور سفارتی فائدہ اٹھایا، بالخصوص ایران، اسرائیلی سلامتی اور مشرق وسطیٰ کی پالیسیوں کے معاملات میں۔ تاہم سیاسی اتحاد بالآخر قومی مفادات اور انتخابی ترجیحات کے تابع ہوتے ہیں، محض شخصی وفاداری کے نہیں۔
وسط مدتی انتخابات میں شکست کے بعد ٹرمپ کو امریکی معیشت اور بیرونی تنازعات کے سیاسی اخراجات کے حوالے سے دباؤ کا سامنا ہوگا۔ ایران جنگ اس سلسلے میں خاص طور پر حساس معاملہ ہے۔ نتن یاہو ایران کو اسرائیل کے لیے بنیادی تزویراتی خطرہ سمجھتے ہیں اور تہران کے خلاف مسلسل دباؤ کے حامی رہے ہیں، جبکہ واشنگٹن فوجی اور معاشی اخراجات کم کرنے کیلئے مذاکرات یا کشیدگی میں کمی کو ترجیح دے سکتا ہے۔
اس اختلاف سے امریکہ اور اسرائیل کے وسیع تر سلامتی تعلقات لازماً ختم نہیں ہوں گے، لیکن نتن یاہو کی امریکی پالیسی پر اثراندازی محدود ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھتے ہوئے بھی نتن یاہو کی بعض سیاسی ترجیحات سے فاصلہ اختیار کر سکتے ہیں۔

غزہ: قیادت کی تبدیلی، مگر پالیسی میں تبدیلی کی ضمانت نہیں
نتن یاہو کی ممکنہ رخصتی سے غزہ اور فلسطینیوں کے حوالے سے اسرائیلی پالیسی میں تبدیلی کی توقعات پیدا ہوئی ہیں، تاہم حکومت کی تبدیلی کو بنیادی پالیسی میں فوری تبدیلی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اسرائیلی اپوزیشن میں ایسے سیاست دان بھی شامل ہیں جن کا فوجی اور سلامتی کا پس منظر ہے اور جو حماس، فلسطینی ریاست اور اسرائیلی سلامتی کے حوالے سے سخت مؤقف رکھتے ہیں۔
اس کے باوجود نئی حکومت جنگ بندی پر عمل درآمد، انسانی امداد، بین الاقوامی رابطوں اور سفارتی مذاکرات کے حوالے سے زیادہ عملی حکمت عملی اختیار کر سکتی ہے۔ فلسطینیوں کیلئے اصل سوال صرف اسرائیلی وزیراعظم کی تبدیلی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا کوئی نئی حکومت قبضے، بے دخلی، غزہ کے مستقبل اور حقِ خودارادیت جیسے بنیادی مسائل پر پیش رفت کیلئے آمادہ ہوگی۔
ان بنیادی سوالات پر پیش رفت کے بغیر حکومت کی تبدیلی سفارت کاری کا لہجہ تو بدل سکتی ہے، مگر تنازعے کو حل نہیں کر سکتی۔

ایران: واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اختلاف کی ممکنہ لکیر
امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایران سے متعلق پالیسی کا مستقبل ان سیاسی تبدیلیوں کا سب سے اہم علاقائی پہلو بن سکتا ہے۔ واشنگٹن ایران کے ساتھ سفارت کاری کو فوجی اخراجات کم کرنے اور توانائی کی منڈیوں کو مستحکم کرنے کا ذریعہ سمجھ سکتا ہے، جبکہ نتن یاہو سفارتی مفاہمت کو ایران کی تزویراتی صلاحیتوں کے مقابلے میں ناکافی قرار دے سکتے ہیں۔
کسی ممکنہ معاہدے سے خلیج میں فوری کشیدگی کم اور وسیع تر علاقائی سفارت کاری کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس فوجی تصادم میں مزید شدت توانائی کی فراہمی اور علاقائی سلامتی کیلئے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان بنیادی تزویراتی رقابت محض حکومت کی تبدیلی سے ختم ہونے کا امکان نہیں۔

پاکستان: علاقائی کشیدگی میں کمی کی تزویراتی اہمیت
واشنگٹن، تل ابیب اور تہران کے درمیان بدلتے تعلقات پاکستان کیلئے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی سے علاقائی سلامتی بہتر، توانائی کی قیمتوں پر دباؤ کم اور تجارت و رابطوں کے امکانات وسیع ہو سکتے ہیں۔ ایران کے ساتھ پاکستان کی جغرافیائی قربت کے باعث کسی بھی فوجی تصادم کے اثرات سرحدی سلامتی، تجارت اور سفارت کاری پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
طویل فوجی کشیدگی اسلام آباد کے لیے واشنگٹن، تہران اور خلیجی دارالحکومتوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل بنا سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے ایک پائیدار سفارتی حل، فوجی تصادم کے ایک اور دور کے مقابلے میں زیادہ سودمند ہوگا۔

