“شکست کا اعتراف، مقابلے کا جنون: انیلا شاہین” محض ایک صحافی نہیں تھی، وہ پشاور پریس کلب کے ایوانوں میں گونجتی ہوئی ایک ایسی باغی اور انقلابی آواز تھی جس نے ہمیشہ مروجہ اصولوں کو للکارا۔ انیلا شاہین جس نے مزید پڑھیں
“شکست کا اعتراف، مقابلے کا جنون: انیلا شاہین” محض ایک صحافی نہیں تھی، وہ پشاور پریس کلب کے ایوانوں میں گونجتی ہوئی ایک ایسی باغی اور انقلابی آواز تھی جس نے ہمیشہ مروجہ اصولوں کو للکارا۔ انیلا شاہین جس نے مزید پڑھیں