پشاور ( دی خیبرٹائمز رپورٹنگ ٹیم) میں فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے شہر کے معروف کبیر ریسٹورنٹ کو سیل جبکہ منیجر کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں لائی گئی جب انسپکشن کے دوران ریسٹورنٹ سے بھاری مقدار میں ممنوع اور مضر صحت چائنہ سالٹ برآمد ہوا، جو سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے مطابق پاکستان میں استعمال کے لئے ممنوع قرار دیا جا چکا ہے۔
فوڈ سیفٹی حکام کے مطابق معائنے کے دوران نہ صرف غیر معیاری اور صحت کے لئے خطرناک اجزاء کی موجودگی ثابت ہوئی بلکہ ریسٹورنٹ میں صفائی کی صورتحال بھی انتہائی ناقص پائی گئی۔ موقع پر موجود ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ریسٹورنٹ کو سیل کر دیا جبکہ منیجر کو حراست میں لے کر مزید قانونی کارروائی کے لئے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریسٹورنٹس اور ہوٹلز میں چائنہ سالٹ کا استعمال ایک عام رجحان بنتا جا رہا ہے جو شہریوں کی صحت کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ فوڈ اتھارٹی کے مطابق متعدد بار کارروائیوں کے باوجود بعض ہوٹل مالکان اس مضر صحت اجزاء کا استعمال ترک کرنے کے بجائے دوبارہ اسی غیر قانونی عمل کی طرف لوٹ جاتے ہیں جس سے شہریوں کی صحت مسلسل خطرے میں پڑ رہی ہے۔
پشاور میں فوڈ سیفٹی سے متعلق صورتحال طویل عرصے سے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ شہری حلقوں کے مطابق شہر کے کئی ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں کھانوں کی تیاری کے دوران ممنوع اور غیر معیاری اجزاء کا کھلے عام استعمال کیا جاتا ہے جبکہ نگرانی کے نظام میں تسلسل نہ ہونے کے باعث یہ رجحان مکمل طور پر ختم نہیں ہو پا رہا۔ اس کے نتیجے میں عوام میں فوڈ سیفٹی اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور شہر بھر میں ایسے ریسٹورنٹس کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی جو شہریوں کی صحت سے کھیلنے میں ملوث پائے جائیں گے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ہوٹل یا ریسٹورنٹ کو مضر صحت اشیاء کے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی اقدامات کئے جائیں گے۔
دوسری جانب شہریوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ فوڈ سیفٹی مہم کو مزید مؤثر بنایا جائے اور صرف عارضی کارروائیوں کے بجائے مستقل نگرانی کا نظام قائم کیا جائے تاکہ ہوٹل انڈسٹری میں موجود غیر معیاری اور خطرناک رجحانات کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔




