دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ:
تحریک طالبان پاکستان میں تقسیم در تقسیم اور جماعت الاحرار و حافظ گل بہادر کا ممکنہ اتحاد:
پاکستان کی شمال مغربی سرحدوں پر سرگرم عسکریت پسند تنظیموں کی حرکیات میں حالیہ برسوں کے دوران غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ ان تبدیلیوں میں سب سے اہم موڑ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک انتہائی مہلک دھڑے، جماعت الاحرار (JuA) کا مرکزی قیادت سے دوبارہ علیحدہ ہونا اور شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایک طاقتور کمانڈر حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ تزویراتی اتحاد کی کوششیں ہیں ۔ یہ پیش رفت نہ صرف ٹی ٹی پی کے امیر مفتی نور ولی محسود کی مرکزیت قائم کرنے کی پالیسی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے بلکہ یہ پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے ایک ایسے نئے خطرے کی نوید ہے جو ماضی کے “تحریک طالبان مجاہدین اسلام” جیسے خوفناک اتحادوں کی یاد تازہ کرتا ہے ۔ زیر نظر رپورٹ اس تقسیم کے اسباب، جماعت الاحرار اور حافظ گل بہادر گروپ کے مابین ہونے والے اجلاسوں کی تفصیلات، ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری کردہ فتوے کے محرکات اور اس ممکنہ اتحاد کے پاکستان پر پڑنے والے اثرات کا ایک جامع اور ماہرانہ جائزہ پیش کرتی ہے۔
جماعت الاحرار کی تزویراتی تاریخ اور علیحدگی کا پس منظر
جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014 میں اس وقت رکھی گئی جب مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ٹی ٹی پی کے اس وقت کے امیر عمر خالد خراسانی (عبدالولی) نے مرکزی قیادت، خاص طور پر اس وقت ٹی ٹی پی کے امیر ملا فضل اللہ کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ۔ اس علیحدگی کی بنیادی وجہ مرکزی قیادت کی تزویراتی پالیسیوں سے اختلاف اور مہمند ایجنسی کے عسکریت پسندوں کی خود مختاری کو برقرار رکھنا تھا ۔ جماعت الاحرار نے اپنے قیام کے فوراً بعد 2014 میں واہگہ بارڈر پر خودکش حملے جیسی سنگین کارروائیوں کے ذریعے اپنی موجودگی کا احساس دلایا اور 2014 سے 2015 کے درمیان مختصر عرصے کے لیے داعش (ISKP) کے ساتھ بھی وابستگی ظاہر کی ۔
مفتی نور ولی محسود کا مرکزیت کا منصوبہ
2018 میں ملا فضل اللہ کی ہلاکت کے بعد مفتی نور ولی محسود نے ٹی ٹی پی کی باگ ڈور سنبھالی تو ان کا سب سے بڑا چیلنج بکھرے ہوئے دھڑوں کو دوبارہ متحد کرنا تھا ۔ نور ولی محسود نے “محسودائزیشن” کی پالیسی اپنائی، جس کا مقصد جنوبی وزیرستان کے محسود قبائل کی قیادت میں تنظیم کو دوبارہ منظم کرنا اور اسے افغان طالبان کے تنظیمی ڈھانچے کے مطابق ڈھالنا تھا ۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں اگست 2020 میں جماعت الاحرار اور اس سے الگ ہونے والے گروہ حزب الاحرار نے دوبارہ ٹی ٹی پی میں شمولیت اختیار کر لی ۔ اس انضمام کے بعد ٹی ٹی پی کی کارروائیوں میں شدت آئی اور اسے ایک منظم فوج کی شکل دینے کی کوشش کی گئی ۔
مفتی نور ولی سے قبل ٹی تی پی سے کئی دھڑے بن چکے تھے، جبکہ مفتی نورولی نے مذاکرات اور جرگے کرکے تمام ٹی ٹی پی سے چلے جانے والوں سمیت دیگر جہادی تنظیموں اور اشخاص کو بھی ٹی ٹی پی میں شامل کردیا۔
