A high-level diplomatic signing ceremony at the SCO Summit in Islamabad, featuring world leaders seated at a long conference table with regional flags and official documents against a backdrop of the Margalla Hills and Faisal Mosque.

شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس: اسلام آباد کی سیاسی و معاشی بساط، سیکیورٹی کا چیلنج اور 6.6 ارب کا بڑا فیصلہ

تحریر: دی خیبر ٹائمز اسپیشل رپورٹ

عالمی اور علاقائی سیاست کے افق پر پاکستان کیلئے ایک بڑا موقع دستک دے رہا ہے، لیکن اس موقع سے فائدے حاصل کرنے سے قبل اسلام آباد کو کئی بڑے، کٹھن اور پیچیدہ مراحل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کے اعلیٰ ترین معاشی فیصلہ ساز ادارے، کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت ہونے والے حالیہ اجلاس میں ایک اہم تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت آئندہ برس اسلام آباد میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ کے اجلاس کی میزبانی کیلئے 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کی خاطر 6.6 ارب روپے (تقریباً 2 کروڑ 38 لاکھ ڈالر) مختص کئے گئے ہیں۔

اگرچہ ابتدائی طور پر کابینہ ڈویژن کی جانب سے 12.6 ارب روپے (4 کروڑ 54 لاکھ ڈالر) کا مطالبہ سامنے آیا تھا، تاہم معاشی ترجیحات اور تفصیلی غور و خوض کے بعد ای سی سی نے فی الوقت 6.6 ارب روپے کی منظوری دیتے ہوئے اضافی ضروریات کیلئے بعد میں رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اوپر سے دیکھنے میں یہ محض ایک سرکاری گاڑیوں کی خریداری کا انتظامی فیصلہ نظر آتا ہے، لیکن اس کی تہہ میں علاقائی سفارت کاری، خطے کے تحفظ کا پیچیدہ تناظر اور پاکستان کیلئے عالمی سطح پر خود کو ثابت کرنے کا بڑا امتحان پوشیدہ ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم صرف ایک روایتی علاقائی فورم نہیں ہے بلکہ اسے 21ویں صدی کا ایک اہم جیو پولیٹیکل بلاک شمار کیا جاتا ہے۔ اس وقت چین، روس، ہندوستان، پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں پر مشتمل یہ 10 رکنی اتحاد دنیا کی کل آبادی کا تقریباً 40 فیصد اور عالمی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 25 فیصد حصہ احاطہ کرتا ہے۔
پاکستان کیلئے ایس سی او کی اہمیت ہمیشہ سے دور رس رہی ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں قرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ سربراہی اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے شرکت کی، جس کے بعد پاکستان نے باقاعدہ طور پر 2026-27 کیلئے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ کی چیئرمین شپ سنبھال لی ہے۔ اس پیش رفت کے تحت ستمبر 2027 میں دنیا کے سب سے بڑے سیاسی اور معاشی اتحاد کے طاقتور ترین سربراہانِ مملکت کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہوں گی۔

