خیبر پختونخوا میں علما کی ٹارگٹ کلنگ اور داعش کا بڑھتا ہوا خطرہ دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں مئی 2026 کے آغاز میں معروف عالم دین شیخ ادریس کی شہادت نے ایک بار پھر ریاست کے حفاظتی ڈھانچے اور انتہا پسند گروہوں کی بڑھتی ہوئی رسائی پر سنگین سوالات کھڑے کر دئے ہیں ۔ یہ واقعہ محض ایک انفرادی قتل نہیں ہے، بلکہ یہ اس طویل سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے تحت پاکستان، بالخصوص خیبر پختونخوا میں جید علما کرام اور مذہبی قیادت کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ پولیس کی جانب سے حسب معمول تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے، لیکن عوامی حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ ایسی تحقیقات محض سرکاری خزانے پر بوجھ ثابت ہوتی ہیں اور اصل مجرموں تک پہنچنے میں ناکام رہتی ہیں ۔ یہ رپورٹ شیخ ادریس کے پس منظر، ان کے سسر مولانا حسن جان کی شہادت، دارالعلوم حقانیہ کی قیادت پر حملوں، داعش (ISKP) کی پاکستان میں موجودگی، اور خطے میں جاری افراتفری کے بنیادی اسباب کا ایک مفصل اور تحقیقی جائزہ پیش کرتی ہے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس، جنہیں علمی حلقوں میں شیخ ادریس کے نام سے جانا جاتا تھا، 1961 میں ضلع چارسدہ کے گاؤں ترنگزئی میں پیدا ہوئے ۔ ان کا تعلق ایک ایسے علمی خاندان سے تھا جس کی جڑیں دارالعلوم دیوبند اور برصغیر کی عظیم مذہبی روایات میں پیوست تھیں ۔ ان کے والد، حکیم مولانا عبدالحق، اپنے دور کے ایک ممتاز عالم دین اور مناظرِ اسلام کے طور پر مشہور تھے، جبکہ ان کے دادا مفتی شہزادہ نے دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی تھی اور وہ ایک جید شیخ الحدیث تھے ۔ شیخ ادریس نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے گھر اور ترنگزئی کے مقامی مدارس سے حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے اعلیٰ مذہبی تعلیم (دورہ حدیث) کیلئے پاکستان کی مایہ ناز درسگاہ دارالعلوم حقانیہ، اکوڑہ خٹک کا رُخ کیا ۔ وہاں انہوں نے شیخ الحدیث مولانا عبدالحق اکوڑوی اور مفتی محمد فرید جیسے اکابرین سے استفادہ کیا ۔ مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ انہوں نے جدید تعلیم میں بھی مہارت حاصل کی اور پشاور یونیورسٹی سے عربی اور اسلامیات میں ایم اے کی ڈگری امتیازی نمبروں کے ساتھ حاصل کی ۔ ان کا پیشہ ورانہ سفر جامعہ نعمانیہ، عثمان زئی سے شروع ہوا، جہاں انہوں نے تقریباً 40 سال تک تدریس کے فرائض سرانجام دئے ۔ گزشتہ تین دہائیوں سے وہ صحیح البخاری اور جامع ترمذی جیسی اہم کتب پڑھا رہے تھے اور ایک وقت میں ان کے شاگردوں کی تعداد 2,400 سے زائد تھی ۔ شیخ ادریس محض ایک مدرس نہیں تھے بلکہ وہ سیاسی میدان میں بھی سرگرم عمل رہے۔ وہ جمعیت علمائے اسلام (ف) ضلع چارسدہ کے امیر اور سرپرست اعلیٰ رہے، اور 2002 سے 2007 کے درمیان خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن اور اسپیکر کے عہدے پر بھی فائز رہے ۔ ان کی شہادت کو خطے کے علمی اور سیاسی ماحول کیلئے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا جا رہا ہے ۔ شیخ ادریس بین الاقوامی سطح پر معروف عالم دین مولانا حسن جان مدنی کے داماد تھے ۔ مولانا حسن جان کی شہادت کا واقعہ 15 ستمبر 2007 کو پشاور کے علاقے وزیر باغ میں پیش آیا ۔ وہ پشاور کی مشہور درویش مسجد کے خطیب اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نائب صدر تھے ۔ مولانا حسن جان کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب کچھ نامعلوم افراد نے انہیں نکاح خوانی کے بہانے ساتھ لے جا کر گولیاں مار کر شہید کر دیا ۔ ان کی شہادت کی ایک بڑی وجہ ان کے معتدل مذہبی خیالات اور خودکش حملوں کے خلاف ان کے سخت فتاویٰ تھے ۔ انہوں نے 2001 میں اس وفد میں بھی شمولیت اختیار کی تھی جس نے افغانستان جا کر ملا عمر کو اسامہ بن لادن کی ملک بدری پر قائل کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ امریکی حملے سے بچا جا سکے ۔ ان کی شہادت نے اس وقت بھی یہ ثابت کر دیا تھا کہ دہشت گرد گروہ ایسے ہر عالم دین کے دشمن ہیں جو امن اور اعتدال کی بات کرتا ہے ۔ شیخ ادریس کی حالیہ شہادت نے اس نظریاتی دشمنی کو ایک بار پھر تازہ کر دیا ہے، کیونکہ شیخ ادریس بھی اپنے سسر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امن مذاکرات کے حامی تھے ۔ خیبر پختونخوا میں علما کی ٹارگٹ کلنگ کا ایک بڑا مرکز دارالعلوم حقانیہ رہا ہے، جسے طالبان کی نرسری بھی کہا جاتا ہے ۔ اس ادارے کے سربراہ اور طالبان کے روحانی باپ کہلانے والے مولانا سمیع الحق کو 2 نومبر 2018 کو راولپنڈی میں ان کی رہائش گاہ پر چاقو کے وار کر کے شہید کر دیا گیا تھا ۔ ان کی شہادت ایک معمہ بنی رہی، تاہم تجزیہ نگاروں کے مطابق اس کے پیچھے وہ گروہ ملوث تھے جو افغان امن عمل میں ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے خوفزدہ تھے ۔ مولانا سمیع الحق کے بعد ان کے بیٹے مولانا حامد الحق حقانی نے جمعیت علمائے اسلام (س) اور مدرسے کی ذمہ داریاں سنبھالیں ۔ لیکن 28 فروری 2025 کو دارالعلوم حقانیہ کے اندر ہی جمعہ کی نماز کے بعد ایک خودکش حملے میں مولانا حامد الحق کو بھی نشانہ بنایا گیا ۔ حملہ آور نے علمی لبادے میں ملبوس ہو کر خود کو ان کے قریب دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں وہ اور دیگر چھ نمازی شہید ہو گئے ۔ ان حملوں کا مقصد حقانیہ جیسے بااثر اداروں کی قیادت کو ختم کر کے ایک علمی خلا پیدا کرنا ہے ۔ مولانا حامد الحق کی شہادت کی ذمہ داری اگرچہ واضح طور پر کسی نے قبول نہیں کی تھی، لیکن سیکیورٹی اداروں کو داعش (ISKP) پر قوی شبہ تھا، کیونکہ وہ دیوبندی علما اور افغان طالبان کے حامیوں کو اپنا اولین دشمن تصور کرتی ہے ۔ شیخ ادریس کی شہادت کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ خراسان پروونس (ISKP) نے قبول کی ہے ۔ داعش کا پاکستان میں وجود ایک انتہائی سنگین خطرہ بن چکا ہے ۔ یہ تنظیم 2015 میں اس وقت وجود میں آئی جب تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر شدت پسند گروہوں کے کچھ ناراض کمانڈروں نے ابوبکر البغدادی کی بیعت کی ۔ داعش کا ابتدائی گڑھ مشرقی افغانستان (ننگرہار اور کنڑ) تھا، لیکن جلد ہی اس نے پاکستان کے سرحدی علاقوں اور شہری مراکز میں بھی اپنے قدم جما لئے ۔ داعش کا نظریہ "تکفیریت" پر مبنی ہے، جس کے تحت وہ ہر اس مسلمان کو واجب القتل قرار دیتے ہیں جو ان کی خلافت کے تصور کو تسلیم نہیں کرتا ۔ داعش نے جے یو آئی (ف) اور جے یو آئی (س) کے متعدد علما اور کارکنوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ جولائی 2023 میں باجوڑ میں جے یو آئی کے جلسے پر ہونے والا دھماکہ، جس میں 60 کے قریب افراد شہید ہوئے، داعش کی سب سے بڑی کارروائیوں میں سے ایک تھا ۔ داعش کا مقصد صرف پاکستان یا افغانستان نہیں بلکہ ایک عالمی خلافت کا قیام ہے، جو اسے تحریک طالبان پاکستان (جو ایک قوم پرست ایجنڈا رکھتی ہے) سے ممتاز کرتا ہے ۔ افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد، داعش خراسان (ISKP) کیلئے سب سے بڑا فوجی اور نظریاتی چیلنج بن کر ابھری ہے ۔ داعش کا دعویٰ ہے کہ طالبان نے امریکہ کے ساتھ دوحہ معاہدہ کر کے اسلام کے ساتھ غداری کی ہے ۔ پاکستان کے تناظر میں، داعش ان شدت پسندوں کیلئے ایک پرکشش پلیٹ فارم بن گئی ہے جو ٹی ٹی پی کی نئی پالیسیوں (جیسے عام شہریوں کو نشانہ نہ بنانا) سے مطمئن نہیں ہیں ۔ لہٰذا، داعش اب طالبان سے بھی زیادہ بے رحم اور غیر متوقع خطرہ بن چکی ہے ۔ داعش خراسان کی بنیاد جنوری 2015 میں رکھی گئی تھی ۔ اس کا پہلا امیر یا "والی" حافظ سعید خان اورکزئی تھا، جو ٹی ٹی پی کا سابق کمانڈر تھا، جو 2016 میں امریکی ڈرون حملے کا نشانہ بنے، حافظ سعید کی ہلاکت کے بعد عبدالحسیب لوگی مقرر ہوئے، وہ افغانستانن میں 2017 کو ایک چھاپے کے دوران مارے گئے۔، وقت کے ساتھ ساتھ اس کی قیادت میں تبدیلیاں آتی رہیں کیونکہ اکثر رہنما ڈرون حملوں یا فوجی آپریشنز میں مارے گئے ۔ اس کے بعد آئی ایس کے پی کے ثنااللہ (شہاب المہاجر)مقرر ہوئے، جو 2020 میں افغانستان کے دارالحکومت کابل ائیر پورٹ پر حملے کے ماسٹر مائنڈ بھی تھے تا حال آئی ایس کے پی کے امیر ہیں، ثناء اللہ غفاری، جو شہاب المہاجر کے نام سے جانا جاتا ہے، اس وقت داعش خراسان کا سب سے خطرناک رہنما تصور کیا جاتا ہے ۔ اس کی قیادت میں داعش نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور دیہی علاقوں کے بجائے شہری مراکز میں گوریلا حملوں اور ٹارگٹ کلنگ پر توجہ مرکوز کی ہے ۔ مئی 2019 میں داعش نے اپنی تنظیمی ساخت کو مزید پیچیدہ کرتے ہوئے پاکستان صوبہ (ISPP) کے نام سے ایک علیحدہ شاخ بھی قائم کی، تاکہ مقامی سطح پر بھرتیوں اور کارروائیوں کو بہتر بنایا جا سکے ۔ داعش کی جانب سے دیوبندی اور خاص طور پر جمعیت علمائے اسلام سے وابستہ علما کو نشانہ بنانے کی وجوہات گہری اور کثیر الجہتی ہیں ۔ داعش جمہوریت کو "کفر" قرار دیتی ہے، جبکہ جے یو آئی پاکستان کے پارلیمانی نظام کا حصہ ہے ۔ داعش جے یو آئی کو افغان طالبان کا سیاسی و نظریاتی بازو سمجھتی ہے ۔ چونکہ افغان طالبان افغانستان میں داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہے ہیں، اس لئے داعش پاکستان میں ان کے حامیوں کو نشانہ بنا کر بدلہ لیتی ہے ۔ داعش دیوبندی عقیدے کو قبر پرستوں اور مشرکوں کا عقیدہ قرار دے کر ان کے قتل کو شرعی طور پر جائز قرار دیتی ہے ۔ بااثر علما کے قتل سے معاشرے میں ایک ایسا سیاسی اور مذہبی خلا پیدا ہوتا ہے جسے داعش اپنے انتہا پسندانہ نظریات سے بھرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ پاکستان اس وقت جس افراتفری کا شکار ہے، اس کی جڑیں کئی دہائیوں پر محیط غلط پالیسیوں اور معاشی بحران میں پیوست ہیں ۔ فروری 2026 میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان براہ راست جنگ کا آغاز ہوا، جس نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے ۔ اس جنگ کا محرک 6 فروری 2026 کو اسلام آباد کی ایک شیعہ مسجد میں ہونے والا خودکش دھماکہ تھا جس میں 31 افراد جاں بحق ہوئے ۔ پاکستان نے اس کا الزام افغانستان میں پناہ گزین ٹی ٹی پی اور داعش کے ٹھکانوں پر لگایا اور 21 فروری کو آپریشن غضب للحقی (Operation Ghazab lil Haq) کے تحت ننگرہار اور پکتیکا میں فضائی حملے کئے ۔ اس جنگ نے نہ صرف سرحد پار کشیدگی میں اضافہ کیا بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے ۔ تجارتی راستوں کی بندش اور توانائی کے بحران نے مہنگائی کو ایک نئی بلند سطح پر پہنچا دیا ہے، جس سے عوام میں حکومت کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ علما کرام کی ٹارگٹ کلنگ محض پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ افغانستان میں بھی یہی صورتحال درپیش ہے ۔ افغانستان میں داعش نے طالبان کے حامی علما جیسے شیخ رحیم اللہ حقانی اور وزیرِ برائے مہاجرین حاجی خلیل الرحمن حقانی کو نشانہ بنایا ہے ۔ پاکستان میں صورتحال اس لئے زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ یہاں علما کو نہ صرف داعش بلکہ قوم پرست گروہوں اور بعض اوقات نامعلوم فرقہ وارانہ جتھوں سے بھی خطرہ رہتا ہے ۔ شمالی وزیرستان میں قاری سمیع الدین اور قاری نعمان جیسے علما کا قتل اس کی واضح مثال ہے، جو امن کی آواز اٹھانے پر نشانہ بنے ۔ پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد کی ایک طویل تاریخ ہے جو 1980 کی دہائی سے جاری ہے ۔ سپاہ صحابہ (SSP) اور لشکر جھنگوی جیسے گروہوں نے شیعہ برادری کو نشانہ بنایا، جبکہ سپاہ محمد (SMP) جیسے گروہوں نے انتقامی کارروائیاں کیں ۔ موجودہ دور میں داعش نے اس فرقہ وارانہ آگ کو مزید بھڑکایا ہے ۔ داعش نہ صرف شیعہ مساجد اور امام بارگاہوں پر حملے کرتی ہے بلکہ وہ ان سنی علما کو بھی نشانہ بناتی ہے جو بین المسالک ہم آہنگی کی بات کرتے ہیں ۔ اگست 2024 میں پنجاب سے لشکر جھنگوی، سپاہ محمد اور داعش پاکستان کے جنگجوؤں کی بیک وقت گرفتاری یہ ظاہر کرتی ہے کہ فرقہ وارانہ تنظیمیں اب ایک دوسرے کے ساتھ نظریاتی یا تزویراتی اتحاد بنا رہی ہیں تاکہ ریاست کو کمزور کیا جا سکے ۔ شیخ ادریس کی شہادت اور مئی 2026 کے حالات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے ۔ داعش کی بڑھتی ہوئی طاقت اور 2026 کی پاک افغان جنگ نے ملک کے داخلی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ پولیس کی تحقیقات محض کاغذی کارروائیوں تک محدود رہنے کی وجہ یہ ہے کہ دہشت گرد گروہ اب ریاست کے سیکیورٹی میکانزم سے زیادہ جدید اور منظم ہو چکے ہیں ۔ جب تک ریاست اپنی "تزویراتی گہرائی" کی پالیسیوں پر نظرثانی نہیں کرتی اور افغانستان کے ساتھ ایک پائیدار امن معاہدے تک نہیں پہنچتی، علما اور معصوم شہریوں کا خون اسی طرح بہتا رہے گا ۔ شیخ ادریس جیسے علما کا جانا محض ایک خاندان کا دکھ نہیں بلکہ ایک پوری علمی روایت کا خاتمہ ہے، جو معاشرے میں انتہا پسندی کے خلاف ایک مضبوط ڈھال کے طور پر کام کر رہی تھی ۔ ان کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والے علمی اور سیاسی خلا کو اگر جلد پر نہ کیا گیا تو داعش جیسے گروہ نوجوان نسل کو گمراہ کرنے میں مزید کامیاب ہو جائیں گے ۔

