دہشت گردی کے خلاف عالمی گھیرا تنگ: آسٹریلیا نے بھی بی ایل اے اور اس کی قیادت پر کڑی پابندیاں عائد کر دیں پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کی کارروائیوں میں ملوث کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کے خلاف عالمی برادری کا گھیرا مزید تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک اہم تزویراتی پیش رفت میں آسٹریلوی حکومت نے بی ایل اے اور اس کے تین سینئر رہنماؤں کو باقاعدہ طور پر دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے ان پر کڑی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ آسٹریلوی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تنظیم پاکستان میں سویلین شہریوں، غیر ملکی باشندوں، اہم قومی تنصیبات اور ریاستی اداروں پر حملوں میں براہِ راست ملوث ہے، جس کے باعث عالمی امن کو خطرات لاحق ہیں۔ آسٹریلیا کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر انتہا پسند گروہوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ کینبرا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا کا دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف مقابلہ کرنے کا عزم غیر متزلزل ہے اور ان تازہ پابندیوں کا بنیادی مقصد دہشت گردوں کی مالی شہ رگ کاٹنا ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے اب تنظیم کے لیے نئے کارندوں کی بھرتی، کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور انتہا پسند نظریات کی تشہیر کو ناممکن بنایا جائے گا۔ آسٹریلوی حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایسے تمام نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی جو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔ قانونی نقطہ نظر سے یہ پابندیاں انتہائی سخت ہیں، جن کے تحت اب ان نامزد افراد اور تنظیم کے اثاثوں کا استعمال، کسی بھی قسم کا لین دین یا انہیں مالی وسائل فراہم کرنا آسٹریلوی قانون کے تحت سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی فرد یا ادارے کو 10 سال تک قید کی سزا اور بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین اس اقدام کو پاکستان کی اس سفارتی مہم کی کامیابی قرار دے رہے ہیں جس کے تحت بی ایل اے کو پہلے ہی امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین جیسے اہم عالمی کھلاڑی دہشت گرد قرار دے چکے ہیں۔ بی ایل اے کی حالیہ کارروائیوں، بالخصوص چینی قونصل خانے اور کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملوں نے عالمی برادری کو یہ باور کرایا ہے کہ یہ گروہ اب صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی مفادات کے لئے بھی خطرہ ہے۔ اس مضمون اس بات کی نشاندہی کرنے کی کوشش کیا ہے، کہ آسٹریلیا کا یہ فیصلہ محض ایک قانونی کارروائی نہیں بلکہ ایک واضح سفارتی پیغام ہے کہ علیحدگی پسندی کی آڑ میں تشدد کا راستہ اختیار کرنے والے گروہوں کے لئے اب دنیا میں کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ یہ دستاویز اس بات کی شاہد ہے کہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو اب عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے اور مالیاتی نیٹ ورکس کی بندش سے ان کالعدم تنظیموں کی آپریشنل صلاحیتوں کو شدید دھچکا لگے گا۔ کینبرا کا یہ سخت موقف اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش ہے کہ عالمی امن و سلامتی کا تحفظ ہر قیمت پر ممکن بنایا جا سکے۔

دہشت گردی کے خلاف عالمی گھیرا تنگ: آسٹریلیا نے بھی بی ایل اے اور اس کی قیادت پر کڑی پابندیاں عائد کر دیں

پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کی کارروائیوں میں ملوث کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کے خلاف عالمی برادری کا گھیرا مزید تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک اہم تزویراتی پیش مزید پڑھیں

