"انتخابی عمل کو شکست نہیں ہونے دوں گی" ایک باغی روح کی رخصتی وہ محض ایک صحافی نہیں تھی، وہ پشاور پریس کلب کے ایوانوں میں گونجتی ہوئی ایک ایسی باغی اور انقلابی آواز تھی جس نے ہمیشہ مروجہ اصولوں کو للکارا۔ انیلا شاہین جس نے پریس کلب کی سیاست میں اپنی جرات اور اصول پسندی سے بغاوت کی وہ مثالیں قائم کیں جو برسوں تک مشعلِ راہ رہیں گی۔ آج جب وہ ہم سے جدا ہو کر منوں مٹی تلے جا سوئی ہے، تو اس کی کمی ایک ایسے رستے ہوئے زخم کی طرح ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ انتخابات 2026: ایک عجیب کشمکش رواں سال 2026 کے پریس کلب انتخابات کا غلغلہ تھا۔ انیلا شاہین کے صدارت کے لئے کاغذاتِ نامزدگی کسی ہمدرد نے جمع کرا دئے تھے۔ دوسری طرف ایم ریاض بھائی جیسے مضبوط اور قد آور امیدوار میدان میں تھے، جن کی مقبولیت کا سورج سوا نیزے پر تھا۔ کلب کے اندر ایک مضبوط لہر اٹھی کہ ایم ریاض صاحب کو بلا مقابلہ صدر منتخب کروا لیا جائے تاکہ "اتحاد اور یکجہتی" کا روایتی تاثر ابھرے۔ ہمارے بزرگ اور قابلِ قدر صحافی شمیم شاہد صاحب نے مجھے ایک بھاری ذمہ داری سونپی۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ کسی طرح انیلا شاہین کو دستبرداری پر راضی کیا جائے، کیونکہ ایم ریاض صاحب کی جیت تو یقینی تھی، مگر بلا مقابلہ انتخاب پریس کلب کے مستقبل کے لئے "مفید" مصلحت لگ رہی تھی۔ میں شمیم شاہد صاحب کا پیغام اور ان کی سونپی ہوئی ذمہ داری کا بوجھ لے کر ایک صبح سویرے انیلا کے گھر پہنچا۔ میرا مقصد اسے منت سماجت کر کے انتخابی عمل سے الگ کرنا تھا۔ میں نے بڑے دھیمے اور مصلحت آمیز لہجے میں دستبرداری کے فائدے گنوانے شروع کئے۔ میں اسے کہانیاں سناتا رہا کہ کیسے بلا مقابلہ انتخاب سے کلب مضبوط ہوگا، وہ خاموشی سے، ایک متانت بھری مسکراہٹ کے ساتھ میری تمام باتیں سنتی رہی۔ جب میں بول چکا، تو اس نے جس خوبصورت اور پروقار لہجے میں جواب دیا، اس نے میرے تمام مصلحت پسندانہ دلائل مٹی میں ملا دئے۔ اس نے بڑی درمندی سے کہا: "تم جانتے ہو؟ پریس کلب میں صرف دو تین درجن صحافی ہی سارا سال مراعات اور انفراسٹرکچر سے لطف اندوز ہوتے ہیں، جبکہ سینکڑوں ممبران وہ گمنام سپاہی ہیں جو سال میں صرف ایک بار، 'انتخابات' کے دن کلب کی دہلیز پار کرتے ہیں۔ وہ اس لئے آتے ہیں تاکہ اپنے برسوں پرانے ساتھیوں سے ملیں، قہقہے لگائیں، دکھ سکھ بانٹیں اور اس ایک دن کو جئیں جو ان کے لئے عید جیسا رنگین ہوتا ہے۔" اس کی دلیل میں ایک عجیب تڑپ تھی۔ اس کا ماننا تھا کہ اگر بلا مقابلہ انتخاب کا رواج جڑ پکڑ گیا، تو ان سینکڑوں ممبران کی رہی سہی اہمیت بھی ختم ہو جائے گی۔ اس نے کہا: "جس دن ووٹ پڑتا ہے، اس دن بڑے بڑے امیدوار ان عام ممبران کے پاس جاتے ہیں، انہیں عزت دیتے ہیں، ان کے ہاتھوں کو چومتے ہیں اور ان سے ووٹ مانگ کر انہیں اپنی اہمیت کا احساس دلاتے ہیں۔ اگر یہ عمل ختم ہو گیا، تو چند سالوں میں پریس کلب کی کابینہ کا ممبر دوسرے صحافی کو پہچاننے سے بھی انکار کر دے گا۔ میں نہیں چاہتی کہ ان لوگوں کی توہین ہو جو سارا سال کلب نہیں آتے مگر کلب کا اصل اثاثہ وہی ہیں۔" میں نے پھر بھی اصرار کیا، بحث نہ کرنے کی ضد کی اور کہا کہ بس اس صدارتی عہدے سے دستبرداری کے کاغذ پر ابھی اسی وقت دستخط کر دیں تاکہ میں شمیم شاہد صاحب اور ایم ریاض بھائی کو مطمئن کر سکوں۔ انیلا نے بڑے وقار سے جواب دیا: "مجھے معلوم ہے میں ایم ریاض بھائی کو شکست نہیں دے سکتی، لیکن میں 'انتخابی عمل' کو شکست نہیں ہونے دوں گی۔ میں میدان میں رہوں گی تاکہ مقابلہ زندہ رہے۔" پھر اس نے وہ بات کہی جو صرف ایک وسیع الظرف انسان ہی کہہ سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ وہ پولنگ کے دن اپنا بیلٹ پیپر صاف ستھرا نکال کر مجھے دے دے گی، تاکہ میں وہ شمیم شاہد صاحب کے ذریعے ایم ریاض بھائی کو دے دوں۔ اس نے کہا: "مجھے میرا اپنا ووٹ بھی نہیں چاہئے۔ وہ خود اس پر مہر لگا لیں۔ میری خواہش صرف یہ ہے کہ تمام امیدوار گیٹ پر کھڑے ہو کر ووٹ دینے آنے والے بھائیوں کا استقبال کریں، ان سے گلے ملیں، ان کا احترام کریں اور اپنا ایجنڈا شیئر کریں۔ پریس کلب کے ان گمنام سپاہیوں کو کم از کم سال میں ایک دن تو 'وی آئی پی' ہونے کا احساس دلایا جائے!" انیلا کا مقصد عہدہ پانا نہیں تھا، بلکہ ان ممبران کے وقار کی بحالی تھا جو سارا سال نظر انداز کئے جاتے ہیں۔ جہاں کچھ لوگوں نے سیکرٹری کے عہدے کے لئے مصلحتوں کے سمجھوتے کئے، کسی نے گورننگ باڈی کےعہدے اپنے نام کرنے کی خاطر اصولوں کا قتل کیا، وہاں انیلا تن تنہا ایم ریاض جیسے دیو ہیکل امیدوار کے سامنے ڈٹ گئی، صرف اس لئے تاکہ جمہوریت کا حسن اور عام صحافی کا احترام برقرار رہے۔ آج پریس کلب کا ہر وہ ممبر جس کی عزتِ نفس کی خاطر انیلا نے یہ ہارا ہوا معرکہ لڑا، اس کا مقروض ہے۔ اس نے اتحاد کے نام پر ہونے والی "سرد مصلحتوں" کو مسترد کر کے یہ پیغام دیا کہ عہدہ عارضی ہے، مگر ممبر کا احترام دائمی ہونا چاہئے۔ آج وہ ہم میں نہیں ہے، مگر اس کی سوچ پریس کلب کی فضاؤں میں ایک مقدس خوشبو کی طرح موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ اس غیرت مند، بہادر اور ممبران کے وقار کی محافظ بیٹی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اس نے ایک ایسا مقابلہ کیا جس کے جیتنے کا بظاہر کوئی امکان نہیں تھا، مگر اس نے ہار کر بھی ان سینکڑوں صحافیوں کے دل جیت لئے جن کا وقار اس کی آخری سانس تک پہلی ترجیح رہا۔ اے پشاور پریس کلب کی غیرت مند شہزادی! تمہاری اس 'شکست' میں بھی ہزاروں فتوحات پوشیدہ ہیں۔ ناصر داوڑ

