"Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister Muhammad Sohail Afridi reviewing a document regarding tax exemptions for merged districts and Malakand Division."

ریاستی اداروں پر الزامات! وزیراعلیٰ کے پی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار

اسلام آباد (دی خیبرٹائمز کورٹ ڈیسک) اسلام آباد کی مقامی عدالت نے ریاستی اداروں کے خلاف نازیبا الفاظ اور الزامات کے مقدمے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی عدم پیشی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وزیراعلیٰ کو گرفتار کرکے عدالت کے روبرو پیش کیا جائے۔اسلام آباد کی مقامی عدالت کے جج عباس شاہ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف دائر مقدمے کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران وزیراعلیٰ کی جانب سے کوئی نمائندہ پیش ہوا اور نہ ہی وہ خود عدالت میں حاضر ہوئے، جس پر عدالت نے سخت نوٹس لیا۔ جج عباس شاہ نے ملزم کی عدم موجودگی کے باعث ان کے جاری شدہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری کو برقرار رکھتے ہوئے پولیس اور متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی کہ وہ وزیراعلیٰ کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کریں۔ بعد ازاں، سول جج عباس شاہ کی عدم دستیابی کے باعث کیس کی مزید سماعت 21 جولائی تک ملتوی کر دی گئی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف یہ مقدمہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں پیکا (PECA) ایکٹ کی متعلقہ دفعات شامل کی گئی ہیں۔
مذکورہ مقدمہ مبینہ طور پر ریاستی اداروں پر توہین آمیز الزامات لگانے اور عوامی سطح پر اشتعال انگیزی پھیلانے کے الزام میں قائم کیا گیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمات میں ضمانت کا عمل خاصا حساس ہوتا ہے اور عدالت کی جانب سے بار بار طلبی کے باوجود پیش نہ ہونے پر ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری کا اجراء ایک قانونی ضرورت بن جاتا ہے۔
یہ کیس سیاسی حلقوں میں بھی خاصی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی جانب سے وفاقی دارالحکومت کی عدالت میں عدم پیشی اور گرفتاری کے احکامات سیاسی محاذ آرائی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