دوبارہ علیحدگی کے محرکات: میڈیا اور نظریاتی جنگ
2023 کے اواخر اور 2024 کے آغاز میں ٹی ٹی پی کی مرکزی قیادت اور جماعت الاحرار کے درمیان دراڑیں اس وقت واضح ہوئیں جب جماعت الاحرار کے ترجمان ادارے “غازی میڈیا” اور ٹی ٹی پی کے سرکاری ترجمان “عمر میڈیا” کے درمیان بیانیہ کی جنگ شروع ہوئی ۔ مرکزی قیادت نے غازی میڈیا کے بیانات کو تنظیم کی پالیسیوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، جبکہ جماعت الاحرار نے اسے اپنے بانی عمر خالد خراسانی کی میراث قرار دیتے ہوئے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا ۔ یہ تنازع محض میڈیا تک محدود نہیں رہا بلکہ تزویراتی اہداف کے انتخاب پر بھی اثر انداز ہوا، جہاں جماعت الاحرار شہری اہداف اور اقلیتوں پر حملوں کی حامی رہی، جبکہ نور ولی محسود نے تنظیم کا امیج بہتر بنانے کے لیے صرف سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی پالیسی دی تھی ۔
جماعت الحرار کے زرائع نے بتایا ہے، کہ ٹی ٹی پی کے امیر مفتی نورولی اور دیگر مرکزی قیادت نے ایک بڑی جماعت ٹی ٹی پی کو صرف قبائلی اضلاع تک محدود کیا تھا، ان کا کہنا تھا، کہ جماعت الاحرار نےبار بار قیادت کو قبائلی اضلاع سے باہر نکل کر دیگر صوبوں اور شہروں تک دائرہ کار کو وسیع کرنے کیلئے کوشش کی ، مگر قیادت ان کی یہ بات سننے کو تیار نہ تھی، اس لئے اس نے ٹی ٹی پی سے راستہ الگ کریا۔
ایک سوال کے جواب میں جماعت الحرار کے زرائع نے بتایا ہے، کہ ہاں حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ ان کے اجلاسیں ہوئی ہیں، اور مزید بھی متوقع ہیں، ابھی تک ان کے ساتھ بقائدہ اتحاد نہیں کیا، اس کا کہنا تھا، کہ اس نے گل بہادر گروپ اتحاد المجاہدین اسلام کے سامنے اپنے شرائط اور جہادی منشوررکھ دیا ہے، یہ ضروری بھی نہیں کہ ہمارا اتحاد ہوگا؟
ان کا کہنا تھا، کہ جماعت الاحرار اپنے سوچ اور فکر کا پابند جماعت ہے، وہ کسی بھی دیگر جہادی تنظیم کے سوچ کا پابند نہیں ہوسکتا۔
ٹی ٹی پی کا فتویٰ اور جماعت الاحرار کے خلاف تادیبی کارروائی
تحریک طالبان پاکستان کی مرکزی قیادت نے جماعت الاحرار کی منحرف سرگرمیوں کو روکنے کے لیے صرف سیاسی دباؤ پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس بار مذہبی ہتھیار کا استعمال بھی کیا ہے ۔ مفتی نور ولی محسود نے، جو خود کو ایک جید مفتی اور عالم دین کے طور پر پیش کرتے ہیں، جماعت الاحرار کے خلاف ایک باقاعدہ “فتویٰ” جاری کیا ہے جس میں انہیں “غدار” اور “فتنہ” قرار دیا گیا ہے ۔
فتوے کے مندرجات اور نظریاتی بنیادیں
اس فتوے میں جماعت الاحرار پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ غیر ملکی ایجنسیوں (خاص طور پر را اور سابقہ این ڈی ایس) کے اشاروں پر کام کر رہی ہے تاکہ مجاہدین کی صفوں میں انتشار پیدا کیا جا سکے ۔ ٹی ٹی پی کی مرکزی شوریٰ نے موقف اختیار کیا کہ جماعت الاحرار کی جانب سے مساجد اور عوامی مقامات پر حملے اسلام کی روح کے منافی ہیں اور یہ تنظیم کی اس پالیسی کو نقصان پہنچا رہے ہیں جس کے تحت صرف ریاست اور سکیورٹی اداروں کو نشانہ بنانا مقصود ہے ۔ فتوے کے ذریعے ٹی ٹی پی نے اپنے جنگجوؤں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ جماعت الاحرار کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کی جائے گی ۔
