عالمی قوتوں اور مقتدرہ کا خود ساختہ ایجنڈا قبول نہیں؛ قومی اسمبلی نے ملکی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی: کراچی میں ختم نبوت کانفرنس سے خطاب
کراچی (نیوز ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سعودی عرب اور حرمین شریفین کے دفاع و تحفظ کے لیے مکمل اور بے لوث حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حرمین کی سلامتی کے لیے ہر پاکستانی سعودی حکومت کے ساتھ کھڑا ہے۔
کراچی میں ایک عظیم الشان “ختم نبوت کانفرنس” سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے ملکی و بین الاقوامی سیاسی صورتحال، نظریاتی سرحدوں کے تحفظ، اور خطے میں امن و امان کے چیلنجز پر تفصیل سے اظہارِ خیال کیا۔
حرمین شریفین کا تحفظ اور علاقائی تنازعات
مولانا فضل الرحمان نے یمن سے سعودی عرب پر ہونے والے حوثی حملوں کی شدید مذمت کی اور سعودی قیادت کو واضح اور یکجہتی پر مبنی پیغام دیا۔
“سعودی حکومت کو واضح پیغام دیتا ہوں کہ حرمین شریفین کے تقدس اور تحفظ کیلئے ہر پاکستانی آپ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے۔”
خطے کی کشیدہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتوں نے جنگوں کی آڑ میں ہزاروں بے گناہ انسانوں کو قتل کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو افغانستان میں تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے جس نے سینکڑوں مظلوم فلسطینیوں کو شہید کیا۔ انہوں نے ایران پر امریکی اقدامات اور یمن کے ذریعے سعودی عرب کو نشانہ بنانے کے عمل پر تشویش کا اظہار کیا۔
قومی اسمبلی کی تاریخی قانون سازی کو سراہتے ہوئے سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ 52 سال قبل قومی اسمبلی نے متفقہ فیصلہ دیتے ہوئے خود کو احمدی اور لاہوری قرار دینے والوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا۔ اس فیصلے کے ذریعے قومی اسمبلی نے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا ابدی تحفظ کیا تھا جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
عالمی طاقتوں اور ملکی مقتدرہ کو سخت سست کہتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا: “ہمیں وہ سبق قبول نہیں جو آپ ہمیں پڑھانا چاہتے ہیں۔ ہم آپ کے خود ساختہ ایجنڈے اور مقاصد کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بدقسمتی سے عنوان کچھ اور رکھا جاتا ہے اور پسِ پردہ ایجنڈا کچھ اور ہوتا ہے۔”
انہوں نے ملکی حکمرانوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ “حکمران طے کر لیں کہ انہوں نے امریکا اور یورپ کی نوکری کرنی ہے یا اپنے ملک اور قوم کی خدمت کرنی ہے، ایک وقت میں دو نوکریاں نہیں چل سکتیں۔”
مہنگائی اور سیاسی دھرنوں پر موقف
ملکی معاشی صورتحال اور اپوزیشن تحریکوں پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض دوست مہنگائی کے خلاف دھرنوں کا انعقاد کرتے ہیں اور پھر حکومت سے مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے ہیں، لیکن نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مہنگائی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتی ہے۔ اب حالات یہ ہیں کہ عوام ہاتھ جوڑ کر التجا کر رہے ہیں کہ ایسے بے نتیجہ دھرنے بند کئے جائیں۔
ملک گیر سطح پر حوثی حملوں کی مذمت
دریں اثناء، کراچی کانفرنس کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں مختلف مذہبی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے حرمین شریفین کی حفاظت کی خاطر مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ تمام طبقہ فکر کے رہنماؤں کی جانب سے یمن سے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے۔
-
Solidarity with Saudi Arabia: Jamiat Ulema-e-Islam (JUI-F) chief Maulana Fazlur Rehman stated at a conference in Karachi that every Pakistani stands shoulder-to-shoulder with Saudi Arabia to protect the sanctity of the Holy Mosques, strongly condemning Houthi attacks originating from Yemen.
-
Protection of Ideological Borders: He praised Parliament’s historic 1974 constitutional decision, describing it as a fundamental step that permanently safeguarded Pakistan’s ideological boundaries.
-
Rejection of Foreign Agendas: He criticized international powers and domestic establishment agendas, urging political leaders to prioritize national service over serving foreign interests.
-
Criticism of Ineffective Protests: Commenting on the economic situation, he noted that past anti-inflation sit-ins failed to deliver relief to the public.
-
Countrywide Protests: Demonstrations and rallies were reported across major Pakistani cities, where citizens gathered to condemn attacks targeting Saudi territory.