خیبر پختونخوا میں علما کی ٹارگٹ کلنگ اور داعش کا بڑھتا ہوا خطرہ

دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں مئی 2026 کے آغاز میں معروف عالم دین شیخ ادریس کی شہادت نے ایک بار پھر ریاست کے حفاظتی ڈھانچے اور انتہا پسند گروہوں کی بڑھتی ہوئی رسائی پر سنگین مزید پڑھیں

بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست 'فضول' قرار، وکیل کو جرمانہ راولپنڈی (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک): انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی درخواست 'غیر ضروری اور فضول' قرار دے کر خارج کر دی۔ عدالت نے درخواست گزار وکیل پر 10 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا۔ وکیل فیصل ملک نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں ملاقات کی استدعا کی تھی۔ عدالت نے حکم دیا کہ جرمانہ ڈسٹرکٹ بار راولپنڈی کی ڈسپینسری میں جمع کرایا جائے۔ یہ رقم غریب مریضوں کے علاج پر خرچ ہوگی۔ سماعت کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں کا طریقہ کار اسلام آباد ہائیکورٹ طے کر چکی ہے۔ ٹرائل کورٹ ہائیکورٹ کے احکامات کے برعکس کوئی نیا حکم جاری نہیں کر سکتی۔ عدالتی فیصلے کے مطابق عمران خان جی ایچ کیو حملہ کیس میں ضمانت پر ہیں اور وہ اس وقت جوڈیشل تحویل میں نہیں ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دئے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے پہلے بھی دو درخواستیں دائر ہو چکی ہیں۔ درخواست گزار متعلقہ فورم پر جانے کے بجائے بار بار عدالت کا وقت ضائع کر رہا ہے۔ عدالت نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ غیر سنجیدہ درخواستوں کے ذریعے وقت کا ضیاع ناقابل قبول ہے۔

بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست ‘فضول’ قرار، وکیل کو جرمانہ

راولپنڈی (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک): انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی درخواست ‘غیر ضروری اور فضول’ قرار دے کر خارج کر دی۔ عدالت نے درخواست گزار وکیل پر 10 ہزار مزید پڑھیں