حکومت پاکستان کا “فتنہ الخوارج” بیانیہ
دلچسپ امر یہ ہے کہ جہاں ٹی ٹی پی جماعت الاحرار کو “فتنہ” قرار دے رہی ہے، وہیں حکومت پاکستان نے 2025 میں ٹی ٹی پی کو سرکاری طور پر “فتنہ الخوارج” کا نام دے دیا ہے ۔ اس سے ایک ایسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جہاں ریاست اور عسکریت پسند دونوں ایک دوسرے کو خوارج اور غیر اسلامی قرار دینے کے لیے مذہبی اصطلاحات کا استعمال کر رہے ہیں ۔ جماعت الاحرار کے خلاف ٹی ٹی پی کا فتویٰ دراصل تنظیم کے اندرونی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کی ایک آخری کوشش ہے، کیونکہ نور ولی محسود کو خدشہ ہے کہ اگر جماعت الاحرار جیسے بااثر گروہ الگ ہوتے رہے تو ٹی ٹی پی ایک منظم قوت کے بجائے چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بٹ جائے گی ۔
تحریک اتحادلمجاہدین اسلام ( گل بہادر گروپ )
اس گروپ میں پہلے سے حکیم اللہ محسود گروپ، منگل باغ اور حافظ گل بہادر گروپ کا اتحاد پاکستان کیلئے ایک اور درد سر بن گیا تھا، اب اگر ٹی ٹی پی سے منحرف ہونے ولا یہ جماعت جماعت الحرار کا اتحاد نہ صرف پاکستان کیلئے بڑا مسلہ ہے، بلکہ ٹی ٹی پی کیلئے بھی ایک چیلینج ہے، جس کے مقابلے میں ایک بڑا تھریک بن رہاہے، اور مستقبل میں ٹی ٹی پی سے ناراضگی کے بعد ہر کوئی گل بہادر کو جوائن کرینگے،،، یا اگر اب تک کوئی امن مذاکرات کرنا چاہتا تھا، تو ٹی ٹی پی کے ساتھ ہی مذاکرات کا سلسلہ چلتا رہتا تھا، اب ٹی ٹی پی اکیلا نہیں رہا بلکہ ایک اور گروپ بھی مظبوط بن رہاہے،،،
اب ٹی ٹی پی کے علاوہ گل بہادر گروپ بھی ایک پریشر گروپ بن رہاہے، اب اگر کوئی ٹی ٹی پی سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، تو ممکن نہ ہوسکا، کیونکہ گل بہادر بھی ایک تحریک بن گیا ہے۔
اگر جماعت الاحرار (جو مہمند اور باجوڑ میں اثر و رسوخ رکھتی ہے) لشکر اسلام جو قبائلی ضلع خیبر ، کوہاٹ اور پشاور میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں، حکیم اللھ محسود گروپ جو جنوبی وزیرستان، ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان اور حافظ گل بہادر (جو شمالی وزیرستان بنوں، لکی مروت اور اب کرک۔ میں بھی مضبوط ہیں) ان کا اتحاد ہو جاتا ہے، تو یہ ٹی ٹی پی کے محسود غلبے کو چیلنج کرنے والا ایک “شمالی بلاک” بن جائے گا ۔ یہ بلاک تزویراتی طور پر زیادہ خطرناک اس لئے بھی ہو سکتا ہے کیونکہ:
یہ خیبر پختونخوا کے شمالی اور جنوبی اضلاع کو آپس میں جوڑ دے گا ۔
اسے حقانی نیٹ ورک کی خاموش حمایت بڑھ سکتی ہے، جو روایتی طور پر حافظ گل بہادر کے سرپرست رہے ہیں ۔
جماعت الاحرار کے پاس خودکش بمباروں کا وسیع نیٹ ورک ہے، جبکہ حافظ گل بہادر کے پاس محفوظ پناہ گاہیں اور قبائلی اثر و رسوخ موجود ہے ۔
جماعت الاحرار کی علیحدگی کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی لہر میں ایک نیا اور زیادہ خطرناک رخ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں شہری اہداف اور عدلیہ جیسے اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ریاست کے رعب و دبدبے کو ختم کیا جا سکے ۔
اسلام آباد کچہری حملہ (نومبر 2025)