پشاور میں امریکی قونصل خانے کی بندش: ایک تاریخی و تزویراتی تجزیہ دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ مئی 2026 کی ایک خاموش صبح پشاور میں امریکی پرچم کا باقاعدہ طور پر اتارا جانا محض ایک دفتری منتقلی نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے ایک ایسے طویل اور ہنگامہ خیز باب کا خاتمہ ہے جو سات دہائیوں پر محیط تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ کا یہ فیصلہ کہ پشاور سے تمام سفارتی امور اسلام آباد منتقل کر دئے جائیں، ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور میں کسی بھی بیرونِ ملک امریکی مشن کی پہلی مستقل بندش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن کی جانب سے اس فیصلے کا بظاہر سبب بجٹ میں کٹوتی اور سیکیورٹی خدشات بتائے گئے ہیں، لیکن اس کے پیچھے چھپی تزویراتی وجوہات اس ڈھانچے کی مکمل تحلیل کی طرف اشارہ کرتی ہیں جس نے سرد جنگ سے لے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ تک واشنگٹن کے لئے ہراول دستے کا کام کیا تھا۔ اب نئی ٹیکنالوجی اور بدلی ہوئی عالمی ترجیحات نے پشاور میں فزیکل موجودگی کی ضرورت کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ اس کہانی کی جڑیں 1952 میں پیوست ہیں جب پشاور میں پہلی بار امریکی قونصل خانے کی بنیاد رکھی گئی۔ وہ دور سرد جنگ کا تھا اور پشاور کی جغرافیائی حیثیت اسے کمیونزم کے خلاف ایک بہترین واچ ٹاور بناتی تھی۔ پشاور محض ایک سفارتی دفتر نہیں تھا بلکہ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کا وہ حساس مہرہ تھا جہاں سے سوویت یونین اور وسطی ایشیا کی فوجی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکتی تھی۔ اسی مقصد کے لئے پشاور ایئر اسٹیشن یا (بڈھ بیر اڈہ) قائم کیا گیا، جسے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا ایک انتہائی حساس مانیٹرنگ مرکز مانا جاتا تھا۔ اس دور میں اسے لٹل یو ایس اے کہا جاتا تھا، جہاں سینکڑوں امریکی اہلکار ایک خود کفیل بستی کی طرح رہتے تھے۔ یہ وہی مقام تھا جہاں سے اڑنے والے امریکی یو ٹو (U-2) جاسوس طیارے کو سوویت یونین نے مار گرایا، جس کے بعد دنیا نے وہ منظر بھی دیکھا جب سوویت رہنما نکیتا خروشیف نے پشاور کے گرد نقشے پر سرخ لکیر کھینچ کر اسے تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ پشاور قونصل خانے کی تاریخ کا سب سے متحرک اور ہنگامہ خیز دور افغان جنگوں کے دوران سامنے آیا۔ اسی قونصل خانے نے 1979 سے 1989 کے دوران افغان مزاحمت کے اعصابی مرکز کے طور پر کام کیا۔ سی آئی اے اور امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار اسی عمارت سے افغان مجاہدین اور پاکستانی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے۔ اسی دور میں بڈھ بیر کے مقام پر وہ خونی معرکہ بھی پیش آیا جس میں قید سوویت اور افغان فوجیوں نے مسلح بغاوت کی اور پورا اسلحہ خانہ دھماکے سے اڑ گیا۔ نائن الیون کے بعد جب امریکہ ایک بار پھر اس خطے میں جنگ کے لیے اترا تو پشاور قونصل خانہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔ یہ تورخم بارڈر کے راستے نیٹو سپلائی لائنز کو محفوظ بنانے اور قبائلی علاقوں میں جاری عسکری کارروائیوں کی نگرانی کا سب سے بڑا لاجسٹک اور انٹیلی جنس مرکز بن کر ابھرا۔ لیکن اس تزویراتی اہمیت کی ایک بھاری قیمت سیکیورٹی کی صورت میں چکانی پڑی۔ پشاور میں امریکی سفارت کاروں پر ہونے والے حملے محض اتفاق نہیں تھے بلکہ ایک منظم مہم کا حصہ تھے۔ اگست 2008 میں جب مسلح افراد نے یونیورسٹی ٹاؤن میں قونصل جنرل لِن ٹریسی کی گاڑی کو گھیر کر اندھا دھند فائرنگ کی، تو یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ اب شہر کے گنجان علاقوں میں امریکی اہلکار محفوظ نہیں رہے۔ اسی سال نومبر میں یو ایس ایڈ کے ڈائریکٹر اسٹیفن وینس کو ان کے ڈرائیور سمیت قتل کر دیا گیا۔ اپریل 2010 میں پشاور نے وہ ہولناک دن دیکھا جب پانچ خودکش حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی اور راکٹوں کے ساتھ قونصل خانے کی عمارت پر دھاوا بول دیا۔ اس حملے میں 50 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور قونصل خانے کا دفاعی ڈھانچہ بری طرح لرز گیا۔ اس کے بعد بھی 2011 اور 2012 میں موٹر سائیکل بموں اور مارٹر شیلز کے ذریعے مسلسل حملے جاری رہے، جس نے واشنگٹن کو یہ باور کرا دیا کہ پشاور کے شہری علاقے میں سفارتی عملے کی موجودگی اب ایک ناقابلِ برداشت رسک ہے۔ یونیورسٹی ٹاؤن کا علاقہ برسوں تک ان خفیہ سرگرمیوں کا اصل گڑھ بنا رہا۔ چونکہ قونصل خانے کی مرکزی عمارت چھوٹی تھی، اس لئے امریکی عملے کی رہائش اور ترقیاتی سرگرمیوں کو یونیورسٹی ٹاؤن کے وسیع مکانات اور ولاز میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ یہ ولاز بظاہر عام رہائشی مکانات لگتے تھے لیکن ان کے اندر کا نظام انتہائی پیچیدہ اور دنیا کی نظروں سے اوجھل تھا۔ یہاں سی آئی اے کے اہلکار اور نجی سیکیورٹی فرمز کے کارندے مشکوک افراد کی نگرانی اور معلومات کا تبادلہ کرتے تھے۔ اسی نیٹ ورک کا ایک حصہ ریمنڈ ڈیوس جیسے متنازع کرداروں سے بھی جڑا تھا جن کے ان خفیہ کمپاؤنڈز سے روابط اکثر مقامی مقتدر حلقوں کے لئے شک کا باعث بنتے رہے۔ یو ایس ایڈ اور مختلف این جی اوز کی آڑ میں ہونے والے انٹیلی جنس روابط نے پشاور کے سماجی ڈھانچے پر بھی گہرے اثرات مرتب کئے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مئی 2026 میں اس مشن کو بند کرنے کا حتمی فیصلہ کیوں کیا گیا؟ اس کی بڑی وجہ بدلتی ہوئی امریکی ترجیحات ہیں۔ افغانستان سے انخلا کے بعد اب واشنگٹن کو پشاور میں اس قدر بڑے اور مہنگے مشن کی ضرورت نہیں رہی۔ مزید برآں، ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی وفاقی اداروں میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کا جو پروگرام شروع کیا ہے، اس کے تحت پشاور جیسے ریموٹ مشنز کا جواز ختم ہو گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس بندش سے امریکی خزانے کو سالانہ تقریباً 7.5 ملین ڈالر کی بچت ہوگی۔ اس کے علاوہ، حالیہ مہینوں میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی اور کراچی میں امریکی مشن پر ہونے والے حملوں نے سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس نے پشاور قونصل خانے کو بند کرنے کے عمل میں تیزی پیدا کر دی ہے۔ پشاور میں فزیکل موجودگی کے خاتمے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ امریکہ اس خطے سے مکمل طور پر لاتعلق ہو رہا ہے۔ اب امریکہ کی دلچسپی کا محور بوٹس آن گراؤنڈ کے بجائے ڈیجیٹل اور سیٹلائٹ مانیٹرنگ پر منتقل ہو چکا ہے۔ واشنگٹن اب جدید ترین فضائی نگرانی اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے وہی مقاصد حاصل کر رہا ہے جو پہلے پشاور میں بیٹھ کر حاصل کئے جاتے تھے۔ اس فیصلے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ عسکریت پسندوں کے لئے اب کوئی آسان اور فزیکل امریکی ہدف باقی نہیں رہے گا، جس سے پاکستان کے سیکیورٹی اداروں پر دباؤ میں کمی آئے گی۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ پشاور میں امریکی قونصل خانے کی یہ تاریخی بندش پاکستان اور افغانستان کے خطے میں امریکہ کے اس روایتی فرنٹ لائن اسٹیٹ والے کردار کے باقاعدہ خاتمے کا اعلان ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ اب اس خطے کو ماضی کی طرح جنگی مہم جوئی کے بجائے ایک انتہائی محدود اور دور رس سفارتی نظر سے دیکھنا چاہتا ہے۔پاکستان اور بالخصوص پشاور کے لئے یہ ایک بڑی نفسیاتی اور سیاسی تبدیلی ہے۔ وار آن ٹیرر اور افغان جہاد کے دوران پشاور جو عالمی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا تھا، اب اس فزیکل موجودگی کے ختم ہونے سے اس خطے کی وہ حیثیت بدل رہی ہے جسے بین الاقوامی میڈیا میں خطرناک ترین سرحد کہا جاتا تھا۔ یہ اس بات کی دستاویز ہے کہ اب امریکہ اس خطے کو براہِ راست مداخلت کے بجائے دور سے مانیٹر کرنا چاہتا ہے۔

پشاور میں امریکی قونصل خانے کی بندش: ایک تاریخی و تزویراتی تجزیہ

دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ پشاور سے امریکی پرچم کی رخصتی: سات دہائیوں پر محیط تزویراتی تعلق کا خاتمہ اور پاک-افغان سرحد پر بدلتی ہوئی عالمی بساط کا تجزیہ مئی 2026 کی ایک خاموش صبح پشاور میں امریکی پرچم کا باقاعدہ مزید پڑھیں

یو اے ای سے مخصوص افراد کی بے دخلی کی خبریں من گھڑت ہیں، وفاقی وزارت داخلہ کی وضاحت پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو مکمل طور پر مسترد اور جعلی قرار دے دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے کسی خاص ملک یا فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو بے دخل کیا جا رہا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک باضابطہ اعلامئے میں دوٹوک الفاظ میں واضح کیا گیا ہے کہ یو اے ای میں کسی بھی ملک یا فرقے کے خلاف ایسی کوئی مخصوص ڈی پورٹیشن مہم نہیں چل رہی اور نہ ہی کسی خاص طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اعلامئے کے مطابق یو اے ای سے کسی بھی فرد کی بے دخلی کا عمل صرف اور صرف میزبان ملک کے قوانین کی خلاف ورزی، ویزا شرائط کی عدم پاسداری یا غیر قانونی دستاویزات رکھنے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جس کا کسی سیاسی یا مذہبی وابستگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وزارت داخلہ نے مزید واضح کیا کہ پاکستانی شہری بدستور متحدہ عرب امارات اور دیگر دوست ممالک میں ورک ویزے حاصل کر رہے ہیں اور روزگار کے سلسلے میں ان کی آمد و رفت کا سلسلہ معمول کے مطابق جاری ہے۔ حکومت پاکستان بیرون ملک مقیم اپنے شہریوں کے مسائل سے پوری طرح آگاہ ہے اور کسی بھی مشکل صورتحال میں متعلقہ ممالک کے ساتھ سفارتی ذرائع سے رابطہ کیا جاتا ہے، جبکہ پاکستانیوں سے متعلق ہر معاملے کو کیس ٹو کیس بنیاد پر میرٹ پر دیکھا جاتا ہے۔ وزارت داخلہ نے عوام اور میڈیا کو غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی جعلی خبریں محض بدنیتی اور مذموم مقاصد کے تحت پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ دوست ممالک کے ساتھ تعلقات اور تارکین وطن کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی جا سکے، لہٰذا صرف سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ خبروں پر ہی یقین کیا جائے۔

یو اے ای سے مخصوص افراد کی بے دخلی کی خبریں من گھڑت ہیں، وفاقی وزارت داخلہ کی وضاحت

پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو مکمل طور پر مسترد اور جعلی قرار دے دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے مزید پڑھیں

ایران کا تجارتی جہازوں پر ٹول ٹیکس کا مطالبہ: عالمی معیشت کے لئے نیا خطرہ پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) عالمی سیاست کے اہم ترین مرکز، اقوامِ متحدہ میں اس وقت شدید سفارتی جنگ چھڑ گئی ہے جب امریکی سفیر مائیک والٹز نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں سویلین جہازوں پر ٹول ٹیکس نافذ کرنے کے نئے نظام کو پوری دنیا کے لئے ایک سنگین چیلنج قرار دے دیا۔ سلامتی کونسل میں ایک اہم قرارداد کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی سفیر نے انکشاف کیا کہ ایران اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام سویلین تجارتی جہازوں سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ اس گزرگاہ کو استعمال کرنے کے عوض ٹول ادا کریں۔ مائیک والٹز نے واضح کیا کہ یہ صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایران کا یہ نیا انتظامی ڈھانچہ عالمی تجارتی نظام کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس قرارداد کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور قطر جیسے اہم علاقائی ممالک کی بھرپور حمایت حاصل ہے، جو ایران سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ تجارتی جہازوں پر حملے بند کرے اور اس نئے نظام کو فوری طور پر ختم کرے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان الزامات اور قرارداد کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے رکن ممالک کو ایک احتجاجی خط لکھا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کا موقف ہے کہ سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا قرارداد کا مسودہ ناقص، یک طرفہ اور حقائق کے منافی ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کی اصل وجہ وہ نظام نہیں جسے امریکہ نشانہ بنا رہا ہے، بلکہ اس کی اصل جڑیں خطے میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مسلسل فوجی جارحیت اور طاقت کا غیر قانونی استعمال ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ قرارداد کے مسودے میں ان اہم عوامل کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا جو خطے کی سلامتی کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ اس سفارتی تنازع کا پس منظر انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کو دنیا کی تیل کی شہ رگ تصور کیا جاتا ہے۔ خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع یہ تنگ سمندری راستہ دنیا کی کل پیٹرولیم تجارت کے تقریباً ایک تہائی حصے کی گزرگاہ ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت تجارتی جہازوں کو ایسی بین الاقوامی گزرگاہوں سے بلا روک ٹوک گزرنے کا حق حاصل ہے، اور اس پر کسی بھی قسم کا ٹیکس یا کنٹرول عالمی تجارتی قوانین کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے اور ایران اس گزرگاہ پر اپنا کنٹرول سخت کرتا ہے، تو اس کے براہِ راست اثرات عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں پر پڑیں گے، جس سے پوری دنیا میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، سلامتی کونسل میں اس معاملے پر بحث آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کے تعلقات میں مزید تلخی پیدا کر سکتی ہے جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر مرتب ہوں گے۔

ایران کا تجارتی جہازوں پر ٹول ٹیکس کا مطالبہ: عالمی معیشت کے لئے نیا خطرہ

پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) عالمی سیاست کے اہم ترین مرکز، اقوامِ متحدہ میں اس وقت شدید سفارتی جنگ چھڑ گئی ہے جب امریکی سفیر مائیک والٹز نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں سویلین جہازوں پر ٹول مزید پڑھیں

خیبر پختونخوا میں آٹے کا بحران: پنجاب سے سپلائی میں رکاوٹیں یا بین الصوبائی تنازع؟

خیبر پختونخوا میں آٹے کا بحران: پنجاب سے سپلائی میں رکاوٹیں یا بین الصوبائی تنازع؟

پشاور: خیبر پختونخوا میں ایک بار پھر آٹے کی قیمتوں کو پر لگ گئے ہیں۔ پنجاب سے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی ترسیل میں حائل رکاوٹوں نے صوبے کے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ گزشتہ مزید پڑھیں

پاک افغان سرحد پر بڑی پیش رفت: باجوڑ اور کنڑ کے قبائلی عمائدین کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے پشاور (دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں کشیدگی کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کیلئے ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ضلع باجوڑ اور افغانستان کے صوبہ کنڑ کے قبائلی عمائدین نے ایک تاریخی گرینڈ جرگے میں مکمل جنگ بندی اور مستقبل میں پائیدار تعاون کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اہم بیٹھک سرحدی مقام نوا پاس پر منعقد ہوئی، جو تاریخی اور تجارتی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس جرگے میں دونوں اطراف کے تقریباً 30 بااثر قبائلی عمائدین نے شرکت کی اور باقاعدہ طور پر امن معاہدے کی دستاویز پر دستخط کئے۔ پاکستانی وفد کی قیادت باجوڑ سے تعلق رکھنے والے حاجی لالی شاہ (صدر باجوڑ چیمبر آف کامرس) نے کی، جبکہ افغان وفد کی سربراہی صوبہ کنڑ کے حاجی ظاہر گل نے کی۔ اس جرگے کو مہمند اور دیگر قریبی سرحدی علاقوں کے قبائل کی بھی بھرپور حمایت حاصل تھی، جو طویل عرصے سے سرحد پر ہونے والی کشیدگی اور فائرنگ کے واقعات سے براہِ راست متاثر ہو رہے تھے۔ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والے اس دوستانہ جرگے میں ایک جامع امن فارمولے پر اتفاق کیا گیا، جس کے تحت سرحد کے دونوں جانب سے ہر قسم کی فائرنگ، گولہ باری اور دشمنی پر مبنی سرگرمیوں کو فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ معاہدے کے مطابق، مستقبل میں کسی بھی ہنگامی صورتحال یا غلط فہمی کو دور کرنے کیلئے ایک مشترکہ رابطہ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو دونوں اطراف کے درمیان پل کا کردار ادا کرے گی۔ جرگے نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ امن کی بدولت نوا پاس اور دیگر روایتی تجارتی راستوں کو کھولا جانا چاہئے تاکہ مقامی معیشت کو سہارا مل سکے۔ دونوں اطراف کے عمائدین نے عزم کیا کہ وہ اپنی اپنی حدود میں امن کو نقصان پہنچانے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کریں گے اور سرحدی پٹی پر آباد شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ تجزیہ کار اس معاہدے کو اس لئے بھی انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں کیونکہ یہ کسی حکومتی سطح کے بجائے خالصتاً قبائلی روایات اور پختونولی کے تحت عوامی سطح پر کیا گیا ہے۔ 2007 سے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند نوا پاس کے راستے کے حوالے سے یہ جرگہ ایک بڑا بریک تھرو ثابت ہو سکتا ہے۔ قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ سرحد کے دونوں پار بسنے والے قبائل ایک ہی سماج کا حصہ ہیں اور وہ مزید خونریزی یا معاشی بدحالی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس فیصلے سے نہ صرف باجوڑ اور کنڑ بلکہ پورے سرحدی بیلٹ میں امن کی نئی امید پیدا ہوئی ہے

پاک افغان سرحد پر بڑی پیش رفت: باجوڑ اور کنڑ کے قبائلی عمائدین کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے

پشاور (دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں کشیدگی کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کیلئے ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ضلع باجوڑ اور افغانستان کے صوبہ کنڑ کے قبائلی عمائدین نے ایک تاریخی مزید پڑھیں

