وزیر اعلی بلوچستان CM Sarfraz Bugti speech on terrorism

آئین کے دائرے میں مذاکرات ممکن، ریاست کو توڑنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں: وزیر اعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا ہے کہ ریاست نے کبھی بھی امن اور مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے، لیکن معصوم شہریوں کا خون بہانے والی دہشت گرد تنظیموں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ بلوچستان اسمبلی کے اہم اجلاس میں صوبے کی سیکیورٹی صورتحال پر کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بسوں سے اتار کر شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد معصوم لوگوں کو قتل کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جا سکتی۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا یہ بیان بلوچستان میں ماضی اور حال ہی میں پیش آنے والے ان المناک واقعات کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس نے ملک بھر کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل کے علاقے راڑہ شم میں مسلح دہشت گردوں نے بین الصوبائی شاہراہ پر ناکہ لگایا، متعدد بسوں اور ٹرکوں کو روکا، مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کئے اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے 23 معصوم محنت کشوں کو بسوں سے اتار کر بیدردی سے شہید کر دیا۔
ضلع نوشکی کے قریب قومی شاہراہ پر دہشت گردوں نے ایک بس کو روک کر تلاشی لی اور نو (9) مسافروں کو اغوا کرنے کے بعد قریبی پہاڑوں میں لے جا کر قتل کر دیا۔ ان مقتولین کا تعلق بھی دیگر صوبوں سے تھا جو روزگار کے سلسلے میں بلوچستان آئے تھے۔
ضلع کچھی کے علاقے مچھ میں کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے 11 بے گناہ ہزارہ برادری کے کان کنوں کو اغوا کر کے بے دردی سے ذبح کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے اسمبلی فلور پر انہی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ “جو لوگ انسانیت کے دائرے سے نکل چکے ہیں، ان سے کیسے مذاکرات ہو سکتے ہیں؟”
میر سرفراز بگٹی نے دوٹوک موقف اپنائے ہوئے کہا کہ ڈائیلاگ یا بات چیت اس شرط پر ہرگز نہیں ہو سکتی کہ ریاستِ پاکستان کے ٹکڑے کئے جائیں۔
آئینِ پاکستان کو تسلیم کرنے والی ہر قوت کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔ دنیا میں جہاں بھی کامیاب مذاکرات ہوئے، وہ ہمیشہ سیاسی جماعتوں اور قانون کا احترام کرنے والوں کے مابین ہوئے ہیں۔ اگر کوئی ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہونا چاہتا ہے تو حکومت ویلکم کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کوہلو، ڈیرہ بگٹی، اور آواران جیسے دور افتادہ پہاڑی علاقوں میں موجود بھٹکے ہوئے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ قوم کو ایک لاحاصل اور نام نہاد جنگ کی آگ میں دھکیلا گیا ہے۔ جن بچوں کا برین واش کر کے پہاڑوں پر بھیجا گیا، ریاست اب انہیں واپس لانے اور دوبارہ معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کیلئے پرعزم ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان ایک روشن مستقبل کی جانب بڑھ رہا ہے، گوادر پورٹ اور سی پیک (CPEC) جیسے منصوبوں کی بدولت صوبے میں ترقی کی نئی راہ کھل رہی ہے، جس سے دشمن قوتیں پریشان ہیں۔
میر سرفراز بگٹی نے اشارہ کیا کہ ان دہشت گرد تنظیموں کو سرحد پار (افغانستان اور دیگر بیرونی ممالک) سے فنڈنگ اور پشت پناہی حاصل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جس دن ان بیرونی عناصر کی سرپرستی ختم ہو گئی، یہ تنظیمیں بہت جلد ماضی کا حصہ بن جائیں گی۔ موجودہ صوبائی حکومت نے پہلی مرتبہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو دفاعی کے بجائے جارحانہ اور اپنی جنگ سمجھ کر لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث دشمن اب بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر سافٹ ٹارگٹس (عام شہریوں) کو نشانہ بنا رہا ہے۔
خطاب کے آخر میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے صوبے کے عوام اور فورسز کو یقین دلایا کہ حکومت پیچھے نہیں ہٹے گی۔ صوبے کے چپے چپے، بشمول تربت، پنجگور، اور مستونگ جیسے حساس اضلاع میں امن و امان کی بحالی کیلئے آپریشنز جاری رہیں گے اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ جدوجہد بغیر کسی سمجھوتے کے جاری رہے گی۔