11 نومبر 2025 کو اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون میں ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس کے باہر ہونے والا خودکش حملہ حالیہ برسوں کے مہلک ترین حملوں میں سے ایک تھا ۔ اس حملے میں 12 افراد جاں بحق اور 36 زخمی ہوئے ۔ جماعت الاحرار نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے “غیر اسلامی قوانین” کے نفاذ کے خلاف کارروائی قرار دیا ۔ ٹی ٹی پی کی مرکزی قیادت نے اس حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جماعت الاحرار اب مرکزی ڈسپلن سے مکمل طور پر آزاد ہو چکی ہے ۔
پشاور اور وانا میں دہشت گردی کے واقعات
11 نومبر 2025 میں جماعت الاحرار نے پشاور میں پیرا ملٹری ہیڈ کوارٹرز پر ایک بڑا حملہ کیا ۔ اسی طرح 10 نومبر 2025 وانا میں کیڈٹ کالج پر ہونے والے حملے، جس میں سینکڑوں طلباء کو یرغمال بنانے کی کوشش کی گئی، اس میں “جیش ہند” نامی ایک نئے گروہ کا نام سامنے آیا، لیکن سکیورٹی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ دراصل جماعت الاحرار اور حافظ گل بہادر گروپ کا مشترکہ آپریشن تھا جس کے لیے ایک فرضی نام استعمال کیا گیا ۔
اس کے علاوہ 15 فروری 2025 کو کراچی کے منگو پیر پولیس افیسر کی ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ دہشتگردی کے دیگر کئی چھوٹے واقعات ٹی ٹی پی اور حکومت پر پریشر بڑھانے کے واقعات نمایاں ہیں۔
ریاست پاکستان کا ردعمل: آپریشن عزم استحکام اور فضائی حملے
بڑھتی ہوئے دہشت گردی اور عسکری گروہوں کے گٹھ جوڑ کو توڑنے کے لیے پاکستان نے جون 2024 میں “آپریشن عزم استحکام” کا آغاز کیا ۔ اس آپریشن کا مقصد نہ صرف عسکریت پسندوں کا جسمانی خاتمہ ہے بلکہ ان کے نیٹ ورکس اور مالیاتی ذرائع کو بھی نشانہ بنانا ہے ۔
افغانستان میں پناہ گاہوں پر فضائی حملے
اکتوبر 2025 میں پاکستان نے ایک اہم تزویراتی فیصلہ لیتے ہوئے افغانستان کے اندر کابل، خوست، جلال آباد اور پکتیکا میں ٹی ٹی پی اور حافظ گل بہادر گروپ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ۔ ان حملوں کا بنیادی ہدف مفتی نور ولی محسود اور حافظ گل بہادر کے کمانڈر تھے ۔ اگرچہ نور ولی محسود ان حملوں میں محفوظ رہے، لیکن ان کارروائیوں نے افغان طالبان اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں شدید تناؤ پیدا کر دیا ہے ۔ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ وہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو مزید برداشت نہیں کرے گا، چاہے اس کے لیے افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی ہی کیوں نہ کرنی پڑے ۔
آپریشن سر بکف اور سرحدی جھڑپیں
جولائی 2025 میں باجوڑ میں “آپریشن سر بکف” کا آغاز کیا گیا تاکہ مہمند اور باجوڑ کے اضلاع میں جماعت الاحرار ، ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگرد تحریکوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو ختم کیا جا سکے ۔ 2025 کے دوران پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر جھڑپوں کی تعداد میں 100 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عسکریت پسندوں کو نہ صرف سرحد پار سے بھرپور مدد مل رہی ہے بلکہ وہاں سے بقائدہ اپریٹ ہورہے ہیں۔
تزویراتی مضمرات اور مستقبل کا منظرنامہ