شرم آنی چاہئے، جو خان کی رہائی کیلئے نہیں آ سکتے عہدے چھوڑ دیں: علیمہ خان بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے موقع پر علیمہ خان کا پارٹی رہنماؤں پر سخت برہمی کا اظہار اسلام اباد (دی خیبرٹائمزمینٹرنگ ڈٰسک) بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے دن پارٹی رہنماؤں اور ارکانِ اسمبلی کی عدم موجودگی پر سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مستعفی ہونے کا مشورہ دے دیا۔ اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا لہجہ خاصا تلخ دکھائی دیا۔ انہوں نے پارٹی کے منتخب نمائندوں کی غیر حاضری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جو لوگ آج اسمبلیوں میں بانی پی ٹی آئی کے نام اور ان کے ووٹوں کی بدولت بیٹھے ہیں، کیا انہیں آج یہاں اڈیالہ جیل کے باہر موجود نہیں ہونا چاہیے تھا؟ انہوں نے اسے لمحہ فکریہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جن کی پہچان عمران خان ہے، وہ ان سے اظہار یکجہتی کیلئے بھی نہیں پہنچے۔ اس موقع پر موجود پی ٹی آئی رہنما شاہد خٹک نے علیمہ خان کی ناراضگی کو کم کرنے کی کوشش کی اور وضاحت پیش کی کہ انہوں نے تمام متعلقہ فورمز پر پیغام پہنچا دیا تھا۔ شاہد خٹک کا کہنا تھا کہ میں نے آپ کا بیان اور ہدایات پارلیمانی گروپ اور خیبر پختونخوا کے ایم این ایز (MNAs) کے مخصوص گروپس میں شیئر کر دی تھیں۔ تمام ارکان کو تاکید کی گئی تھی کہ وہ اڈیالہ جیل پہنچیں۔ انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ اگلے ہفتے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اور صوبے کے تمام ارکانِ اسمبلی یہاں جیل کے باہر موجود ہوں گے۔ علیمہ خان شاہد خٹک کی وضاحتوں سے مطمئن نظر نہ آئیں اور انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جو لوگ مشکل وقت میں اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے، انہیں عہدوں پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا، کہ جن لوگوں نے بانی پی ٹی آئی کے نام پر ووٹ لئے، انہیں تھوڑی سی شرم کرنی چاہئے۔ اگر وہ اڈیالہ جیل نہیں آ سکتے اور اپنے قائد کیلئے آواز بلند نہیں کر سکتے، تو انہیں چاہئے کہ وہ اپنی سیٹیں اور عہدے چھوڑ کر گھر چلے جائیں۔ واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ملاقات کے مخصوص دنوں پر پارٹی قیادت اور کارکنان کی ایک بڑی تعداد عام طور پر وہاں جمع ہوتی ہے۔ تاہم، حالیہ دنوں میں پارٹی کے اندرونی حلقوں میں ارکانِ اسمبلی کی مبینہ سستی اور کم دلچسپی پر تنقید کی جا رہی ہے، جس کا اظہار آج علیمہ خان نے کھل کر کر دیا

شرم آنی چاہئے، جو خان کی رہائی کیلئے نہیں آ سکتے عہدے چھوڑ دیں: علیمہ خان

بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے موقع پر علیمہ خان کا پارٹی رہنماؤں پر سخت برہمی کا اظہار اسلام اباد (دی خیبرٹائمزمینٹرنگ ڈٰسک) بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اڈیالہ جیل مزید پڑھیں

