Photojournalistic image of geopolitical tension on the Pakistan-Afghanistan border. The background shows smoke rising from mountain villages amid an overcast sky. In the foreground, the Pakistani flag and the white Islamic Emirate of Afghanistan flag wave side-by-side on flagpoles. Military jets and a surveillance drone are visible in the sky.

پاکستان کی افغانستان میں مبینہ فضائی کارروائیاں: ڈرونز، ٹی ٹی پی اور بڑھتی ہوئی کشیدگی

دی خیبر ٹائمز کیلئے ناصر داوڑ کی خصوصی تحریر
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات ایک مرتبہ پھر ایسے مرحلے میں داخل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں جہاں سرحدی کشیدگی صرف بیانات اور سفارتی احتجاج تک محدود نہیں رہی بلکہ ڈرونز، فضائی کارروائیوں، سرحد پار عسکری سرگرمیوں اور تحریک طالبان پاکستان کے معاملے نے دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے موجود بداعتمادی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

حالیہ دنوں میں افغانستان کے مختلف علاقوں میں مبینہ فضائی سرگرمیوں کی اطلاعات، پاکستان کی جانب سے افغانستان سے آنے والے ڈرونز کو روکنے اور ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائیوں کے دعوے، جبکہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے ان الزامات کی تردید اور ممکنہ ردعمل کے اعلانات اس نئی صورتحال کے اہم اجزا ہیں۔ اس تمام صورتحال کو محض ایک دوسرے کے الزامات کے طور پر دیکھنا کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاک افغان تعلقات کس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور اگر یہی رجحان برقرار رہا تو اس کے سرحدی سلامتی، تجارت، سفارت کاری اور دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

خوست اور قندھار میں مبینہ فضائی سرگرمیاں
میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان کے صوبہ خوست کے ضلع گربز میں گلان کیمپ اور اس کے اردگرد اسماعیل خیل اور منڈوزئی کے علاقوں میں فضائی سرگرمی کی اطلاعات سامنے آئیں۔ خوست کے صوبائی ترجمان مستغفر گربز کے مطابق ان کے علم میں ان علاقوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں تھی۔ دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا میں قندھار کے بعض علاقوں سے دھوئیں کے مناظر اور مبینہ فضائی کارروائیوں کی اطلاعات گردش کرتی رہیں، تاہم ان واقعات کے بارے میں مکمل سرکاری تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔ تاہم قندھار کی حساسیت اس لئے ذیادہ ہے، کیونکہ یہاں امارت اسلامی افغانستان کے امیر ملا ہیبت اللہ کی رہائش گاہ ہے۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انتہائی درست نوعیت کی کارروائیاں فضائیہ اور ڈرونز کے ذریعے کی گئیں اور دس ایسے مقامات کو نشانہ بنایا گیا جو مبینہ طور پر ڈرونز کے لانچ اور ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔ پاکستانی حکام کے مطابق افغانستان کی سرزمین سے ڈرونز کا پاکستان میں داخل ہونا ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔

ڈرون ٹیکنالوجی: ایک نیا سیکیورٹی چیلنج
حالیہ کشیدگی میں ڈرونز کا معاملہ محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ پاک افغان تعلقات میں ایک نئے سیکیورٹی چیلنج کی علامت بن چکا ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق 23 ستمبر کو افغانستان سے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے آٹھ ڈرونز کو روکے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق چار ڈرونز طورخم کے قریب جبکہ دو کوہاٹ سے متصل پہاڑی سرحدی علاقوں میں مار گرائے، جبکہ دو ڈرون قبائلی ضلع کرم کے پہاڑی سلسلے میں مار گرائے گئے ہیں۔

پاکستانی ذرائع نے ان ڈرونز کو افغان طالبان انتظامیہ سے منسوب کیا، تاہم افغان وزارت دفاع نے اس الزام کی تردید کی۔ یہاں تنازع کا بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ ڈرون کہاں سے آئے بلکہ یہ بھی ہے کہ انہیں کس مقصد کیلئے استعمال کیا جا رہا تھا، ان کا کنٹرول کس کے پاس تھا اور ان کے ذریعے پاکستان میں کس نوعیت کی کارروائی کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ اگر پاکستانی مؤقف کے مطابق یہ ڈرونز عسکری مقاصد کیلئے استعمال ہو رہے تھے تو یہ پاکستان کیلئے سرحدی نگرانی اور انسداد دہشتگردی کے حوالے سے ایک نیا خطرہ ہے۔ دوسری طرف اگر افغان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے تو دونوں ملکوں کے درمیان کسی قابل اعتماد مشترکہ تحقیقات کا فقدان مزید کشیدگی پیدا کر سکتا ہے۔