کیا نتن یاہو کا سیاسی دور اختتام کے قریب ہے؟
نتن یاہو کی سیاسی پوزیشن کمزور ہوئی ہے، لیکن ان کی رخصتی ابھی یقینی نہیں۔ ان کے پاس مضبوط سیاسی حمایت، تجربہ اور اتحاد قائم کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ دوسری جانب ان کے مخالفین کو بھی اپنے نظریاتی اختلافات کے باوجود ایک قابلِ عمل حکومت تشکیل دینے کا مشکل مرحلہ درپیش ہے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات نے نتن یاہو کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ نہیں کیا، تاہم ان کے لیے بین الاقوامی ماحول ضرور تبدیل کر دیا ہے۔ آنے والے مہینے یہ واضح کریں گے کہ آیا وہ امریکی سیاسی شراکت پر پہلے کی طرح انحصار کرتے ہوئے اقتدار برقرار رکھ سکتے ہیں یا انہیں مختلف سفارتی اور داخلی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

نتیجہ: مشرق وسطیٰ ایک نئے سیاسی دوراہے پر
واشنگٹن اور اسرائیل میں بیک وقت پیدا ہونے والی سیاسی غیر یقینی محض دو رہنماؤں کی مشکلات کا معاملہ نہیں۔ یہ امریکی اثر و رسوخ، اسرائیل کی بین الاقوامی حیثیت اور غزہ و ایران کے حوالے سے سفارتی امکانات پر بنیادی سوالات اٹھاتی ہے۔
نتن یاہو موجودہ بحران سے نکل سکتے ہیں اور ٹرمپ اسرائیل کی حمایت بھی جاری رکھ سکتے ہیں، لیکن دونوں رہنماؤں کے تعلقات اور ان کے سیاسی مفادات سے متعلق روایتی تصورات اب زیادہ سخت جانچ کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
اصل سوال صرف یہ نہیں کہ نتن یاہو وزیراعظم رہیں گے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ واشنگٹن اور اسرائیل میں بدلتا سیاسی توازن مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن اور علاقائی استحکام کیلئے نئی راہیں کھولے گا یا خطے کو مزید سیاسی تقسیم اور تنازعات کی طرف دھکیل دے گا۔ مشرق وسطیٰ کے مستقبل کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ سیاسی تبدیلی تصادم کے بجائے سفارت کاری کو آگے بڑھا سکتی ہے یا نہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: معدنیات کا معما اور خیبر پختونخوا کا سیاسی بحران: بین الاقوامی مفادات، ریاستی بیانیہ اور اپوزیشن کے خدشات

Executive Summary: Netanyahu at a Crossroads
Written by Safiullah Gul

* US Midterm Election Impact: The Democrats’ victory in the US Midterm Elections (gaining majorities in both the Senate and the House) presents a significant political challenge for President Donald Trump. This shift threatens to weaken bipartisan consensus and increase scrutiny in Washington regarding military aid and diplomatic backing for Israel.
* Israeli Electoral Deadlock: Following Israel’s parliamentary elections, Netanyahu’s Likud won 27 seats, leading a 53-seat right-wing coalition block. With the opposition coalition holding 48 seats and Arab parties securing 19 seats, neither side reached the 61-seat majority required to easily form a government ahead of the parliament’s opening session.
* Changing US-Israel Dynamics: While Netanyahu has historically relied on his close personal relationship with Trump, post-election pressures may force the US administration to prioritize reducing military spending and managing economic concerns over unconditional support for Netanyahu’s specific policy preferences.
* Gaza Policy & Leadership Shift: A potential leadership change in Israel may alter the diplomatic tone and facilitate humanitarian aid or ceasefire talks, but core policies regarding Hamas, a Palestinian state, and occupation are unlikely to shift radically without structural political commitment.
* Diverging Perspectives on Iran: Washington may increasingly view diplomacy with Tehran as a means to stabilize energy markets and lower defense costs, contrasting with Netanyahu’s insistence on continuous military and strategic pressure against Iran.
* Strategic Implications for Pakistan: Regional de-escalation between the US, Iran, and Israel is advantageous for Pakistan, as it reduces risks to border security, energy price volatility, and the diplomatic strain of balancing relations between Washington, Tehran, and Gulf partners.
* Conclusion: Netanyahu faces a weakened domestic and international position, though his political survival remains possible. The concurrent political shifts in Washington and Jerusalem mark a critical juncture that will determine whether Middle Eastern regional policy moves toward diplomatic resolution or deeper instability.