کراچی پولیس کی کارروائی: این ڈی ایم سندھ کے صدر اور جنرل سیکرٹری سمیت کئی رہنما زیرِ حراست کراچی: این ڈی ایم سندھ کی قیادت کی گرفتاری، محسن داوڑ کا شدید ردعمل اور فوری رہائی کا مطالبہ کراچی میں پولیس نے نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (این ڈی ایم) سندھ کے صوبائی صدر محمد شیر، جنرل سیکرٹری غفور ایڈوکیٹ، سیکرٹری اطلاعات حمدان خان اور کلچرل سیکرٹری ابرار محسود کو گرفتار کر لیا ہے جس پر سیاسی حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، اس حوالے سے این ڈی ایم کی مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین محسن داوڑ نے اپنے ایک سخت بیان میں ان گرفتاریوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی شرمناک اور غیر جمہوری اقدام قرار دیا ہے، محسن داوڑ کا کہنا ہے کہ این ڈی ایم سندھ کی قیادت شمالی وزیرستان کے علاقے درپہ خیل میں ملک سیف اللہ کے بہیمانہ قتل کے خلاف ایک پرامن احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتی تھی لیکن انتظامیہ نے جمہوری حق تسلیم کرنے کے بجائے قیادت کو ہی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا ہے جو کہ سراسر زیادتی ہے، انہوں نے واضح کیا کہ پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس طرح کے جبر سے عوامی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، محسن داوڑ نے مطالبہ کیا کہ گرفتار کیے گئے تمام صوبائی عہدیداروں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے کیونکہ وہ صرف اپنے علاقے میں ہونے والی ناانصافیوں اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے، پارٹی ذرائع کے مطابق ان گرفتاریوں کے باوجود امن اور انصاف کے لیے ان کی جدوجہد جاری رہے گی اور وہ اس واقعے کے خلاف قانونی اور سیاسی راستہ اختیار کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

کراچی: این ڈی ایم سندھ کی قیادت کی گرفتاری، محسن داوڑ کا شدید ردعمل اور فوری رہائی کا مطالبہ

کراچی میں پولیس نے نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (این ڈی ایم) سندھ کے صوبائی صدر محمد شیر، جنرل سیکرٹری غفور ایڈوکیٹ، سیکرٹری اطلاعات حمدان خان اور کلچرل سیکرٹری ابرار محسود کو گرفتار کر لیا ہے جس پر سیاسی حلقوں میں شدید مزید پڑھیں

ڈرون حملے بند نہ ہوئے تو اسلام آباد مارچ ہوگا، واپسی امن تک نہیں ہوگی: وزیر اعلیٰ کا دوٹوک اعلان پشاور( دی خیبنرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی سربراہی میں وزیر اعلیٰ ہاؤس میں لویہ جرگہ منعقد ہوا، جس میں مسلسل ڈرون حملوں اور بدامنی کے خاتمے کے لئے مشترکہ لائحہ عمل کی تشکیل پر تفصیلی غور اور مشاورت کی گئی۔ جرگے میں قبائلی اضلاع اور صوبے کے حقوق پر بھی تفصیلی مشاورت کی گئی اور ان کے حصول کے لئے ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے پر اتفاق کیا گیا۔ جرگہ میں قبائلی اضلاع کے منتخب نمائندے اور مشران، سینیٹرز، اپوزیشن اراکین اسمبلی، علمائے کرام اور عمائدین نے شرکت کی۔ لویہ جرگہ میں ڈرون حملوں میں خواتین بچوں اور بزرگوں کی شہادت کے واقعات کی شدید مذمت کی گئی۔ جرگہ کے تمام شرکاءنے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مذاکرات کا مطالبہ کیا جس پر جرگہ سفارشات کی روشنی میں وزیر اعلٰی نے مذاکرات کو ایک اور موقع دینے کا اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے لویہ جرگہ میں شرکت کے لئے آنے والے اراکین کے ساتھ چیک پوسٹوں پر روا رکھے گئے ناروا سلوک پر شدید افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ چیک پوسٹس پر یہی رویہ عوام میں بے چینی اور نفرت کو جنم دے رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لویہ جرگہ اراکین نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک مختصر جرگہ تشکیل دیا جائے گا جو وفاقی حکومت و دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کرے گا۔ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جائیگا اور امن تک واپسی نہیں ہوگی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج سے ڈرون اٹیکس کی روک تھام کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں گے۔ شرپسند عناصر نے ملاکنڈ میں دوبارہ داخل ہونے کی کوشش کی مگر عوام نے انہیں مسترد کر دیاہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں اگر آج عوام نہ اٹھے تو امن کا خواب پورا نہیں ہوگا۔ وزیر اعلی نے واضح کیا کہ صوبائی کابینہ کے پہلے اجلاس میں ایکشن ان ایڈ آف سول پاور جیسے کالے قانون کو واپس لینے کا فیصلہ کیا مگر 970 افراد جن کو یہ کہتے ہیں کہ دہشتگرد ہیں ، انہیں مختلف ڈیٹینشن سنٹرز میں رکھا ہوا جس کا کسی کو کوئی علم نہیں ہے۔ صوبائی حکومت نے ان 970 افراد کی لسٹ مانگی، خطوط لکھے مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ زیر حراست افراد کی فہرست موجود ہو تو ہر شخص کا مکمل حساب رکھا جا سکتا ہے۔ وزیر اعلی نے واضح کیا کہ زیر حراست افراد کی فہرست موجود نہ ہونے کی صورت میں بیانیہ تشکیل دیا جائے گا کہ صوبائی حکومت دہشتگردوں کی معاونت کر رہی ہے اور اس بیانیہ میں ہم کبھی انہیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ محمد سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ 22 بڑے فوجی آپریشنز اور 14 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہو چکی ہیں۔ تمام وسائل کے باوجود امن قائم کرنے میں ناکامی تشویشناک ہے، امن کے قیام میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ یہی وسائل اُن کے حوالے کئے جائیں تو وہ سو دن کے اندر صوبے میں امن کے قیام کی ضمانت دیتے ہیں۔ وزیر اعلی نے کہا کہ قبائلی نوجوانوں کو اشتعال کی طرف دھکیلا جا رہا ہے تاکہ انہیں نشانہ بنایا جا سکے، تاہم ہم ہر حال میں اپنی جدوجہد پرامن رکھیں گے۔ ہم پرامن لوگ ہیں اور ظلم کے خلاف اپنی جدوجہد پرامن طریقے سے جاری رکھیں گے۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ جو قانون اور آئین کی پاسداری نہیں کرتے تو ہمیں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ مالی ناانصافیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب فاٹا انضمام ہوا تو ہمارے ساتھ 100 ارب روپے سالانہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر اس مد میں ضم اضلاع کے ابتک 800 ارب روپے بنتے ہیں جن میں سے صرف 168 ارب روپے دیئے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ضم اضلاع کی آبادی کا حصہ شامل کیا جائے تو این ایف سی میں خیبرپختونخوا کا حصہ 14.6 سے بڑھ کر 19 فیصد ہو جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لویہ جرگہ کی سفارشات کی روشنی میں تشکیل دیا جانے والا مختصر جرگہ ان مالی اور آئینی حقوق کے لئے بھی جدوجہد کرے گا۔

ڈرون حملے بند نہ ہوئے تو اسلام آباد مارچ ہوگا، واپسی امن تک نہیں ہوگی: وزیر اعلیٰ کا دوٹوک اعلان