21 ستمبر کو پاکستان کی جانب سے کہا گیا کہ قابل اعتماد انٹیلی جنس کی بنیاد پر سرحدی علاقے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس سے وابستہ گروہوں کے ٹھکانوں کے خلاف درست نوعیت کی کارروائی کی گئی اور 28 جنگجو مارے گئے۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اسی روز ایک بیان میں کہا کہ افغان عوام اس کا مناسب وقت کو دیکھتے ہوئے مناسب جواب دیں گے۔

یہ بیانات دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی اختلاف کی نشاندہی کرتے ہیں۔ پاکستان کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ افغان سرزمین کو ٹی ٹی پی سمیت ایسے گروہوں کیلئے استعمال نہیں ہونا چاہئے جو پاکستان کے اندر حملوں میں ملوث ہیں۔ افغان طالبان طویل عرصے سے پاکستان کے ان الزامات کو مختلف انداز میں مسترد کرتے رہے ہیں اور افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف حملوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔ یہی اختلاف گزشتہ چند برسوں سے پاک افغان تعلقات کا سب سے مشکل سیکیورٹی مسئلہ بنا ہوا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات میں سرحدی تنازعات نئے نہیں۔ طورخم، چمن اور دیگر سرحدی گزرگاہوں پر وقفے وقفے سے پیدا ہونے والی کشیدگی اس کی مثال ہے۔ لیکن موجودہ صورتحال کو مختلف بنانے والی بات یہ ہے کہ اب سرحدی اختلافات کے ساتھ ساتھ دہشتگردی، ڈرون ٹیکنالوجی، فضائی کارروائیوں اور ایک دوسرے پر خودمختاری کی خلاف ورزی کے الزامات بھی جڑ گئے ہیں۔

اس صورتحال میں سب سے بڑا مسئلہ اعتماد کا بحران ہے۔ پاکستان افغان حکومت سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان مخالف عسکریت پسندوں کے استعمال سے روکے۔ دوسری جانب کابل سرحد پار پاکستانی کارروائیوں کو افغان خودمختاری کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھتا ہے۔ جب دونوں فریق اپنے اپنے سیکیورٹی خدشات کو بنیادی حقیقت سمجھیں اور دوسرے فریق کے مؤقف کو مسترد کریں تو کسی بھی واقعے کے بعد کشیدگی تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے مابین گزشتہ 11 مہینے سے تعلقات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔

تجارت، معیشت اور عام زندگی پر اثرات
پاک افغان کشیدگی کا اثر صرف ریاستی اداروں اور عسکری سرگرمیوں تک محدود نہیں رہتا۔ طورخم اور دیگر سرحدی گزرگاہوں سے وابستہ ہزاروں تاجر، مزدور، ڈرائیور، مریض، طلبہ اور عام مسافر دونوں طرف موجود ہیں۔ جب سیکیورٹی صورتحال خراب ہوتی ہے تو سرحدی آمدورفت متاثر ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں تجارت، روزگار اور انسانی نقل و حرکت پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ خاص طور پر خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع کیلئے افغانستان کے ساتھ تجارت اور آمدورفت محض خارجہ پالیسی کا معاملہ نہیں بلکہ روزمرہ معیشت کا حصہ ہے۔

پاک افغان تاجر حلقوں نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ سیاست اور تجارت کو الگ رکھا جائے۔ تجارت کی بندش سے نہ صرف عام تاجروں اور مزدوروں کا روزگار متاثر ہوتا ہے، بلکہ دونوں ریاستیں بھی روزانہ کی بنیاد پر شدید معاشی نقصان اٹھاتی ہیں۔

موجودہ صورتحال میں ایک اور خطرہ یہ ہے کہ کسی بھی واقعے کے بعد فوری طور پر سامنے آنے والے دعوے اور جوابی دعوے غلط فہمی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ ڈرون حملے، فضائی کارروائیاں اور سرحدی فائرنگ ایسے واقعات ہیں جن میں چند منٹوں کے اندر صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔ اگر ایک فریق کسی کارروائی کو دفاعی اقدام قرار دے اور دوسرا اسے جارحیت سمجھے تو ردعمل کا سلسلہ تیزی سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ اسی لئے معلومات کی تصدیق اور دونوں جانب سے براہ راست رابطے کا نظام موجودہ صورتحال میں پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔

حل کی راہ: سفارتی رابطے اور مشترکہ لائحہ عمل
پاکستان کیلئے بنیادی چیلنج اپنی سرزمین پر ہونے والے عسکری حملوں کو روکنا ہے جبکہ افغان طالبان حکومت کیلئے بنیادی حساسیت افغانستان کی خودمختاری اور سرحد پار فوجی کارروائیوں کا معاملہ ہے۔ دونوں مؤقف اپنی اپنی جگہ موجود ہیں لیکن مسئلے کا پائیدار حل صرف ایک فریق کے مؤقف کو دہرانے سے ممکن نہیں ہوگا۔

