TLP supporters gather outside the Punjab Assembly in Lahore as anti-riot police are deployed amid heightened security during a nationwide protest.

تحریک لبیک پاکستان کا ملک گیر احتجاج، پنجاب اسمبلی کے سامنے کارکنوں کا اجتماع

لاہور( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی جانب سے دی گئی ملک گیر احتجاجی کال پر ملک کے مختلف شہروں میں کارکن متحرک ہو گئے، جبکہ لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے کارکنوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی۔ صورتحال کے پیش نظر حکومت پنجاب نے اینٹی رائٹ پولیس، اضافی پولیس نفری اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات کر دئے ہیں تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔ پنجاب اسمبلی، مال روڈ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے، جبکہ بعض مقامات پر ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت دے رہی ہے۔
تحریک لبیک پاکستان ایک مذہبی و سیاسی جماعت ہے، جس کی بنیاد 2015 میں ممتاز مذہبی خطیب علامہ خادم حسین رضوی نے رکھی۔ جماعت نے اپنے قیام کے بعد ناموسِ رسالت ﷺ سے متعلق معاملات کو اپنی سیاسی جدوجہد کا بنیادی محور بنایا اور مختصر عرصے میں ملک کے کئی شہروں میں اپنی سیاسی و عوامی موجودگی قائم کر لی۔
2018 کے عام انتخابات میں بھی جماعت نے حصہ لیا اور لاکھوں ووٹ حاصل کئے، اگرچہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں محدود کامیابی ملی۔ اس کے باوجود ٹی ایل پی ملک کی نمایاں مذہبی سیاسی جماعتوں میں شمار ہونے لگی۔
نومبر 2017 میں اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والے فیض آباد انٹرچینج پر ٹی ایل پی کا دھرنا ملکی سیاست کا ایک اہم واقعہ ثابت ہوا۔ احتجاج انتخابی قوانین میں ایک متنازع تبدیلی کے خلاف شروع ہوا، جو بعد میں وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات پر ختم ہوا۔اس دھرنے نے نہ صرف تحریک لبیک پاکستان کو قومی سطح پر نمایاں کیا بلکہ احتجاجی سیاست کے حوالے سے بھی نئی بحث چھیڑ دی۔
نومبر 2020 میں بانی سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کے انتقال کے بعد جماعت کی قیادت ان کے صاحبزادے حافظ سعد حسین رضوی نے سنبھالی۔ ان کی قیادت میں بھی جماعت نے مختلف مذہبی اور سیاسی معاملات پر احتجاجی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
اپریل 2021 میں حکومت پاکستان نے تحریک لبیک پاکستان پر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا۔ اس سے قبل حافظ سعد حسین رضوی کو حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں شدید احتجاجی مظاہرے ہوئے۔
ان احتجاجوں کے دوران متعدد مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن میں جانی و مالی نقصان بھی ہوا۔ اس عرصے میں مختلف سرکاری بیانات اور میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹی ایل پی کے ہزاروں کارکن مختلف اوقات میں گرفتار کئے گئے، جبکہ متعدد پولیس اہلکار اور شہری بھی متاثر ہوئے۔
بعد ازاں حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان کئی ادوار کے مذاکرات ہوئے، جن کے نتیجے میں پابندی واپس لے لی گئی، جماعت کو دوبارہ سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ملی اور متعدد گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کو مرحلہ وار رہا کر دیا گیا۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران ٹی ایل پی نے مختلف مذہبی اور سیاسی معاملات پر احتجاج کئے، جبکہ حکومتوں نے ہر دور میں امن و امان برقرار رکھنے کو اپنی ترجیح قرار دیا۔ ریاستی اداروں کا مؤقف رہا ہے کہ احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، تاہم قانون ہاتھ میں لینے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے یا عوامی زندگی مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
دوسری جانب تحریک لبیک پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حق میں عوامی اور آئینی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور اپنے مؤقف کو پرامن انداز میں اجاگر کرنا چاہتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ احتجاج ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک کو معاشی، سیاسی اور سکیورٹی کے متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔ ایسے میں کسی بھی بڑے احتجاج کا اثر نہ صرف ٹریفک اور کاروباری سرگرمیوں بلکہ مجموعی سیاسی ماحول پر بھی پڑ سکتا ہے۔
حکومت کی جانب سے اینٹی رائٹ فورس کی تعیناتی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انتظامیہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کیلئے پیشگی اقدامات کر رہی ہے، جبکہ ٹی ایل پی کی قیادت اپنے کارکنوں کو نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ہدایات دے رہی ہے۔
اس رپورٹ کی اشاعت تک پنجاب اسمبلی کے باہر کارکنوں کی موجودگی برقرار تھی، جبکہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے علاقے کی مسلسل نگرانی کر رہے تھے۔ کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی تھی۔
دی خیبر ٹائمز صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور جیسے ہی متعلقہ اداروں یا تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے مزید مصدقہ معلومات سامنے آئیں گی، اس رپورٹ کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