بنوں ( دی خیبرٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک ) بنوں میں شمالی وزیرستان کے وزیر اور داوڑ قبائل مشران اور شمالی وزیرستان کی ضلعی انتظامیہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شمالی وزیرستان میں جاری بدامنی، جبری گمشدگیوں، ڈرون حملوں اور عوام کے ساتھ ناروا سلوک کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ مشران نے واضح الفاظ میں حکومت کو خبردار کیا کہ اگر عوامی مطالبات کو سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا تو وہ متاثرہ عوام کے ساتھ ہر قسم کے احتجاج میں شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔
مذاکرات میں ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان یوسف کریم اور تحصیلدار میران شاہ غنی وزیر شریک ہوئے، جبکہ قومِ اتمانزئی کی جانب سے چیف آف وزیرستان ملک نصر اللہ خان، مفتی مصباح اللہ، ملک قادر، چیئرمین آل ٹریڈر ثناء اللہ ہمزونی، ملک صمد خیدر خیل، ملک شیر اللہ، محمد ، بارگین ایسوسی ایشن کے عمر ، ملک راقیب گل طوری خیل، مولانا ضیاء الرحمن، اسرار موسکی اور ملک جاوید خوشحالی نے شرکت کی۔
مذاکرات کے دوران سب سے سنگین اور حساس مسئلہ شمالی وزیرستان کے قبائلی رہنما ملک اکبر خان کی جبری گمشدگی کا اٹھایا گیا، جو کئی مہینوں سے لاپتہ ہے۔ مشران نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست کی سنگین ناکامی ہے کہ ایک معتبر قبائلی رہنما کا آج تک کوئی سراغ نہیں لگایا جا سکا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر ملک اکبر خان زندہ ہیں تو فوراً اہلِ خانہ سے ملاقات کروائی جائے اور رہا کیا جائے، بصورتِ دیگر اگر وہ شہید ہو چکے ہیں، تو قوم کو سچ بتایا جائے۔ مشران نے واضح کیا کہ اس معاملے پر مزید خاموشی ناقابلِ قبول ہوگی۔
مشران نے شمالی وزیرستان خصوصاً تحصیل میرعلی میں مسلسل جاری ڈرون حملوں، مارٹر گولہ باری اور عسکری کارروائیوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے فوری اور غیر مشروط طور پر ان حملوں کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں میں نہتے شہری، خواتین اور بچے مسلسل نشانہ بن رہے ہیں، جس کی ذمہ داری براہِ راست ریاستی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔
مزید مطالبہ کیا گیا کہ شمالی وزیرستان میں گھروں، دکانوں اور کاروباری مراکز کو پہنچنے والے تمام نقصانات کا فوری اور مکمل ازالہ کیا جائے، جبکہ شہداء کے لواحقین کو بلا تاخیر شہداء پیکج اور زخمیوں کو زخمی پیکج فراہم کیا جائے۔ مشران نے کہا کہ متاثرین کو ریلیف نہ دینا ظلم کے مترادف ہے۔
چیک پوسٹوں پر عوام کے ساتھ بدسلوکی، تضحیک اور غیر انسانی رویے پر بھی سخت احتجاج کیا گیا۔ مشران نے مطالبہ کیا کہ شمالی وزیرستان کی تمام چیک پوسٹوں، بالخصوص سیکیورٹی چیک پوسٹوں اور کرفیو کے دوران عوام کے ساتھ سختی کے بجائے آئین اور قانون کے مطابق انسانی سلوک کیا جائے۔
اسی طرح ضبط کی گئی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو فوری طور پر مالکان کے حوالے کرنے اور دیگر انتظامی معاملات کو حل کرنے کا مطالبہ بھی دہرایا گیا۔ مشران نے صاف الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر متاثرہ عوام نے دوبارہ دھرنا یا احتجاج کا راستہ اختیار کیا تو قومِ اتمانزئی کے مشران خاموش تماشائی نہیں رہیں گے۔
مذاکرات کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان یوسف کریم نے مشران کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ تمام مطالبات اعلیٰ حکام تک پہنچائیں گے، تاہم مشران نے واضح کیا کہ زبانی یقین دہانیاں کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات ہی مسائل کا حل ہے۔