اگر پاکستان ٹی ٹی پی کے خطرے کو بنیادی سیکیورٹی مسئلہ سمجھتا ہے تو اس خطرے کے بارے میں قابل تصدیق شواہد اور معلومات افغان حکام کے ساتھ شیئر کرنے کا ایک مؤثر نظام ضروری ہے۔ اسی طرح افغانستان اگر پاکستانی فضائی کارروائیوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی سمجھتا ہے تو اسے بھی ان واقعات کی تحقیقات اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی سفارتی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ سرحد پر عسکری دباؤ ایک محدود مدت کیلئے کسی خاص مقصد کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہو سکتا ہے، لیکن مستقل بنیادوں پر سرحدی امن کیلئے سیاسی اور سفارتی رابطہ ناگزیر رہے گا۔
خوست، قندھار اور دیگر علاقوں سے سامنے آنے والی فضائی سرگرمیوں کی اطلاعات، پاکستان کی جانب سے ڈرونز اور ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائیوں کے دعوے اور افغان طالبان حکومت کی جانب سے تردید اور ممکنہ جوابی ردعمل کے بیانات ایک ایسے مرحلے کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں پاک افغان تعلقات میں سیکیورٹی کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال کو صرف فضائی کارروائیوں یا ڈرونز کے تناظر میں دیکھنا مکمل تصویر نہیں ہوگا۔ اس کے پیچھے کئی برس سے موجود اعتماد کا بحران، ٹی ٹی پی کا مسئلہ، سرحدی انتظام، دوطرفہ تجارت اور افغانستان کے اندر طاقت کے موجودہ توازن سے جڑے عوامل بھی موجود ہیں۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ دونوں ممالک اس کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکنے کیلئے کس حد تک براہ راست رابطہ، قابل تصدیق معلومات اور سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہیں۔

اگر ہر واقعے کا جواب مزید سخت کارروائی، مزید الزام اور مزید جوابی بیان کی صورت میں آتا رہا تو پاک افغان سرحد ایک مستقل بحران کا مرکز بن سکتی ہے۔ لیکن اگر سیکیورٹی خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے دونوں جانب سے ایک قابل اعتماد مذاکراتی اور رابطہ نظام قائم کیا جائے تو کشیدگی کو محدود رکھنے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔ موجودہ صورتحال میں سب سے اہم ضرورت شاید یہی ہے کہ دعووں اور جوابی دعووں سے آگے بڑھ کر یہ طے کیا جائے کہ سرحد پار عسکری سرگرمیوں کو کیسے روکا جائے، ٹی ٹی پی کے مسئلے کو کیسے حل کیا جائے اور عام شہریوں کو دو ریاستوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا اندھن بننے سے کیسے بچایا جائے۔

Summary
Pakistan-Afghanistan relations have entered another tense phase following reports of aerial activity in Afghanistan, alleged cross-border drone incursions, and Pakistani claims of precision operations against militant targets linked to the Tehreek-e-Taliban Pakistan (TTP).
Reports from Khost indicated aerial activity in Garbaz district around Gulan Camp and nearby areas of Ismail Khel and Mandozai. A provincial spokesperson said that, according to the information available to him, no casualties had been reported. Separate reports also emerged of smoke in Kandahar, although official details about the reported incidents remained limited.
Pakistan’s Information Minister Ataullah Tarar said that highly precise operations were conducted using air force and drone assets against 10 locations allegedly used for launching and storing drones. Pakistani security sources also claimed that eight drones entering Pakistani airspace from Afghanistan were intercepted on September 23. Afghanistan’s Ministry of Defence denied the allegation.
The latest escalation is closely linked to the longstanding dispute over the presence and activities of the TTP. Pakistan maintains that Afghan territory is being used by militants for attacks inside Pakistan, while the Taliban authorities reject such allegations and have repeatedly opposed cross-border Pakistani military action.
The growing reliance on military responses, drone surveillance and reciprocal accusations reflects a deeper crisis of trust between Islamabad and Kabul. The consequences extend beyond security, potentially affecting border crossings, bilateral trade, diplomacy and communities living along the frontier.
The analysis argues that sustained stability will require more than military pressure. Direct communication, verifiable intelligence-sharing, mechanisms for investigating border incidents and continued diplomatic engagement may be necessary to prevent individual security incidents from developing into a wider confrontation.
About the Author: Nasir Dawar is Editor of The Khyber Times and a researcher focusing on Pakistan-Afghanistan affairs, security, geopolitics and developments in the tribal regions. Contact: dawarjan@gmail.com