“انتخابی عمل کو شکست نہیں ہونے دوں گی”ایک باغی روح کی رخصتی

“شکست کا اعتراف، مقابلے کا جنون: انیلا شاہین” محض ایک صحافی نہیں تھی، وہ پشاور پریس کلب کے ایوانوں میں گونجتی ہوئی ایک ایسی باغی اور انقلابی آواز تھی جس نے ہمیشہ مروجہ اصولوں کو للکارا۔ انیلا شاہین جس نے مزید پڑھیں

پاک افغان تعلقات مزید کشیدہ، افغان فورسز نے سرحد پر تازہ دم دستے تعینات کردئے

دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ: پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیکیورٹی صورتحال ایک بار پھر تشویشناک رخ اختیار کر گئی ہے، جہاں ایک طرف پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے تو دوسری جانب افغان طالبان کی مزید پڑھیں

لکی مروت میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں میں جھڑپ، ٹی ٹی پی کمانڈر ہلاک

لکی مروت دی خیبر ٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک ) ضلع لکی مروت کے علاقے ظریفوال سربند میں سکیورٹی فورسز اور مسلح شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے دوران تین مزید پڑھیں

بنوں خودکش حملے کے بعد سرحد پار فضائی کارروائیاں، پکتیکا اور ننگرہار میں تین مقامات پر دھماکے

پشاور( دی خیبرٹائمز ماینٹرنگ ڈیسک ) 
افغانستان کے صوبوں پکتیکا اور ننگرہار میں تین مختلف مقامات پر زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ افغانستان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پاکستانی فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے ان مزید پڑھیں

شمالی وزیرستان: کیا ریاست کی رٹ ختم ؟ آئینہ وزیر کیس اور قانون کی پامالی

دی خیبر ٹائمز خصوصی رپورٹ: شمالی وزیرستان کا حالیہ واقعہ صرف ایک نوجوان کے اغواء کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ اس تلخ حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ ہمارے قبائلی علاقوں میں اب بھی ریاستی قانون کے بجائے جنگل مزید پڑھیں

قومی اسمبلی میں فوج سے متعلق بیان پر اختلاف، اپوزیشن اتحاد میں دراڑ یا وقتی تناؤ؟

پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی اور تحریک انصاف قیادت آمنے سامنے اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)
قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں اس وقت غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) مزید پڑھیں

بنوں پریس کلب کے سابق صدر احسان خٹک کے گھر پر حملہ، اہل خانہ محفوظ

بنوں ( دی خیبرٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک ) بنوں پریس کلب کے سابق صدر اور مقامی صحافی احسان خٹک نے کہا ہے کہ گزشتہ رات نامعلوم مسلح افراد نے ان کے گھر پر فائرنگ کی۔ احسان خٹک کے مطابق گزشتہ کئی مزید پڑھیں

صوبے اور قبائلی اضلاع میں سی ٹی ڈی کو مزید مضبوط بنانے کی فوری ضرورت

تحریر: خصوصی رپورٹ | دی خیبر ٹائمز خیبر پختونخوا اور سابقہ قبائلی اضلاع ایک طویل عرصے سے دہشت گردی اور بدامنی کے اثرات جھیلتے آ رہے ہیں۔ اگرچہ مختلف سیکیورٹی اداروں نے قربانیاں دے کر امن کی بحالی میں کردار مزید پڑھیں

شومالی وزیرستان: عمائدین کے سخت مطالبات، وزیرستان میں ظلم و زیادتیوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ

بنوں ( دی خیبرٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک ) بنوں میں شمالی وزیرستان کے وزیر اور داوڑ قبائل مشران اور شمالی وزیرستان کی ضلعی انتظامیہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شمالی وزیرستان میں جاری بدامنی، جبری گمشدگیوں، ڈرون حملوں اور عوام مزید پڑھیں

تحریک طالبان پاکستان میں دراڑیں: جماعت الاحرار کی علیحدگی اور گل بہادر گروپ سے ممکنہ اتحاد



دی خیبر ٹائمز اسپیشل رپورٹ پاکستان کی شمال مغربی سرحدی پٹی ایک بار پھر عسکریت پسند تنظیموں کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ، نئی صف بندیوں اور ممکنہ اتحادوں کے باعث ایک نازک اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ مزید پڑھیں