جماعت الاحرار کی علیحدگی اور حافظ گل بہادر کے ساتھ ان کا ممکنہ اتحاد پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے ایک کثیر الجہتی خطرہ ہے۔ اس اتحاد کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ممکنہ منظرنامے درج ذیل ہو سکتے ہیں:
1. دہشت گردی کے جغرافیائی دائرے میں وسعت
جماعت الاحرار کا حافظ گل بہادر کا اشتراک دہشت گردی کو خیبر پختونخوا سے نکال کر بلوچستان اور پنجاب کے بڑے شہروں تک پھیلا سکتا ہے ۔ ڈی آئی خان اور لکی مروت کے اضلاع، جو پنجاب کا گیٹ وے سمجھے جاتے ہیں، پہلے ہی عسکریت پسندوں کی زد میں ہیں ۔
2. ٹی ٹی پی کے اندرونی دھڑے بندیوں کا فائدہ
مفتی نور ولی محسود کی جانب سے جاری کردہ فتویٰ اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹی ٹی پی اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔ اگر ریاست اس موقع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو تیز کرتی ہے، تو ان گروہوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کا خطرہ یہ بھی ہے کہ مایوس جنگجو داعش (ISKP) جیسی زیادہ متشدد تنظیموں میں شامل ہو سکتے ہیں ۔
3. افغان طالبان پر دباؤ اور سفارتی تنہائی
پاکستان کی جانب سے افغانستان کے اندر فضائی حملوں نے کابل کی طالبان حکومت کو مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے ۔ اگر طالبان ان گروہوں کو لگام نہیں دیتے، تو پاکستان کی جانب سے مزید سخت اقدامات، بشمول سرحد کی مکمل بندش اور معاشی پابندیاں، افغان معیشت کو مزید کمزور کر سکتی ہیں ۔
ماہرانہ نتائج اور سفارشات:
تحریک طالبان پاکستان سے جماعت الاحرار کی علیحدگی اور حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ ان کے مسلسل تین اجلاس اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ عسکریت پسند گروہ اب “مرکزیت” کے بجائے “علاقائی اتحادوں” کے ذریعے اپنی طاقت برقرار رکھنا چاہتے ہیں ۔ یہ صورتحال 2007-2009 کے اس دور کی یاد دلاتی ہے جب عسکریت پسندوں نے “تحریک طالبان مجاہدین اسلام” بنا کر ریاست کو مفلوج کر دیا تھا ۔
اس خطرے سے نمٹنے کے لیے درج ذیل تزویراتی اقدامات ناگزیر ہیں:
انٹیلی جنس شیئرنگ اور ٹارگٹڈ کلنگ: جماعت الاحرار اور حافظ گل بہادر کے مابین رابطوں کو توڑنے کے لیے ہائی ویلیو ٹارگٹس (HVT) کو نشانہ بنانا ضروری ہے، جیسا کہ عمر خالد خراسانی اور مفتی مزاحم کے معاملے میں کیا گیا ۔
نظریاتی جوابی بیانیہ: ریاست کو “فتنہ الخوارج” کے بیانیے کو عوامی سطح پر مزید مقبول بنانا چاہیے تاکہ عسکریت پسندوں کی مذہبی ساکھ کو ختم کیا جا سکے ۔
قبائلی عمائدین کا کردار: شمالی وزیرستان اور مہمند ایجنسی کے ان قبائل کو اعتماد میں لینا ضروری ہے جو طالبان کے غلبے سے تنگ ہیں، تاکہ عسکریت پسندوں کو مقامی پناہ گاہیں میسر نہ آ سکیں ۔
سرحدی انتظام اور تکنیکی نگرانی: ڈرون ٹیکنالوجی اور کواڈ کاپٹرز کا استعمال بڑھا کر سرحد پار نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جائے، جیسا کہ 2025 کے حالیہ آپریشنز میں دیکھا گیا ہے ۔
پاکستان کی سلامتی کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کتنی مہارت سے ان عسکری گروہوں کے مابین موجود دراڑوں کو مزید گہرا کرتا ہے اور انہیں ایک بار پھر “تحریک طالبان مجاہدین اسلام” جیسا مضبوط اتحاد بنانے سے روکنے میں کامیاب ہوتا ہے ۔




