قومی اسمبلی میں فوج سے متعلق بیان پر اختلاف، اپوزیشن اتحاد میں دراڑ یا وقتی تناؤ؟

پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی اور تحریک انصاف قیادت آمنے سامنے
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)
قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں اس وقت غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی اور خود پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کے درمیان فوج سے متعلق بیان پر واضح فاصلے دکھائی دیے۔ یہ پیش رفت نہ صرف پارلیمانی سیاست بلکہ اپوزیشن اتحاد کی داخلی ہم آہنگی کے حوالے سے بھی اہم قرار دی جا رہی ہے۔

گزشتہ عام انتخابات کے بعد وجود میں آنے والے پارلیمانی سیٹ اپ میں پی ٹی آئی نے اپوزیشن کی صف بندی کے لیے مختلف جماعتوں کے ساتھ اشتراک عمل کی حکمت عملی اپنائی۔ اسی تناظر میں محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے منصب کے لیے حمایت فراہم کی گئی۔
اچکزئی طویل عرصے سے ایک قوم پرست سیاستدان کے طور پر جانے جاتے ہیں اور ماضی میں ریاستی پالیسیوں، خصوصاً اسٹیبلشمنٹ اور فوجی کردار سے متعلق تنقیدی مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں۔

حالیہ اجلاس کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنی تقریر میں محمود اچکزئی کے ایک سابقہ بیان کا حوالہ دیا جس میں مبینہ طور پر انہوں نے فوج کو “پنجاب کے چار اضلاع کی فوج” قرار دیا تھا۔ وزیر دفاع نے اس بیان کو نہایت خطرناک اور نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی قومی ادارے کے بارے میں اس نوعیت کے الفاظ استعمال نہیں کیے جانے چاہئیں۔
جواباً محمود اچکزئی نے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ 1990ء کی دہائی سے اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہیں۔ انہوں نے بیان کی نہ تو تردید کی اور نہ ہی اسے واپس لیا بلکہ اس بات پر زور دیا کہ وہ اپنی رائے پر آج بھی “قائم” ہیں۔

پارٹی ذرائع کے مطابق، اچکزئی کے اس دوٹوک مؤقف نے پی ٹی آئی کے اندر بے چینی پیدا کر دی۔ چونکہ پارٹی نے انہیں قائد حزب اختلاف کے منصب کے لیے سپورٹ کیا تھا، اس لیے ان کے بیان کو اپوزیشن کے مشترکہ مؤقف کے طور پر لیا جا سکتا تھا۔
اسی تناظر میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے غیر معمولی طور پر فوری طور پر فلور لینے کی درخواست کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے دو نکات پر خصوصی زور دیا:
دہشت گردی کے معاملے پر قومی یکجہتی:
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی جیسے حساس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور تمام سیاسی قوتوں کو متحد بیانیہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ دشمن عناصر کو واضح پیغام دیا جا سکے۔ اس ضمن میں انہوں نے بھارت اور افغانستان سے سرگرم عناصر کا بھی حوالہ دیا۔
مسلح افواج کے بارے میں پارٹی مؤقف کی وضاحت:
اچکزئی کا نام لیے بغیر بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ فوج ہماری ہے اور ملک ہمارا ہے۔ انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو قوم کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج کے حوالے سے پی ٹی آئی کا مؤقف واضح، غیر مبہم اور قومی مفاد سے ہم آہنگ ہے۔

پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق، بعد ازاں بیرسٹر گوہر نے بعض قانون سازوں سے گفتگو میں اس رائے کا اظہار کیا کہ ایسے حساس نوعیت کے بیانات سے گریز کیا جانا چاہیے تھا۔ ایک سینئر ذریعے کے مطابق، اگرچہ اپوزیشن اتحاد میں اختلاف رائے کی گنجائش ہوتی ہے، تاہم قومی اداروں خصوصاً فوج سے متعلق مؤقف میں ابہام نہیں ہونا چاہیے۔
سیاسی مبصرین کے نزدیک یہ واقعہ اپوزیشن اتحاد کے اندر نظم و ضبط برقرار رکھنے کے چیلنجز کو اجاگر کرتا ہے۔ مختلف نظریاتی پس منظر رکھنے والی جماعتوں کے درمیان مشترکہ حکمت عملی برقرار رکھنا ایک پیچیدہ عمل ہے، خاص طور پر جب معاملہ قومی سلامتی جیسے حساس موضوعات سے متعلق ہو۔

پاکستان کی سیاست میں فوج کا کردار ہمیشہ سے ایک حساس موضوع رہا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے بیانات اکثر سیاسی ماحول کو متاثر کرتے رہے ہیں۔ ایسے میں اپوزیشن کی جانب سے کسی بھی متنازع بیان کا فوری تاثر نہ صرف ایوان بلکہ ملک گیر سیاسی بیانیے پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
پی ٹی آئی کی قیادت کی فوری وضاحت کو بعض حلقے ایک “ڈیمج کنٹرول” حکمت عملی قرار دے رہے ہیں تاکہ یہ تاثر نہ جائے کہ اچکزئی کا بیان پارٹی کا سرکاری مؤقف ہے۔

یہ واقعہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ متنوع اپوزیشن اتحاد میں بیانیے کی ہم آہنگی برقرار رکھنا ایک مسلسل چیلنج ہے۔ بظاہر یہ اختلاف وقتی نوعیت کا دکھائی دیتا ہے، تاہم یہ آئندہ دنوں میں اپوزیشن سیاست کی سمت اور اتحاد کی مضبوطی کے لیے ایک اہم امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔
جب اس حوالے سے بیرسٹر گوہر سے مؤقف طلب کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا موقف واضح ہے، متعدد بار بیان کیا جا چکا ہے اور قومی اسمبلی کے ریکارڈ کا حصہ بھی ہے۔