“ڈیورنڈ لائن پر خون کی لکیر: چترال سے بلوچستان تک پھیلے دہشت گردی کے نیٹ ورک”

خصوصی تحریر: ناصر داوڑ
پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین سیکیورٹی اور معاشی بحران سے گزر رہا ہے، جس کا مرکز چترال کے بلند پہاڑوں سے لے کر بلوچستان کے ریگستانوں تک پھیلی 2,640 کلومیٹر طویل پاک افغان سرحد(ڈیورنڈلائن) ہے۔ جسے کبھی ‘برادر اور دوست اسلامی ملک’ کے ساتھ امن کی لکیر ہونا چاہیے تھا، وہ اب دہشت گردی، سمگلنگ اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے گروہوں کا گڑھ بن چکی ہے۔ 2021 میں کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں، وہ اب ایک بھیانک خواب میں بدل چکی ہیں، جہاں امارتِ اسلامی افغانستان (IEA) اور تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) مل کر پاکستان کے خلاف ایک غیر اعلانیہ محاذ چلا رہے ہیں۔

موجودہ حالات کا سب سے تلخ پہلو یہ ہے کہ کابل کی امارتِ اسلامی نے ٹی ٹی پی اور دیگر پالستان مخالف جہادی گروہوں کو نہ صرف پناہ گاہیں فراہم کر رکھی ہیں بلکہ وہ پاکستان کے خلاف ایک ‘پراکسی’ کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں۔ پپس (PIPS) کی 2024-25 کی رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ پاکستان میں ہونے والے 95 فیصد حملوں کے تانے بانے سرحد پار افغانستان سے جڑے ہیں۔

ٹی ٹی پی، ٹی آئی پی اور دیگر شدت پسند تنظیمیں وادئ برمل، خوست اور کنڑ کے محفوظ ٹھکانوں سے پاکستان میں داخل ہوتی ہیں۔ امریکی انخلا کے بعد چھوڑا گیا جدید اسلحہ، نائٹ ویژن سائیٹس اور سنائپر رائفلز اب دہشت گردوں کے ہاتھوں میں ہیں، جس نے 2025 کو پاکستان کے لئے گزشتہ دہائی کا خونریز ترین سال بنا دیا جس میں 3,417 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔

پاکستان نے سیکیورٹی کے نام پر سرحد پر 98 فیصد باڑ (Fencing) مکمل کی، لیکن یہ فزیکل بیریئر اس وقت بے اثر ہو جاتا ہے جب سرحد پار سے طالبان اسے کاٹ دیتے ہیں یا پھر 100 سے زائد غیر رسمی خفیہ راستوں سے دراندازی جاری رہتی ہے۔ بلوچستان میں 62 اور خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں درجنوں ایسے راستے ہیں جہاں سے شدت پسند اور سمگلر باآسانی گزرتے ہیں۔
جب سے پاک افغان تعلقات میں کشیدگی آئی اور قانونی بارڈر کراسنگ پوائنٹس (BCPs) بند ہوئے، ان غیر قانونی راستوں کی اہمیت شدت پسندوں کے لئے مزید بڑھ گئی ہے۔ وہ قانونی تجارت کی بندش کا فائدہ اٹھا کر عام آبادی میں گھل مل جاتے ہیں اور دہشت گردی کی کارروائیاں انجام دیتے ہیں۔
سمگلنگ اب محض چند اشیاء کی نقل و حمل نہیں بلکہ ایک منظم ‘کالی معیشت’ بن چکی ہے جو پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کر رہی ہے۔

“گندم اور چینی کی بڑے پیمانے پر اسمگلنگ کی وجہ سے پاکستان میں ان اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب ‘گولڈن کریسنٹ’ سے آنے والی ہیروئن اور آئس کی ترسیل نے ہماری نوجوان نسل کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔”
“ڈالر کی اسمگلنگ: روزانہ 50 لاکھ ڈالر غیر قانونی طور پر افغانستان جانے کی وجہ سے پاکستانی روپیہ اپنی قدر کھو رہا ہے اور مہنگائی بڑھ رہی ہے۔”

افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ سب کچھ کالی بھیڑوں کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔ ایف آئی اے (FIA) کی حالیہ رپورٹس نے کسٹمز اور سیکیورٹی اہلکاروں کے واٹس ایپ گروپس اور ‘فی لیٹر رشوت’ کے نظام کو بے نقاب کیا ہے۔ یہ کرپٹ عناصر صرف سامان نہیں، بلکہ بارود اور دہشت گرد بھی سرحد پار کرواتے ہیں۔

جنوری 2026 تک کے اعداد و شمار کے مطابق، پاک افغان تجارت میں 53 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس سے پاکستانی برآمد کنندگان کو ماہانہ 177 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ طورخم اور چمن کی بندش سے ہزاروں خاندان فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب، امارتِ اسلامی اب ایران اور وسطی ایشیا کی طرف مائل ہو رہی ہے، جو پاکستان کے لیے ایک بڑا تزویراتی دھچکا ہے۔
چترال سے بلوچستان تک کی صورتحال یہ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ صرف باڑ لگانا کافی نہیں ہے۔ جب تک افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگرد گروہوں کی پناہ گاہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہیں ہوتی اور جب تک سرحد کے اس پار بیٹھی ‘کالی بھیڑیں’ عبرت کا نشان نہیں بنتیں، بدامنی کا یہ جن قابو میں نہیں آئے گا۔
پاکستان کو اب دوٹوک پالیسی اپنانی ہوگی:
1. امارتِ اسلامی پر عالمی دباؤ بڑھایا جائے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔
2. سرحد پر انسانی مداخلت کم کر کے AI، بائیومیٹرکس اور جدید ڈرون نگرانی کا نظام نافذ کیا جائے۔
3. 100 سے زائد خفیہ راستوں کو فوری طور پر مستقل بنیادوں پر سیل کیا جائے۔
اگر ریاست نے اب بھی سیاسی مصلحتوں اور کرپشن سے چشم پوشی برتی، تو پاکستان کی معیشت اور امن دونوں کی واپسی ناممکن ہو جائے گی۔
دی خیبر ٹائمز: سچائی، بے باکی، عوامی آواز۔