بلوچستان میں دہشت گردی کی بڑی لہر ناکام؛ دو روز میں 133 دہشت گرد ہلاک، 15 اہلکار اور 18 شہری شہید

کوئٹہ (دی خیبر ٹائمز بیورو رپورٹ) بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دہشت گردوں کی جانب سے کی گئی مربوط کارروائیوں کو سیکیورٹی فورسز نے مؤثر جوابی کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا ہے۔ گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ہونے والی جھڑپوں اور آپریشنز میں مجموعی طور پر 133 دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ وطن کا دفاع کرتے ہوئے 15 سیکیورٹی اہلکار اور دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیوں میں 18 معصوم شہری شہید ہوئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کے مطابق، “فتنہ الہندوستان” کے دہشت گردوں نے ہفتے کی شب بلوچستان کے 9 سے زائد شہروں میں بیک وقت حملوں کی کوشش کی۔
متاثرہ علاقے: کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی میں سیکیورٹی تنصیبات اور سویلین آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔
دہشت گردوں نے مستونگ میں ایک ہائی سیکیورٹی جیل پر حملہ کر کے قیدیوں کو چھڑانے کی کوشش کی، جہاں سے کچھ قیدیوں کے فرار ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
گوادر اور خاران میں دہشت گردوں نے نہتے مزدوروں اور عام شہریوں پر فائرنگ کی، جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز پہلے سے الرٹ تھیں اور انہوں نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے دہشت گردوں کے مذموم عزائم خاک میں ملا دیے۔
ہفتے کے روز ہونے والی کارروائیوں میں 92 دہشت گرد ہلاک ہوئے جن میں 3 خودکش بمبار بھی شامل تھے۔
اس سے قبل جمعہ کو پنجگور اور ہرنائی میں 41 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا تھا۔
اس دوران 15 جری جوانوں نے بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کوئٹہ کا ہنگامی دورہ کیا اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ: “ان حملوں کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے اور ہمارے پاس اس کے ناقابلِ تردید ثبوت موجود ہیں۔ دہشت گردوں کو سرحد پار سے ان کے آقاؤں کی براہِ راست مدد حاصل تھی۔”
انہوں نے واضح کیا کہ دشمن پاکستان میں ترقی کے عمل اور امن کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے، لیکن ریاست پوری قوت سے ان کا خاتمہ کرے گی۔ کلیئرنس آپریشن: صوبے کے تمام متاثرہ علاقوں میں “سینیٹائزیشن آپریشن” جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ دہشت گرد کا خاتمہ کیا جا سکے۔
صوبے بھر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے اور زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
کوئٹہ سے چلنے والی ٹرینیں تاحال معطل ہیں، جبکہ شاہراہوں پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔
حکومت اور سیکیورٹی اداروں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ منطقی انجام تک جاری رہے گی اور شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