خیبر پختونخوا میں علما کی ٹارگٹ کلنگ اور داعش کا بڑھتا ہوا خطرہ دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں مئی 2026 کے آغاز میں معروف عالم دین شیخ ادریس کی شہادت نے ایک بار پھر ریاست کے حفاظتی ڈھانچے اور انتہا پسند گروہوں کی بڑھتی ہوئی رسائی پر سنگین سوالات کھڑے کر دئے ہیں ۔ یہ واقعہ محض ایک انفرادی قتل نہیں ہے، بلکہ یہ اس طویل سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے تحت پاکستان، بالخصوص خیبر پختونخوا میں جید علما کرام اور مذہبی قیادت کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ پولیس کی جانب سے حسب معمول تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے، لیکن عوامی حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ ایسی تحقیقات محض سرکاری خزانے پر بوجھ ثابت ہوتی ہیں اور اصل مجرموں تک پہنچنے میں ناکام رہتی ہیں ۔ یہ رپورٹ شیخ ادریس کے پس منظر، ان کے سسر مولانا حسن جان کی شہادت، دارالعلوم حقانیہ کی قیادت پر حملوں، داعش (ISKP) کی پاکستان میں موجودگی، اور خطے میں جاری افراتفری کے بنیادی اسباب کا ایک مفصل اور تحقیقی جائزہ پیش کرتی ہے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس، جنہیں علمی حلقوں میں شیخ ادریس کے نام سے جانا جاتا تھا، 1961 میں ضلع چارسدہ کے گاؤں ترنگزئی میں پیدا ہوئے ۔ ان کا تعلق ایک ایسے علمی خاندان سے تھا جس کی جڑیں دارالعلوم دیوبند اور برصغیر کی عظیم مذہبی روایات میں پیوست تھیں ۔ ان کے والد، حکیم مولانا عبدالحق، اپنے دور کے ایک ممتاز عالم دین اور مناظرِ اسلام کے طور پر مشہور تھے، جبکہ ان کے دادا مفتی شہزادہ نے دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی تھی اور وہ ایک جید شیخ الحدیث تھے ۔ شیخ ادریس نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے گھر اور ترنگزئی کے مقامی مدارس سے حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے اعلیٰ مذہبی تعلیم (دورہ حدیث) کیلئے پاکستان کی مایہ ناز درسگاہ دارالعلوم حقانیہ، اکوڑہ خٹک کا رُخ کیا ۔ وہاں انہوں نے شیخ الحدیث مولانا عبدالحق اکوڑوی اور مفتی محمد فرید جیسے اکابرین سے استفادہ کیا ۔ مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ انہوں نے جدید تعلیم میں بھی مہارت حاصل کی اور پشاور یونیورسٹی سے عربی اور اسلامیات میں ایم اے کی ڈگری امتیازی نمبروں کے ساتھ حاصل کی ۔ ان کا پیشہ ورانہ سفر جامعہ نعمانیہ، عثمان زئی سے شروع ہوا، جہاں انہوں نے تقریباً 40 سال تک تدریس کے فرائض سرانجام دئے ۔ گزشتہ تین دہائیوں سے وہ صحیح البخاری اور جامع ترمذی جیسی اہم کتب پڑھا رہے تھے اور ایک وقت میں ان کے شاگردوں کی تعداد 2,400 سے زائد تھی ۔ شیخ ادریس محض ایک مدرس نہیں تھے بلکہ وہ سیاسی میدان میں بھی سرگرم عمل رہے۔ وہ جمعیت علمائے اسلام (ف) ضلع چارسدہ کے امیر اور سرپرست اعلیٰ رہے، اور 2002 سے 2007 کے درمیان خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن اور اسپیکر کے عہدے پر بھی فائز رہے ۔ ان کی شہادت کو خطے کے علمی اور سیاسی ماحول کیلئے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا جا رہا ہے ۔ شیخ ادریس بین الاقوامی سطح پر معروف عالم دین مولانا حسن جان مدنی کے داماد تھے ۔ مولانا حسن جان کی شہادت کا واقعہ 15 ستمبر 2007 کو پشاور کے علاقے وزیر باغ میں پیش آیا ۔ وہ پشاور کی مشہور درویش مسجد کے خطیب اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نائب صدر تھے ۔ مولانا حسن جان کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب کچھ نامعلوم افراد نے انہیں نکاح خوانی کے بہانے ساتھ لے جا کر گولیاں مار کر شہید کر دیا ۔ ان کی شہادت کی ایک بڑی وجہ ان کے معتدل مذہبی خیالات اور خودکش حملوں کے خلاف ان کے سخت فتاویٰ تھے ۔ انہوں نے 2001 میں اس وفد میں بھی شمولیت اختیار کی تھی جس نے افغانستان جا کر ملا عمر کو اسامہ بن لادن کی ملک بدری پر قائل کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ امریکی حملے سے بچا جا سکے ۔ ان کی شہادت نے اس وقت بھی یہ ثابت کر دیا تھا کہ دہشت گرد گروہ ایسے ہر عالم دین کے دشمن ہیں جو امن اور اعتدال کی بات کرتا ہے ۔ شیخ ادریس کی حالیہ شہادت نے اس نظریاتی دشمنی کو ایک بار پھر تازہ کر دیا ہے، کیونکہ شیخ ادریس بھی اپنے سسر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امن مذاکرات کے حامی تھے ۔ خیبر پختونخوا میں علما کی ٹارگٹ کلنگ کا ایک بڑا مرکز دارالعلوم حقانیہ رہا ہے، جسے طالبان کی نرسری بھی کہا جاتا ہے ۔ اس ادارے کے سربراہ اور طالبان کے روحانی باپ کہلانے والے مولانا سمیع الحق کو 2 نومبر 2018 کو راولپنڈی میں ان کی رہائش گاہ پر چاقو کے وار کر کے شہید کر دیا گیا تھا ۔ ان کی شہادت ایک معمہ بنی رہی، تاہم تجزیہ نگاروں کے مطابق اس کے پیچھے وہ گروہ ملوث تھے جو افغان امن عمل میں ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے خوفزدہ تھے ۔ مولانا سمیع الحق کے بعد ان کے بیٹے مولانا حامد الحق حقانی نے جمعیت علمائے اسلام (س) اور مدرسے کی ذمہ داریاں سنبھالیں ۔ لیکن 28 فروری 2025 کو دارالعلوم حقانیہ کے اندر ہی جمعہ کی نماز کے بعد ایک خودکش حملے میں مولانا حامد الحق کو بھی نشانہ بنایا گیا ۔ حملہ آور نے علمی لبادے میں ملبوس ہو کر خود کو ان کے قریب دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں وہ اور دیگر چھ نمازی شہید ہو گئے ۔ ان حملوں کا مقصد حقانیہ جیسے بااثر اداروں کی قیادت کو ختم کر کے ایک علمی خلا پیدا کرنا ہے ۔ مولانا حامد الحق کی شہادت کی ذمہ داری اگرچہ واضح طور پر کسی نے قبول نہیں کی تھی، لیکن سیکیورٹی اداروں کو داعش (ISKP) پر قوی شبہ تھا، کیونکہ وہ دیوبندی علما اور افغان طالبان کے حامیوں کو اپنا اولین دشمن تصور کرتی ہے ۔ شیخ ادریس کی شہادت کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ خراسان پروونس (ISKP) نے قبول کی ہے ۔ داعش کا پاکستان میں وجود ایک انتہائی سنگین خطرہ بن چکا ہے ۔ یہ تنظیم 2015 میں اس وقت وجود میں آئی جب تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر شدت پسند گروہوں کے کچھ ناراض کمانڈروں نے ابوبکر البغدادی کی بیعت کی ۔ داعش کا ابتدائی گڑھ مشرقی افغانستان (ننگرہار اور کنڑ) تھا، لیکن جلد ہی اس نے پاکستان کے سرحدی علاقوں اور شہری مراکز میں بھی اپنے قدم جما لئے ۔ داعش کا نظریہ "تکفیریت" پر مبنی ہے، جس کے تحت وہ ہر اس مسلمان کو واجب القتل قرار دیتے ہیں جو ان کی خلافت کے تصور کو تسلیم نہیں کرتا ۔ داعش نے جے یو آئی (ف) اور جے یو آئی (س) کے متعدد علما اور کارکنوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ جولائی 2023 میں باجوڑ میں جے یو آئی کے جلسے پر ہونے والا دھماکہ، جس میں 60 کے قریب افراد شہید ہوئے، داعش کی سب سے بڑی کارروائیوں میں سے ایک تھا ۔ داعش کا مقصد صرف پاکستان یا افغانستان نہیں بلکہ ایک عالمی خلافت کا قیام ہے، جو اسے تحریک طالبان پاکستان (جو ایک قوم پرست ایجنڈا رکھتی ہے) سے ممتاز کرتا ہے ۔ افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد، داعش خراسان (ISKP) کیلئے سب سے بڑا فوجی اور نظریاتی چیلنج بن کر ابھری ہے ۔ داعش کا دعویٰ ہے کہ طالبان نے امریکہ کے ساتھ دوحہ معاہدہ کر کے اسلام کے ساتھ غداری کی ہے ۔ پاکستان کے تناظر میں، داعش ان شدت پسندوں کیلئے ایک پرکشش پلیٹ فارم بن گئی ہے جو ٹی ٹی پی کی نئی پالیسیوں (جیسے عام شہریوں کو نشانہ نہ بنانا) سے مطمئن نہیں ہیں ۔ لہٰذا، داعش اب طالبان سے بھی زیادہ بے رحم اور غیر متوقع خطرہ بن چکی ہے ۔ داعش خراسان کی بنیاد جنوری 2015 میں رکھی گئی تھی ۔ اس کا پہلا امیر یا "والی" حافظ سعید خان اورکزئی تھا، جو ٹی ٹی پی کا سابق کمانڈر تھا، جو 2016 میں امریکی ڈرون حملے کا نشانہ بنے، حافظ سعید کی ہلاکت کے بعد عبدالحسیب لوگی مقرر ہوئے، وہ افغانستانن میں 2017 کو ایک چھاپے کے دوران مارے گئے۔، وقت کے ساتھ ساتھ اس کی قیادت میں تبدیلیاں آتی رہیں کیونکہ اکثر رہنما ڈرون حملوں یا فوجی آپریشنز میں مارے گئے ۔ اس کے بعد آئی ایس کے پی کے ثنااللہ (شہاب المہاجر)مقرر ہوئے، جو 2020 میں افغانستان کے دارالحکومت کابل ائیر پورٹ پر حملے کے ماسٹر مائنڈ بھی تھے تا حال آئی ایس کے پی کے امیر ہیں، ثناء اللہ غفاری، جو شہاب المہاجر کے نام سے جانا جاتا ہے، اس وقت داعش خراسان کا سب سے خطرناک رہنما تصور کیا جاتا ہے ۔ اس کی قیادت میں داعش نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور دیہی علاقوں کے بجائے شہری مراکز میں گوریلا حملوں اور ٹارگٹ کلنگ پر توجہ مرکوز کی ہے ۔ مئی 2019 میں داعش نے اپنی تنظیمی ساخت کو مزید پیچیدہ کرتے ہوئے پاکستان صوبہ (ISPP) کے نام سے ایک علیحدہ شاخ بھی قائم کی، تاکہ مقامی سطح پر بھرتیوں اور کارروائیوں کو بہتر بنایا جا سکے ۔ داعش کی جانب سے دیوبندی اور خاص طور پر جمعیت علمائے اسلام سے وابستہ علما کو نشانہ بنانے کی وجوہات گہری اور کثیر الجہتی ہیں ۔ داعش جمہوریت کو "کفر" قرار دیتی ہے، جبکہ جے یو آئی پاکستان کے پارلیمانی نظام کا حصہ ہے ۔ داعش جے یو آئی کو افغان طالبان کا سیاسی و نظریاتی بازو سمجھتی ہے ۔ چونکہ افغان طالبان افغانستان میں داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہے ہیں، اس لئے داعش پاکستان میں ان کے حامیوں کو نشانہ بنا کر بدلہ لیتی ہے ۔ داعش دیوبندی عقیدے کو قبر پرستوں اور مشرکوں کا عقیدہ قرار دے کر ان کے قتل کو شرعی طور پر جائز قرار دیتی ہے ۔ بااثر علما کے قتل سے معاشرے میں ایک ایسا سیاسی اور مذہبی خلا پیدا ہوتا ہے جسے داعش اپنے انتہا پسندانہ نظریات سے بھرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ پاکستان اس وقت جس افراتفری کا شکار ہے، اس کی جڑیں کئی دہائیوں پر محیط غلط پالیسیوں اور معاشی بحران میں پیوست ہیں ۔ فروری 2026 میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان براہ راست جنگ کا آغاز ہوا، جس نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے ۔ اس جنگ کا محرک 6 فروری 2026 کو اسلام آباد کی ایک شیعہ مسجد میں ہونے والا خودکش دھماکہ تھا جس میں 31 افراد جاں بحق ہوئے ۔ پاکستان نے اس کا الزام افغانستان میں پناہ گزین ٹی ٹی پی اور داعش کے ٹھکانوں پر لگایا اور 21 فروری کو آپریشن غضب للحقی (Operation Ghazab lil Haq) کے تحت ننگرہار اور پکتیکا میں فضائی حملے کئے ۔ اس جنگ نے نہ صرف سرحد پار کشیدگی میں اضافہ کیا بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے ۔ تجارتی راستوں کی بندش اور توانائی کے بحران نے مہنگائی کو ایک نئی بلند سطح پر پہنچا دیا ہے، جس سے عوام میں حکومت کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ علما کرام کی ٹارگٹ کلنگ محض پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ افغانستان میں بھی یہی صورتحال درپیش ہے ۔ افغانستان میں داعش نے طالبان کے حامی علما جیسے شیخ رحیم اللہ حقانی اور وزیرِ برائے مہاجرین حاجی خلیل الرحمن حقانی کو نشانہ بنایا ہے ۔ پاکستان میں صورتحال اس لئے زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ یہاں علما کو نہ صرف داعش بلکہ قوم پرست گروہوں اور بعض اوقات نامعلوم فرقہ وارانہ جتھوں سے بھی خطرہ رہتا ہے ۔ شمالی وزیرستان میں قاری سمیع الدین اور قاری نعمان جیسے علما کا قتل اس کی واضح مثال ہے، جو امن کی آواز اٹھانے پر نشانہ بنے ۔ پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد کی ایک طویل تاریخ ہے جو 1980 کی دہائی سے جاری ہے ۔ سپاہ صحابہ (SSP) اور لشکر جھنگوی جیسے گروہوں نے شیعہ برادری کو نشانہ بنایا، جبکہ سپاہ محمد (SMP) جیسے گروہوں نے انتقامی کارروائیاں کیں ۔ موجودہ دور میں داعش نے اس فرقہ وارانہ آگ کو مزید بھڑکایا ہے ۔ داعش نہ صرف شیعہ مساجد اور امام بارگاہوں پر حملے کرتی ہے بلکہ وہ ان سنی علما کو بھی نشانہ بناتی ہے جو بین المسالک ہم آہنگی کی بات کرتے ہیں ۔ اگست 2024 میں پنجاب سے لشکر جھنگوی، سپاہ محمد اور داعش پاکستان کے جنگجوؤں کی بیک وقت گرفتاری یہ ظاہر کرتی ہے کہ فرقہ وارانہ تنظیمیں اب ایک دوسرے کے ساتھ نظریاتی یا تزویراتی اتحاد بنا رہی ہیں تاکہ ریاست کو کمزور کیا جا سکے ۔ شیخ ادریس کی شہادت اور مئی 2026 کے حالات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے ۔ داعش کی بڑھتی ہوئی طاقت اور 2026 کی پاک افغان جنگ نے ملک کے داخلی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ پولیس کی تحقیقات محض کاغذی کارروائیوں تک محدود رہنے کی وجہ یہ ہے کہ دہشت گرد گروہ اب ریاست کے سیکیورٹی میکانزم سے زیادہ جدید اور منظم ہو چکے ہیں ۔ جب تک ریاست اپنی "تزویراتی گہرائی" کی پالیسیوں پر نظرثانی نہیں کرتی اور افغانستان کے ساتھ ایک پائیدار امن معاہدے تک نہیں پہنچتی، علما اور معصوم شہریوں کا خون اسی طرح بہتا رہے گا ۔ شیخ ادریس جیسے علما کا جانا محض ایک خاندان کا دکھ نہیں بلکہ ایک پوری علمی روایت کا خاتمہ ہے، جو معاشرے میں انتہا پسندی کے خلاف ایک مضبوط ڈھال کے طور پر کام کر رہی تھی ۔ ان کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والے علمی اور سیاسی خلا کو اگر جلد پر نہ کیا گیا تو داعش جیسے گروہ نوجوان نسل کو گمراہ کرنے میں مزید کامیاب ہو جائیں گے ۔

خیبر پختونخوا میں علما کی ٹارگٹ کلنگ اور داعش کا بڑھتا ہوا خطرہ

دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں مئی 2026 کے آغاز میں معروف عالم دین شیخ ادریس کی شہادت نے ایک بار پھر ریاست کے حفاظتی ڈھانچے اور انتہا پسند گروہوں کی بڑھتی ہوئی رسائی پر سنگین مزید پڑھیں

بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست 'فضول' قرار، وکیل کو جرمانہ راولپنڈی (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک): انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی درخواست 'غیر ضروری اور فضول' قرار دے کر خارج کر دی۔ عدالت نے درخواست گزار وکیل پر 10 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا۔ وکیل فیصل ملک نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں ملاقات کی استدعا کی تھی۔ عدالت نے حکم دیا کہ جرمانہ ڈسٹرکٹ بار راولپنڈی کی ڈسپینسری میں جمع کرایا جائے۔ یہ رقم غریب مریضوں کے علاج پر خرچ ہوگی۔ سماعت کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں کا طریقہ کار اسلام آباد ہائیکورٹ طے کر چکی ہے۔ ٹرائل کورٹ ہائیکورٹ کے احکامات کے برعکس کوئی نیا حکم جاری نہیں کر سکتی۔ عدالتی فیصلے کے مطابق عمران خان جی ایچ کیو حملہ کیس میں ضمانت پر ہیں اور وہ اس وقت جوڈیشل تحویل میں نہیں ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دئے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے پہلے بھی دو درخواستیں دائر ہو چکی ہیں۔ درخواست گزار متعلقہ فورم پر جانے کے بجائے بار بار عدالت کا وقت ضائع کر رہا ہے۔ عدالت نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ غیر سنجیدہ درخواستوں کے ذریعے وقت کا ضیاع ناقابل قبول ہے۔

بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست ‘فضول’ قرار، وکیل کو جرمانہ

راولپنڈی (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک): انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی درخواست ‘غیر ضروری اور فضول’ قرار دے کر خارج کر دی۔ عدالت نے درخواست گزار وکیل پر 10 ہزار مزید پڑھیں

کراچی پولیس کی کارروائی: این ڈی ایم سندھ کے صدر اور جنرل سیکرٹری سمیت کئی رہنما زیرِ حراست کراچی: این ڈی ایم سندھ کی قیادت کی گرفتاری، محسن داوڑ کا شدید ردعمل اور فوری رہائی کا مطالبہ کراچی میں پولیس نے نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (این ڈی ایم) سندھ کے صوبائی صدر محمد شیر، جنرل سیکرٹری غفور ایڈوکیٹ، سیکرٹری اطلاعات حمدان خان اور کلچرل سیکرٹری ابرار محسود کو گرفتار کر لیا ہے جس پر سیاسی حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، اس حوالے سے این ڈی ایم کی مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین محسن داوڑ نے اپنے ایک سخت بیان میں ان گرفتاریوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی شرمناک اور غیر جمہوری اقدام قرار دیا ہے، محسن داوڑ کا کہنا ہے کہ این ڈی ایم سندھ کی قیادت شمالی وزیرستان کے علاقے درپہ خیل میں ملک سیف اللہ کے بہیمانہ قتل کے خلاف ایک پرامن احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتی تھی لیکن انتظامیہ نے جمہوری حق تسلیم کرنے کے بجائے قیادت کو ہی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا ہے جو کہ سراسر زیادتی ہے، انہوں نے واضح کیا کہ پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس طرح کے جبر سے عوامی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، محسن داوڑ نے مطالبہ کیا کہ گرفتار کیے گئے تمام صوبائی عہدیداروں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے کیونکہ وہ صرف اپنے علاقے میں ہونے والی ناانصافیوں اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے، پارٹی ذرائع کے مطابق ان گرفتاریوں کے باوجود امن اور انصاف کے لیے ان کی جدوجہد جاری رہے گی اور وہ اس واقعے کے خلاف قانونی اور سیاسی راستہ اختیار کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

کراچی: این ڈی ایم سندھ کی قیادت کی گرفتاری، محسن داوڑ کا شدید ردعمل اور فوری رہائی کا مطالبہ

کراچی میں پولیس نے نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (این ڈی ایم) سندھ کے صوبائی صدر محمد شیر، جنرل سیکرٹری غفور ایڈوکیٹ، سیکرٹری اطلاعات حمدان خان اور کلچرل سیکرٹری ابرار محسود کو گرفتار کر لیا ہے جس پر سیاسی حلقوں میں شدید مزید پڑھیں