تراویح کی رات دو جنازے، انصاف آج بھی غائب، پشاور پریس کلب میں لواحقین کی فریاد پشاور(دی خیبر ٹائمز نیوز) پشاور پریس کلب میں مسجد کے اندر فائرنگ سے قتل کیے گئے افراد کے لواحقین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقتول عنایت اللہ کے والد جان محمد اور مقتول پرویز کی بیوہ پریاز بیگم نے کہا کہ رمضان المبارک کے دوران تراویح کی نماز میں ان کے پیاروں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، مگر تاحال ملزمان کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے میں ملوث افراد کھلے عام گھوم رہے ہیں جبکہ پولیس نے انصاف فراہم کرنے کے بجائے ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا۔ جان محمد نے کہا کہ انہیں اپنے بیٹے اور رشتہ دار کے جنازے میں شرکت تک کی اجازت نہیں دی گئی اور الٹا ان کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد ان کا گھر اور کاروبار تباہ ہو چکا ہے جبکہ بچے تعلیم سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔ لواحقین نے مزید الزام عائد کیا کہ متعلقہ پولیس حکام نے ان کی ایف آئی آر درج نہیں کی اور ملزمان کی سرپرستی کی، جس کے باعث وہ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ پریاز بیگم نے کہا کہ ان کے شوہر کو خانۂ خدا میں شہید کیا گیا، لیکن آج تک انہیں انصاف نہیں ملا اور وہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر متاثرہ خاندان نے حکومت خیبر پختونخوا، پولیس کے اعلیٰ حکام اور دیگر متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔

صحافیوں کیلئے بلا سود قرضے، میڈیا کالونیاں اور ضم اضلاع میں پریس کلبوں کی بہتری کا منصوبہ

پشاور ( دی خیبر ٹائمز نیوز ڈیسک) خیبرپختونخوا حکومت نے مالی سال 2026-27 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں صحافیوں کی فلاح، ضم اضلاع کی ڈیجیٹل ترقی، معدنی وسائل کے مؤثر استعمال، عدالتی نظام کی بہتری اور محنت کش بچوں کے تحفظ کیلئے متعدد نئے منصوبے شامل کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔
اس سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں اطلاعات و تعلقات عامہ، سائنس و ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، قانون، مائنز اینڈ منرلز اور لیبر ڈیپارٹمنٹ کے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ نے صحافیوں کی معاشی خودمختاری کو یقینی بنانے کیلئے ایک غیر معمولی اقدام کی ہدایت دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو کہا کہ میڈیا پروڈکشن اور براڈکاسٹنگ سیٹ اپ کے قیام کیلئے نوجوان صحافیوں کو بلا سود قرضوں کی فراہمی کی باقاعدہ اسکیم تیار کی جائے تاکہ وہ اپنے ڈیجیٹل اور نشریاتی پلیٹ فارمز قائم کرکے باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ میڈیا کو مالی طور پر مضبوط بنانا وقت کی ضرورت ہے کیونکہ معاشی طور پر مستحکم صحافی ہی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ صحافت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے صحافیوں کیلئے میڈیا کالونیوں کے قیام اور ضم شدہ اضلاع میں پریس کلبوں کی تعمیر و مرمت اور سہولیات کی فراہمی کیلئے بھی جامع منصوبہ بندی کی ہدایت جاری کی۔
اجلاس میں قانون و انصاف کے شعبے میں کئی اہم تجاویز بھی سامنے آئیں۔ وزیراعلیٰ نے صوبے کے تمام جوڈیشل کمپلیکسز میں ڈے کیئر سنٹرز قائم کرنے کی ہدایت دی جبکہ پشاور میں جدید جوڈیشل اکیڈمی اور باجوڑ و مانسہرہ میں نئے ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکسز کے قیام کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے ورک پلیس ہراسگی کے قانون کو مزید مؤثر اور سخت بنانے، اور شکایات کے نظام کو مکمل خفیہ رکھنے کیلئے ضروری قانونی ترامیم تجویز کرنے کی ہدایت کی۔
محنت کش طبقے اور بچوں کے حقوق سے متعلق اجلاس میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کو ترجیحی ایجنڈا قرار دیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ مشقت کرنے والے بچوں کی نشاندہی، بحالی اور انہیں دوبارہ تعلیمی نظام میں شامل کرنے کیلئے قابل عمل اور نتیجہ خیز اسکیمیں تیار کی جائیں۔
مائنز اینڈ منرلز کے شعبے میں اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے کے معدنی وسائل کی سائنسی بنیادوں پر نشاندہی اور بہتر استعمال کیلئے جیولوجیکل میپنگ، پلیسر گولڈ ایکسپلوریشن اور کریٹیکل منرلز کی تلاش کیلئے انٹیگریٹڈ جیو سائنس سروے اور ڈیٹا ریپازیٹری قائم کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ معدنیات سے مالا مال علاقوں میں ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کیلئے بڑے پیمانے پر شجرکاری کی جائے جبکہ ضم اضلاع میں مائنز ریسکیو، سیفٹی اور ٹریننگ سنٹرز کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔
اجلاس میں سائنس و ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی بڑے منصوبوں کی منظوری کیلئے ابتدائی مشاورت کی گئی۔ ان منصوبوں میں ڈرون سنٹر آف ایکسیلنس، سائبر سیکیورٹی آپریشن سنٹر، ضم اضلاع میں ڈیجیٹل سٹی، نوجوانوں کیلئے ڈیجیٹل انٹرنشپ پروگرام اور ٹیکنالوجی انکیوبیشن سنٹرز کا قیام شامل ہے۔ حکام کے مطابق ان منصوبوں کا مقصد قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل ہنر سکھا کر روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنا ہے۔
وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئے مالی سال کا ترقیاتی پروگرام صرف روایتی اسکیموں کا مجموعہ نہیں ہوگا بلکہ اسے صوبے میں پائیدار ترقی، جدید روزگار، ادارہ جاتی اصلاحات اور قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال کے ایک جامع روڈ میپ کے طور پر تشکیل دیا جائے گا۔ انہوں نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ ہر منصوبے کیلئے قابل عمل، شفاف اور مربوط حکمت عملی مرتب کی جائے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف اور ترقی کے ثمرات مل سکیں۔