پشاور( دی خیبنرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی سربراہی میں وزیر اعلیٰ ہاؤس میں لویہ جرگہ منعقد ہوا، جس میں مسلسل ڈرون حملوں اور بدامنی کے خاتمے کے لئے مشترکہ لائحہ عمل کی تشکیل پر مزید پڑھیں

شمالی وزیرستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، قبائلی رہنما ملک سیف اللہ خان داوڑ جاں بحق درپہ خیل میں ٹارگٹڈ حملہ، علاقے میں خوف و کشیدگی، ملزمان کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن شروع میرانشاہ ( دی خیبر ٹائمز نیوز ڈیسک) شمالی وزیرستان میں امن و امان کی صورتحال ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئی ہے جہاں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے معروف قبائلی رہنما ملک سیف اللہ خان داوڑ جاں بحق ہوگئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق افسوسناک واقعہ میرانشاہ کے علاقے درپہ خیل میں پیش آیا جہاں مسلح افراد نے ملک سیف اللہ خان داوڑ کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جاں بحق قبائلی رہنما کی لاش بعد ازاں ڈی ایچ کیو ہسپتال میرانشاہ منتقل کر دی گئی جہاں ضروری قانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔ واقعے کے فوراً بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ مقامی لوگوں میں شدید تشویش دیکھی جا رہی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دئے ہیں، جبکہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر حملے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دے کر اس کے محرکات جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لئے درپہ خیل اور گردونواح کے علاقوں میں سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا گیا ہے جبکہ داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندیاں سخت کر دی گئی ہیں۔ قبائلی عمائدین اور مقامی شہریوں نے قبائلی رہنما کے قتل پر گہرے دکھ اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری انصاف اور قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں ایک بار پھر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نے عوام میں عدم تحفظ کی لہر دوڑا دی ہے۔ ملک سیف اللہ خان داوڑ کو علاقے میں ایک بااثر قبائلی شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا اور ان کی اچانک موت کی خبر کے بعد مختلف حلقوں میں سوگ کی فضا قائم ہے۔

شمالی وزیرستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، قبائلی رہنما ملک سیف اللہ خان داوڑ جاں بحق

شمالی وزیرستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، قبائلی رہنما ملک سیف اللہ خان داوڑ جاں بحق درپہ خیل میں ٹارگٹڈ حملہ، علاقے میں خوف و کشیدگی، ملزمان کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن شروع میرانشاہ ( دی خیبر ٹائمز نیوز ڈیسک) مزید پڑھیں

پشاور میں 30 کروڑ کے ٹھیکے پر مبینہ بندر بانٹ، 31 ٹھیکیدار نظر انداز پشاور میں خیبرپختونخوا حکومت کے لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں ایک اور بڑے مالی اسکینڈل نے سر اٹھا لیا ہے جہاں 30 کروڑ روپے کے ترقیاتی ٹھیکے میں مبینہ طور پر میرٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹاؤن ون پشاور میں جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص یہ خطیر رقم ایک ایسے ٹھیکیدار کے حوالے کر دی گئی جسے صوبائی وزیر کا منظورِ نظر قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹھیکے کی تقسیم کے دوران ایک بااثر اعلیٰ افسر نے دیگر ٹھیکہ داروں پر دباؤ ڈالا کہ وہ مخصوص ٹھیکیدار کے حق میں دستبردار ہو جائیں تاکہ تمام کام ایک ہی فرد کے سپرد کیا جا سکے۔ اس مبینہ دباؤ کے بعد ٹھیکیدار برادری میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے اور معاملہ اب کھل کر تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پشاور کے 31 مقامی ٹھیکیداروں کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے صرف ایک ٹھیکیدار کو نوازا جانا کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ ناقدین اسے نہ صرف میرٹ کا قتل قرار دے رہے ہیں بلکہ اسے سرکاری خزانے کی منظم بندر بانٹ بھی کہا جا رہا ہے۔ ٹھیکیدار برادری کا مؤقف ہے کہ اگر مقابلے کا شفاف عمل اپنایا جاتا تو درجنوں مقامی کنٹریکٹرز کو بھی مساوی مواقع مل سکتے تھے، مگر یہاں تمام قواعد و ضوابط کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ اس اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں کرپشن کے نئے دروازے کھلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے میرٹ، شفافیت اور احتساب کے بلند بانگ دعوے اس معاملے کے بعد سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔ سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر 30 کروڑ روپے کے ٹھیکے میں اس نوعیت کی مداخلت ہو سکتی ہے تو پھر دیگر ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت بھی مشکوک ہو جاتی ہے۔ دوسری جانب معاملہ صرف ٹھیکے کی تقسیم تک محدود نہیں رہا بلکہ پشاور میں ٹھیکہ داروں اور متعلقہ ایکسیئن کے درمیان تنازع بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق متاثرہ ٹھیکہ داروں نے مشترکہ مشاورت کے بعد پیر کے روز پشاور پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں وہ مبینہ حکومتی دباؤ، دھمکیوں، اقربا پروری اور جاری مالی بے ضابطگیوں سے نہ صرف پردہ اٹھائیں گے، بلکہ اس بندر بانٹ میں تمام ان وزیروں مشیروں، سرکاری افسران اور ٹھیکیداروں کے نام بھی منظر عام پر لائینگے۔ میڈیا کے سامنے رکھ دینگے۔ ٹھیکہ دار برادری کا کہنا ہے کہ اگر ان کے تحفظات نہ سنے گئے تو وہ نہ صرف احتجاجی تحریک شروع کریں گے بلکہ متعلقہ محکمے کے خلاف قانونی کارروائی کا راستہ بھی اختیار کریں گے۔ یوں خیبرپختونخوا حکومت کیلئے ایک اور کرپشن اسکینڈل سیاسی دردِ سر بنتا جا رہا ہے۔

پشاور میں 30 کروڑ کے ٹھیکے پر مبینہ بندر بانٹ، 31 ٹھیکیدار نظر انداز

پشاور میں خیبرپختونخوا حکومت کے لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں ایک اور بڑے مالی اسکینڈل نے سر اٹھا لیا ہے جہاں 30 کروڑ روپے کے ترقیاتی ٹھیکے میں مبینہ طور پر میرٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی سامنے آئی ہے۔ ذرائع مزید پڑھیں

