تحریر: مہوش تسلیم
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف اعلان کردہ لانگ مارچ نے ملکی سیاسی درجہ حرارت کو انتہائی حساس سطح پر پہنچا دیا ہے۔ تاہم، اس بار یہ سیاسی تحرک محض ایک احتجاجی فراخوان نہیں بلکہ قانونی، انتظامی اور خود جماعت کے اندرونی چیلنجز کے ایک پیچیدہ دباؤ کی زد میں ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ، پنجاب کی صوبائی قیادت کے تحفظات اور وفاقی حکومت کے سخت انتظامی اقدامات نے تحریک انصاف کو ایک بڑے سفارتی و سیاسی موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے جاری کردہ 37 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے نے لانگ مارچ کے قانونی و انتظامی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ عوامی شاہراہیں بند کرنا اور شہریوں کے بنیادی حقوق کو معطل کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ فیصلے میں خصوصی طور پر صوبائی حکومتوں کو لانگ مارچ کیلئے سرکاری فنڈز، گاڑیوں اور مشینری کے استعمال سے روک دیا گیا ہے۔ مزید برآں، غیر قانونی احکامات کی صورت میں سرکاری ملازمین کیلئے فوری ہیلپ لائن کا قیام اور عوامی عہدیداروں کی جانب سے آئینی حلف سے انحراف پر قانونی نتائج کی تنبیہ خیبر پختونخوا حکومت کیلئے انتظامی معاونت کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔
جماعت کے اندرونی سیاسی تحفظات نے تحریک انصاف کے حکمت عملی سازوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ کے پی ہاؤس اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں، جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور سلمان اکرم راجہ بھی موجود تھے، اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی سمیت پنجاب کے ارکانِ پارلیمنٹ نے 27 ستمبر کا لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کی ہے۔ پنجاب کی قیادت کا موقف ہے کہ لانگ مارچ کے لیے تیاریاں ناکافی ہیں اور اس کا اعلان کرنے سے پہلے ان سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ پشاور اجلاس میں بھی پنجاب کا نقطہ نظر نہ سنے جانے کی شکایات اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ تحریک انصاف کی مرکز اور صوبوں کی سطح پر ہم آہنگی شدید متاثر ہوئی ہے۔
ان تمام تر اندرونی و قانونی چیلنجز کے برعکس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے سخت اور جارحانہ بیانیہ برقرار رکھا ہوا ہے۔ نوشہرہ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ 27 ستمبر کو 20 لاکھ سے زائد افراد کو اسلام آباد لے کر جائیں گے اور خود اس مارچ کی قیادت کریں گے۔ بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور گڈ گورننس کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ کوئی طاقت ان کے وژن کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔ تاہم، عدالتی احکامات کے بعد سرکاری وسائل کے بغیر اتنی بڑی تعداد کو متحرک کرنا ان کی قیادت کا کڑا امتحان ہوگا۔
وفاقی حکومت نے احتجاج کو روکنے کیلئے ایک سخت انتظامی حکمت عملی ترتیب دی ہے۔ اسلام آباد کے تمام اہم چوکوں اور داخلی راستوں پر کم از کم 10 ہزار سے زائد کنٹینرز پہنچا دئے گئے ہیں۔ منصوبے کے مطابق 27 ستمبر سے ایک روز قبل اسلام آباد کی تمام منسلک شاہراہوں اور داخلی راستوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا جائے گا تاکہ مظاہرین کا وفاقی دارالحکومت میں داخلہ روکا جا سکے۔
مجموعی تجزئے کے مطابق 27 ستمبر کا مجوزہ لانگ مارچ تحریک انصاف کیلئے محض سیاسی طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ ایک سٹریٹیجک امتحان ہے۔ عدالتی پابندیوں کی وجہ سے خیبر پختونخوا کے سرکاری وسائل کے استعمال پر رکاوٹیں ہیں، جب کہ پنجاب کی تنظیم کی اندرونی ناگواری اور عدم تیاری نے صوبائی سطح پر متحرک ہونے کے امکانات کو محدود کر دیا ہے۔ وفاق کی سخت ناکہ بندی کے پیشِ نظر اب دیکھنا یہ ہوگا کہ پی ٹی آئی قیادت اپنے فیصلے پر قائم رہتے ہوئے تصادم کی راہ اختیار کرتی ہے یا پھر اندرونی تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی نیا درمیانی راستہ نکالتی ہے۔
Summery:




