A massive crowd of political demonstrators marching down a dusty street in Pakistan, holding banners and portraits of Imran Khan under an overcast sky.

کے پی میں سیاسی و انتظامی تصادم: اختیارات کی جنگ، تلخ روئے اور تحریکِ انصاف کا فکری زوال

دی خیبر ٹائمز خصوصی تحریر
سرحدی صوبے خیبر پختونخوا میں اس وقت گورننس کا نظام جس خطرناک بحران سے گزر رہا ہے، اس کی مثال ملکی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ ایک طرف صوبائی حکومت اور پولیس انتظامیہ کے درمیان جاری سرد جنگ اور اختیارات کی کھینچ تان نے ریاست کے بنیادی ستونوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، تو دوسری طرف پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی صفوں میں موجود شدید اندرونی اختلافات نے اس پورے سیاسی ڈھانچے کو ایک سوالیہ نشان بنا ڈالا ہے۔
حالیہ دنوں میں پشاور سے فضل شکور خان کے مبینہ طور پر غائب یا حراست میں لئے جانے کا واقعہ اس بحران کا سب سے تلخ اشارہ ہے۔ اس سنگین معاملے پر صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کی قیادت کا ردعمل انتہائی سرد مہری کا شکار رہا۔ صوبائی اسمبلی کے فلور پر روایتی تقاریر کے سوا کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ اسپیکر کے بار بار طلب کرنے کے باوجود آئی جی پی ذوالفقار حمید اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام کا ایوان میں پیش نہ ہونا اور وزیرِ داخلہ کے معاونِ خصوصی کا یہ اعتراف کہ پولیس ہماری بات ہی نہیں سن رہی، اس بات کا واضح غماز ہے کہ صوبائی حکومت اپنی ہی انتظامی رِٹ کھو چکی ہے۔
یہ کشیدگی کوئی ایک دن کی پیداوار نہیں، بلکہ گزشتہ ایک سال سے سلگتی اس آگ کا نتیجہ ہے جس کی جڑیں ناقص رویوں میں پیوست ہیں۔ بند کمرے کے اجلاسوں میں شائستگی اور باہمی احترام کا فقدان، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کے حواریوں کا پولیس اور بیوروکریسی کے ساتھ جارحانہ اور آمرانہ انداز، اور افسران کی پیشہ ورانہ خوداری (سیلف ریسپیکٹ) پر مسلسل ضرب نے دونوں فریقین کے درمیان ایک گہری خلیج حائل کر دی ہے۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کا دیرینہ شکوہ رہا ہے کہ انہیں مشکل گھڑی میں سیاسی پشت پناہی نہیں ملتی، جبکہ دوسری طرف سیاسی قیادت بیوروکریسی کو اپنا ماتحت سمجھنے کے بجائے ان کے بنیادی وقار کو روندنے پر تلی ہوئی ہے۔
انتظامی بحران کے ساتھ ساتھ تحریکِ انصاف کی اندرونی ساخت بھی پارہ پارہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ مرکزی قیادت اور صوبائی صفوں، ارکانِ قومی اسمبلی اور صوبائی حکومت کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان کھل کر سامنے آ چکا ہے۔ جنید اکبر جیسے رہنماؤں کی جانب سے اسلام آباد کو سومنات بنانے جیسے غیر سنجیدہ اور اشتعال انگیز بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ جماعت اب سنجیدہ سیاسی تدبر سے عاری ہو چکی ہے۔ پائیدار پالیسی سازی اور فکری بلوغت کی بجائے جذباتی نعرے بازی نے سیاست پر غلبہ پا لیا ہے۔

مقبولیت بمقابلہ نظم و ضبط: سیاسی جماعت یا “غیر سنجیدہ ہجوم”؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ بانی چیئرمین عمران خان آج بھی پاکستان کے سب سے مقبول ترین رہنما ہیں، اور عوام کی ایک بڑی تعداد غیر مشروط طور پر ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس عوامی جذبے اور مقبولیت کو منظم طاقت میں بدلنے کیلئے پارٹی کے پاس کوئی مؤثر اور سنجیدہ قیادت موجود ہے؟
موجودہ حالات اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ قیادت کے فقدان اور غیر سنجیدہ رویوں کے باعث پی ٹی آئی اب ایک باقاعدہ منظم سیاسی جماعت نہیں رہی، بلکہ یہ ایک ایسا غیر سنجیدہ ہجوم بن چکی ہے جو سمت، تدبر اور نظم و ضبط سے یکسر محروم ہے۔ ہجوم وقتی شور تو مچا سکتا ہے، مگر نہ تو وہ ریاست چلا سکتا ہے اور نہ ہی کسی بڑی تحریک کو منطقی انجام تک پہنچا سکتا ہے۔
اگر خیبر پختونخوا کے نظام کو مکمل تباہی اور طوائف الملوکی سے بچانا ہے، تو فریقین کو اپنی انا، جارحانہ رویوں اور اَن گڑھے بیانات سے توبہ کرنا ہوگی۔ آئی جی پی اور وزیراعلیٰ کے مابین پل کا کردار ادا کرنے والی سنجیدہ شخصیات کو آگے آنا ہوگا تاکہ انتظامیہ اور حکومت کے مابین اعتماد بحال ہو سکے۔ بصورت دیگر، یہ اندرونی محاذ آرائی صوبے کے عوام کیلئے ایک ایسے گہرے دلدل کا پیش خیمہ ثابت ہوگی جس سے نکلنا ناممکن ہو جائے گا۔

Political and Administrative Clash in KP: Power Struggles, Bitter Attitudes, and PTI’s Crisis of Governance

The latest editorial examines the severe governance crisis gripping Khyber Pakhtunkhwa (KP), highlighting an intensifying power struggle between the provincial government—led by Chief Minister Sohail Afridi—and the police administration, headed by IGP Zulfiqar Hamid, alongside deep-seated organizational fractures within Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI).

Key Highlights of the Editorial:

  • Institutional Paralysis & Police Boycott: Following the controversial disappearance or detention of Fazal Shakor Khan, the provincial assembly demonstrated complete helplessness. High-ranking police officials, including the IGP, repeatedly boycotted assembly summons, with government representatives openly admitting that the police refuse to heed their directives.
  • Root Causes of Friction: The standoff is the culmination of a year-long tension driven by a breakdown of decorum in closed-door meetings, aggressive and authoritative behavior by political leadership that undermines bureaucratic self-respect, and a historical lack of political shelter for the police force.
  • Intra-Party Divisions & Reckless Rhetoric: Deep fractures exist between PTI’s central and provincial tiers, legislators, and the government. Inflammatory and erratic statements by party figures—such as threatening to turn Islamabad into “Somnath”—showcase a troubling descent into political immaturity and strategic recklessness.
  • Popular Leader, But an “Unserious Mob”: While Imran Khan remains indisputably Pakistan’s most popular leader, the party’s severe leadership vacuum, internal discord, and lack of discipline have degraded PTI from a structured political force into an “unserious mob” incapable of steering a sustained, rational movement.
  • The Way Forward: To rescue KP from administrative collapse and political lawlessness, both the political leadership and law enforcement must discard personal egos, restore institutional decorum, and rely on diplomatic channels to rebuild mutual trust.
About Author: Nasir Dawar, Executive Editor The Khyber Times and Researcher – Contact: dawarjan@gmail.com