وانا سکیورٹی بحران: کمزور پولیس اور دہشت گردی کی نئی لہر جنوبی وزیرستان( دی خیبرٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک) ضلع لوئر جنوبی وزیرستان کا ہیڈ کوارٹر وانا اس وقت ایک ایسے سنگین سکیورٹی بحران کی زد میں ہے جہاں ریاست کی دفاعی لکیر یعنی پولیس فورس خود اندرونی خلفشار اور وسائل کی کمی کا شکار ہو چکی ہے۔ ایک طرف دہشت گردی کی نئی لہر نے سر اٹھایا ہے تو دوسری طرف انکشاف ہوا ہے کہ منظور شدہ سینکڑوں آسامیوں کے برعکس میدانِ عمل میں صرف 200 کے قریب اہلکار ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں، جس نے پورے علاقے کو ایک غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے۔ اس بحران کی جڑیں صرف دہشت گردی تک محدود نہیں بلکہ محکمے کے اندر پھیلی مبینہ بدعنوانی اور اہلکاروں کے معاشی استحصال میں پیوست ہیں، پولیس ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں سے ماہانہ 15 سے 25 ہزار روپے تک کی کٹوتی کی جا رہی ہے، جبکہ اہم چیک پوسٹوں پر تعیناتی کے لئے بھی رشوت طلب کی جاتی ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ گزشتہ تین سالوں سے جوانوں کو سرکاری وردی، بوٹ اور ضروری حفاظتی سامان تک فراہم نہیں کیا گیا، جس کے باعث اہلکار شدید مایوسی کا شکار ہو کر یا تو ڈیوٹی سے بددل ہو چکے ہیں یا پھر نجی مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ سیاسی و قبائلی رہنماؤں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوام کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ اگر حکومت نے فوری طور پر ان کالی بھیڑوں کا محاسبہ نہ کیا جو فورس کو کمزور کر رہی ہیں، اور اہلکاروں کو بنیادی سہولیات فراہم نہ کیں، تو وانا میں امن و امان کا خواب ادھورا رہ جائے گا اور عوام کا ریاست پر اعتماد مزید متزلزل ہو جائے گا۔

وانا سکیورٹی بحران: کمزور پولیس اور دہشت گردی کی نئی لہر

جنوبی وزیرستان( دی خیبرٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک) ضلع لوئر جنوبی وزیرستان کا ہیڈ کوارٹر وانا اس وقت ایک ایسے سنگین سکیورٹی بحران کی زد میں ہے جہاں ریاست کی دفاعی لکیر یعنی پولیس فورس خود اندرونی خلفشار اور وسائل کی کمی مزید پڑھیں

قانون کی زنجیریں اور بے زبان قیدی: لنڈی کوتل کے درخت سے چارسدہ کے دروازوں تک تحریر: ناصر داوڑ خیبر پختونخوا کی مٹی اپنے سینے میں جہاں بہادری اور مزاحمت کی داستانیں چھپائے ہوئے ہے، وہیں یہاں کچھ ایسی انوکھی تاریخی نشانیاں بھی موجود ہیں جو برطانوی راج کے عجیب و غریب فیصلوں اور طاقت کے نشے کی عکاسی کرتی ہیں۔ قبائلی ضلع خیبر کی وادی ہو یا چارسدہ کے زرخیز میدان، یہاں اجنبی حکمرانوں نے صرف انسانوں کو ہی پابندِ سلاسل نہیں کیا بلکہ درختوں اور دروازوں کو بھی "باغی" قرار دے کر زنجیروں میں جکڑ دیا۔ لنڈی کوتل: وہ درخت جو سوا صدی سے قید ہے لنڈی کوتل کی تاریخی فوجی چھاؤنی (کینٹ) میں داخل ہوں تو ایک بوڑھا اخروٹ کا درخت ہر آنے والے کا استقبال کرتا ہے۔ اس درخت کی شاخیں اب پھل نہیں دیتیں، مگر اس کے تنے کے گرد لپٹی بھاری بھرکم زنجیریں اور اس پر نصب تختی جس پر انگریزی میں "I am under arrest" (میں زیرِ حراست ہوں) لکھا ہے، ایک مضحکہ خیز مگر تلخ داستان سناتی ہے۔ یہ واقعہ 1898 کا ہے جب ایک برطانوی فوجی افسر نشے کی حالت میں یہاں سے گزر رہا تھا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے یہ درخت اپنی جگہ سے ہل کر اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس بغاوت پر افسر نے اسے مجرم قرار دے کر سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس درخت کو فوراً گرفتار کیا جائے۔ آج 125 سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود وہ زنجیریں اسی طرح موجود ہیں، جو برطانوی راج کے اس تکبر کی یاد دلاتی ہیں جہاں ایک افسر کا وہم بھی قانون بن جاتا تھا۔ لنڈی کوتل سے کچھ فاصلے پر چارسدہ کے علاقے شبقدر میں موجود ایف سی قلعہ (شنکر گڑھ) ایک اور انوکھی سزا کا گواہ ہے۔ اس قلعے کے بھاری بھرکم لکڑی کے دروازے آج بھی موٹی زنجیروں اور تالوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ مقامی روایات کے مطابق، برطانوی دور میں ان دروازوں کو بھی قیدی بنا دیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ کسی مہم یا حملے کے دوران یہ دروازے بروقت بند نہ ہو سکے تھے، جس پر برطانوی حکام نے انہیں غفلت اور نافرمانی کا مرتکب قرار دے کر تاحکمِ ثانی زنجیروں سے جکڑنے کا حکم دے دیا۔ آج یہ مقفل دروازے اس دور کے اس آمرانہ نظام کی گواہی دے رہے ہیں جہاں جزا و سزا کا تصور منطق اور عقل سے بالاتر تھا۔ تاریخ دان ان واقعات کو محض اتفاق یا کسی افسر کی انفرادی حرکت کے طور پر نہیں دیکھتے۔ دراصل، یہ نوآبادیاتی طاقت کا ایک گہرا نفسیاتی حربہ تھا۔ سرحد کے ان علاقوں میں جہاں قبائلی حریت پسندی انگریزوں کے لئے مستقل دردِ سر تھی، وہاں اس قسم کے اقدامات کا مقصد ایک خاموش اور خوفناک پیغام دینا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب اس خطے پر ایف سی آر (Frontier Crimes Regulation) جیسا سیاہ قانون مسلط کیا گیا تھا۔ جس طرح لنڈی کوتل کے درخت کو زنجیروں میں جکڑا گیا اور چارسدہ کے دروازوں کو تالے لگائے گئے، اسی طرح ایف سی آر کے ذریعے پورے قبائل کو اجتماعی ذمہ داری کی زنجیروں میں جکڑ کر ان کی زبانوں پر تالے لگا دئے گئے تھے۔ نوآبادیاتی حکمران یہ جتانا چاہتے تھے کہ، جب برطانوی راج کے قانون سے بے زبان درخت اور بے جان دروازے نہیں بچ سکتے، تو بغاوت کرنے والے انسانوں کا انجام کیا ہوگا؟ یہ زنجیریں دراصل اس نوآبادیاتی ذہنیت کی علامت تھیں جو قانون کے نام پر جبر کو جائز سمجھتی تھی۔ آج یہ درخت اور دروازے صرف سیاحتی مقامات نہیں بلکہ عبرت کے نشان ہیں۔ یہاں آنے والے سیاح ہوں یا مقامی شہری، سب کے ذہن میں ایک ہی سوال ابھرتا ہے کہ کیا اب ان بے زبانوں کو آزادی نہیں ملنی چاہیے؟ وقت بدل گیا، سلطنتیں ختم ہو گئیں اور برطانوی راج قصہ پارینہ بن گیا، مگر یہ زنجیریں آج بھی ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ جب اختیار اور طاقت کے ساتھ عقل کا دامن چھوٹ جائے، تو فیصلے تاریخ کے صفحات پر تمسخر بن کر رہ جاتے ہیں۔ لنڈی کوتل کا گرفتار درخت اور چارسدہ کے مقفل دروازے آج بھی اپنی آزادی کے منتظر ہیں، یا شاید وہ اسی حال میں رہ کر ہمیں ماضی کی تلخ حقیقتیں سنانا چاہتے ہیں۔