پاکستان کیلئے یہ اجلاس کئی لحاظ سے اہم ہے، جیہسا کہ وسطی ایشیائی ریاستوں اور روس کے ساتھ تجارت، توانائی کے منصوبوں اور سی پیک (CPEC) کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کیلئے یہ ایک منفرد پلیٹ فارم ہے۔
عالمی دنیا اور سرمایہ کاروں کو یہ پیغام دینا کہ پاکستان محفوظ ہے اور ایک اہم عالمی ایونٹ کی میزبانی کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارت اور چین جیسے روایتی رقبا کی موجودگی میں خطے کے سیکیورٹی اور معاشی ڈھانچے میں پاکستان کے مرکزی کردار کی توثیق کی جاتی ہے۔
جب بھی عالمی طاقتوں کے سربراہان جیسے چین کے صدر، روس کے صدر یا ایران اور وسطی ایشیا کے نمائندے ایک چھت تلے جمع ہوتے ہیں تو ان کی سیکیورٹی کی پروٹوکول کی ضروریات کسی عام سطح کی نہیں ہوتیں۔ ایس سی او کے قواعد کے تحت تمام رکن ممالک کے سربراہان کو یکساں، فول پروف اور اعلیٰ ترین درجے کی سیکیورٹی فراہم کرنا میزبانی کرنے والے ملک کی لازمی اور بین الاقوامی ذمہ داری ہوتی ہے۔
پاکستان اس وقت اندرونی اور سرحدی سیکیورٹی کے حوالے سے نازک صورتحال سے گزر رہا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں سیکیورٹی چیلنجز کے باعث بیرونی شخصیات اور بالخصوص غیر ملکی وفود کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ اسلام آباد کا مقصد دنیا کے سامنے اپنے محفوظ اور پیشہ ورانہ تشخص کو نمایاں کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 30 جدید ترین اور جدید ترین سیکیورٹی نظام سے لیس بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداریاں اس میزبانی کا ایک بنیادی تکنیکی حصہ بن چکی ہیں۔
اگرچہ 6.6 ارب روپے کی گرانٹ ایسے وقت میں منظور کی گئی ہے جب ملک معاشی اصلاحات اور سخت مالیاتی نظم و ضبط سے گزر رہا ہے، لیکن بین الاقوامی سفارتی وعدوں اور ملکی وقار کی بقا کے سامنے اس اخراجات کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد کا ایس سی او اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوگا جب پورے خطے میں جیو پولیٹیکل اتحاد تیزی سے بدل رہے ہیں:
چین سی پیک کے فیز-2 اور اقتصادی راہداریوں کیلئے ایس سی او کو ایک مضبوط ڈھانچے کے طور پر دیکھتا ہے۔ دوسری جانب، روس اور پاکستان کے تعلقات میں گزشتہ کچھ برسوں میں برف پگھلی ہے اور دونوں ممالک توانائی اور سیکیورٹی تعاون میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ اسلام آباد کا یہ اجلاس پاک روس اور پاک چین سه‌ فریقی رابطوں کو مزید طاقت بخش سکتا ہے۔
ازبکستان، تاجکستان، اور قازقستان جیسے ممالک کیلئے پاکستان کی گوادر اور کراچی کی بندرگاہیں مختصر ترین بحری راستے فراہم کرتی ہیں۔ ایس سی او کا فورم پاکستان کو وسطی ایشیا کا تجارتی مرکز بنانے کے خواب کی تعبیر کے قریب لا سکتا ہے۔
ایس سی او کے پلیٹ فارم پر بھارت کی موجودگی ہمیشہ ایک پیچیدہ عنصر رہی ہے۔ پاکستان میں اجلاس کی میزبانی کے دوران بھارتی قیادت کی شرکت یا نمائندگی نہ صرف دونوں ممالک کے روایتی تعلقات میں بریفنگز کا باعث بنے گی بلکہ یہ بھی دیکھے گی کہ آیا ایس سی او روایتی دوطرفہ کشیدگی سے ہٹ کر علاقائی تعاون کو آگے بڑھا سکتا ہے یا نہیں۔
سفارتی طاقت کا مظاہرہ کبھی بھی مفت نہیں ہوتا، اس کیلئے مالی، انتظامی اور سیکیورٹی کے لحاظ سے بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے۔ 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری پر ہونے والا 6.6 ارب روپے کا اخراجات درحقیقت اسی سفارتی مشق کی شروعات ہے۔
آئندہ برس ستمبر میں جب دنیا کے طاقتور ترین حکمران اسلام آباد کے ایوانوں میں جمع ہوں گے، تو پاکستان کے پاس موقع ہوگا کہ وہ نہ صرف خطے کی معاشی و سیکیورٹی سمت کا تعین کرنے میں اپنا کردار ادا کرے بلکہ دنیا پر یہ ثابت کرے کہ وہ تمام تر چیلنجز کے باوجود عالمی سطح کی قیادت اور میزبانی کا بوجھ اٹھانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

Executive Summary

Pakistan’s Economic Coordination Committee (ECC) has approved a technical supplementary grant of PKR 6.6 billion ($23.8 million) to purchase 30 bulletproof vehicles for the upcoming Shanghai Cooperation Organization (SCO) Council of Heads of State summit, scheduled to take place in Islamabad in September 2027. Following Prime Minister Shehbaz Sharif’s participation in the Bishkek summit, Pakistan assumed the SCO chairmanship for 2026–2027. While Cabinet Division initially requested PKR 12.6 billion ($45.4 million), the ECC authorized the partial grant under Minister for Finance Muhammad Aurangzeb, advising the division to return later for additional funding needs.

Key Strategic Highlights

  • Diplomatic & Economic Weight: The SCO represents 10 member states including China, Russia, India, Pakistan, Iran, and Central Asian nations—encompassing nearly 40% of the world’s population and 25% of global GDP. Hosting this top-tier summit positions Pakistan at the center of regional diplomacy, energy corridors, and economic connectivity.
  • Security & International Obligations: Strict SCO protocols dictate that the host nation provide equal, high-level, and foolproof security to all attending heads of state. Amid regional security challenges, investing in specialized armored transportation is a mandatory prerequisite to hosting high-profile world leaders safely.
  • Geopolitical Dynamics: The summit offers Pakistan a critical platform to deepen the China-Pakistan Economic Corridor (CPEC Phase-2), expand trade and energy routes with Central Asian states, strengthen ties with Russia, and manage regional balances involving India.

Ultimately, the allocation reflects the high security and diplomatic costs necessary for Islamabad to showcase stability, professional hosting capabilities, and leadership on the global stage.

About the Author

Nasir Dawar

Editor, The Khyber Times | Researcher

Email: dawarjan@gmail.com