قانون کی زنجیریں اور بے زبان قیدی: لنڈی کوتل کے درخت سے چارسدہ کے دروازوں تک

تحریر: ناصر داوڑ خیبر پختونخوا کی مٹی اپنے سینے میں جہاں بہادری اور مزاحمت کی داستانیں چھپائے ہوئے ہے، وہیں یہاں کچھ ایسی انوکھی تاریخی نشانیاں بھی موجود ہیں جو برطانوی راج کے عجیب و غریب فیصلوں اور طاقت کے مزید پڑھیں

پاک فضائیہ کی افغانستان میں کارروائی، پاک افغان سرحدی خطہ دوبارہ جنگ کے دہانے پر گزشتہ روز پاک افغان سرحد ایک بار پھر آگ اور دھویں میں ڈوب گئی۔ کئی ہفتوں کی نسبتاً خاموش مگر بے یقینی سے بھری فضا کے بعد پاکستان نے افغانستان کے اندر متعدد حساس مقامات پر تازہ فضائی کارروائیاں کیں اور اس کے چند ہی گھنٹوں بعد امارت اسلامی افغانستان نے سرحدی پٹی کے ساتھ زمینی جوابی حملے شروع کر دئے۔ چمن سے سپن بولدک تک، باجوڑ سے کنڑ تک، مہمند سے ننگرہار تک اور خیبر و کرم کے پہاڑی راستوں تک رات بھر دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں۔ سرحد کے دونوں جانب آباد ہزاروں خاندان ایک بار پھر خوف کے عالم میں جاگتے رہے۔ مقامی لوگوں کے لئے یہ اب کوئی نیا منظر نہیں رہا مگر ہر نئی بمباری کے ساتھ ان کے دلوں میں یہ احساس اور گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ یہ جنگ اب محض سرحدی کشیدگی نہیں بلکہ ایک ایسے مسلسل تصادم میں بدل رہی ہے جس کا دائرہ کسی بھی وقت وسیع ہو سکتا ہے۔ پاکستانی عسکری ذرائع کے مطابق تازہ فضائی حملے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کا حصہ تھے جن میں افغانستان کے اندر ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے تحریک طالبان پاکستان، اس کے معاون جنگجو اور بعض دیگر شدت پسند گروہ پاکستان کے اندر حملوں کی تیاری کر رہے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کنڑ، ننگرہار، پکتیا، خوست، پکتیکا اور سپن بولدک کے اطراف کم از کم پندرہ سے بیس مقامات پر جنگی طیاروں اور مسلح ڈرونز نے بمباری کی۔ بعض مقامات پر زیر زمین اسلحہ ڈپو، لاجسٹک سرنگیں، عارضی تربیتی مراکز اور مواصلاتی مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ پاکستانی فوج کی طرف سے باضابطہ مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں لیکن غیر رسمی بریفنگ میں یہ ضرور کہا گیا کہ حملے صرف انہی مقامات پر کئے گئے جہاں پاکستان کے خلاف فوری خطرات موجود تھے۔ افغانستان کی امارت اسلامی نے ان حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک بار پھر اپنی ناکام داخلی پالیسیوں کا ملبہ افغان سرزمین پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ افغان وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق بمباری سے شہری آبادی کے قریب متعدد علاقے متاثر ہوئے اور چند مقامات پر رہائشی ڈھانچوں کو بھی نقصان پہنچا۔ افغان حکام نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے حملے صرف عسکری نہیں بلکہ سیاسی پیغام بھی ہیں کیونکہ اسلام آباد کابل پر دباؤ بڑھا کر اسے اپنی شرائط تسلیم کرانا چاہتا ہے۔ تاہم امارت اسلامی نے واضح کر دیا کہ وہ خاموش نہیں رہے گی اور اسی اعلان کے چند گھنٹوں بعد سرحدی علاقوں میں جوابی زمینی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سب سے پہلے بلوچستان کے چمن اور سپن بولدک سیکٹر میں شدید فائرنگ رپورٹ ہوئی۔ سرحدی چوکیوں پر مارٹر گولے داغے گئے اور پاکستانی فورسز نے توپخانے سے جواب دیا۔ قلعہ عبداللہ اور گلستان کے نزدیک رات گئے فوجی نقل و حرکت بڑھ گئی۔ ادھر خیبر پختونخوا میں باجوڑ کے لوئی ماموند، غاخی پاس، چارمنگ اور سالارزئی بیلٹ میں سرحد پار سے مارٹر گولے گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ کئی دیہات کے مکین گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات کی طرف چلے گئے۔ مہمند کے پنڈیالی اور یکہ غنڈ سیکٹر میں بھی فائرنگ کا تبادلہ ہوا جبکہ خیبر کے باڑہ اور تیراہ کے پہاڑی راستوں پر سکیورٹی الرٹ بڑھا دیا گیا۔ کرم کے خرلاچی اور پاراچنار کے نزدیک مقامی لوگوں نے توپوں کی گھن گرج سنی۔ افغان ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ امارت اسلامی کے جنگجوؤں نے چند پاکستانی سرحدی تنصیبات کو براہ راست نشانہ بنایا اور بعض مقامات پر پاکستانی فورسز کو پسپا ہونے پر مجبور کیا جبکہ پاکستانی حکام نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ سرحد کے دونوں طرف بسنے والے عام لوگوں کے لئے یہ تمام دعوے اور جوابی دعوے اب صرف خبروں کی زبان نہیں رہے بلکہ روزمرہ زندگی کی حقیقت بن چکے ہیں۔ باجوڑ کے سرحدی گاؤں میں لوگوں کا کہنا ہے کہ رات بھر بچوں کو سلا نہ سکے۔ مویشی کھلے چھوڑنے پڑے۔ خواتین خوف سے قرآن ہاتھ میں لے کر بیٹھیں۔ چمن میں تجارتی منڈی کے دکانداروں نے بتایا کہ سرحد پر دھماکوں کی آواز کے ساتھ ہی سامان اتارنے والے مزدور بھاگ گئے۔ سپن بولدک میں افغان خاندانوں نے اپنے گھروں سے ضروری اشیا نکال کر محفوظ جگہوں پر منتقل کرنا شروع کر دیا۔ کنڑ اور ننگرہار میں بھی کئی دیہات سے نقل مکانی کی اطلاعات ہیں۔ سرحدی آبادی کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ یہ جنگ آخر کب رکے گی کیونکہ ہر نئی کارروائی کے بعد اگلے جواب کا خوف پہلے سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ تازہ جھڑپیں دراصل فروری میں شروع ہونے والے اس عسکری سلسلے کی توسیع ہیں جسے پاکستان نے آپریشن غضب الحق کا نام دیا تھا۔ ابتدا میں اسے ایک محدود دفاعی اقدام قرار دیا گیا تھا مگر چند ہی ہفتوں میں یہ واضح ہو گیا کہ پاکستان اپنی مغربی سرحد پر پالیسی کی مکمل تبدیلی کر چکا ہے۔ اب اسلام آباد محض سفارتی احتجاج یا سرحدی بندش تک محدود نہیں بلکہ افغانستان کے اندر گہرائی تک جا کر ان مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے جنہیں وہ ٹی ٹی پی اور اس کے سہولت کاروں کے مراکز سمجھتا ہے۔ پاکستانی سکیورٹی اداروں کے مطابق 2025 میں ملک کے اندر دہشتگردی میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ اسلام آباد کی مسجد میں خودکش دھماکہ، باجوڑ اور شمالی قبائلی اضلاع میں سکیورٹی چوکیوں پر حملے، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان ، کرک اور کوہاٹ بیلٹ میں مسلسل خونریزی نے فوجی قیادت کو اس نتیجے پر پہنچایا کہ محض دفاعی حصار کافی نہیں رہا۔ اسی سوچ کے تحت فروری کے آخری ہفتے سے پاکستان نے افغانستان کے اندر وسیع فضائی اہداف کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ عسکری ذرائع کے مطابق اب تک مختلف مراحل میں پچاس سے زائد مقامات ٹارگٹ کئے جا چکے ہیں جن میں کنڑ، ننگرہار، پکتیا، خوست، پکتیکا، قندھار اور کابل کے مضافات تک شامل ہیں۔ ان کارروائیوں میں طالبان کے بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، ٹی ٹی پی کے تربیتی مراکز، سرحدی اسلحہ ڈپو، لاجسٹک نیٹ ورک، سرنگی راستے اور مواصلاتی مراکز شامل بتائے گئے۔ پاکستانی فوج کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں نے سرحد پار حملہ آور نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور ان کی نقل و حرکت محدود کر دی ہے۔ دوسری طرف افغان طالبان اسے کھلی جنگ قرار دے رہے ہیں اور مسلسل یہ بیانیہ دے رہے ہیں کہ پاکستان شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہاں ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ اس جنگ کا میدان صرف فوجی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی بن چکا ہے۔ پاکستان ہر حملے کے ذریعے یہ پیغام دے رہا ہے کہ اب وہ ٹی ٹی پی کے معاملے پر مزید برداشت نہیں کرے گا۔ افغان امارت ہر جوابی شیلنگ کے ذریعے یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ وہ پاکستان کے دباؤ میں نہیں آئے گی۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں جانب عسکری نقصان سے زیادہ بیانیاتی برتری کی جنگ لڑی جا رہی ہے۔ پاکستانی میڈیا میں اسے قومی سلامتی کی جنگ کہا جا رہا ہے جبکہ افغان حلقے اسے خود مختاری کے دفاع کی لڑائی قرار دے رہے ہیں۔ اس بیانیاتی جنگ کے بیچ سرحدی عوام پِس رہے ہیں۔ معاشی سطح پر اس تصادم نے حالات مزید خراب کر دئے ہیں۔ طورخم اور چمن کی گزرگاہیں مسلسل دباؤ میں ہیں۔ ہزاروں تجارتی کنٹینر پھنسے ہوئے ہیں۔ افغان پھل، سبزیاں اور خشک میوہ خراب ہو رہا ہے۔ پاکستانی برآمد کنندگان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ چمن کے مزدور طبقے کے لئے روزگار تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ سپن بولدک کے افغان تاجروں کا کہنا ہے کہ کاروبار آدھا نہیں بلکہ تقریباً بند ہو چکا ہے۔ سرحدی تجارت پر انحصار کرنے والے خاندان اب قرض اور امداد کے سہارے جی رہے ہیں۔ جنگ کا ایک محاذ توپوں سے کھلا ہے تو دوسرا محاذ بھوک اور بے روزگاری نے کھول رکھا ہے۔ سفارتی سطح پر صورتحال اس لئے زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ چند ہی روز قبل امید کی ایک ہلکی سی کرن دکھائی دی تھی۔ چین کے شہر ارومچی میں ہونے والے سہ فریقی رابطوں کے بعد پہلی بار ایسا محسوس ہوا تھا کہ اسلام آباد اور کابل شاید کشیدگی کو کم کرنے کے لئے کسی درمیانی راستے پر آمادہ ہو رہے ہیں۔ ان مذاکرات کے بعد افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی کا بیان غیر معمولی حد تک نرم اور مثبت تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ تنازعات کے حل، تجارت کی بحالی اور سرحدی اعتماد سازی کے لئے سنجیدہ ہے۔ اسی بیان نے خطے میں یہ تاثر پیدا کیا کہ شاید دونوں ممالک مسلسل محاذ آرائی سے تھک چکے ہیں اور اب سفارت کاری کو موقع دیا جائے گا۔ پاکستان میں بھی بعض حلقوں نے اسے ایک مثبت موڑ قرار دیا اور کہا کہ اگر کابل ٹی ٹی پی کے مسئلے پر کم از کم علامتی تعاون دکھا دے تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ مگر کل کی تازہ فضائی بمباری اور اس کے جواب میں ہونے والی زمینی کارروائیوں نے ارومچی کے بعد پیدا ہونے والی وہ تمام امیدیں تقریباً منجمد کر دی ہیں۔ اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ان مذاکراتی کوششوں کا مستقبل کیا ہوگا۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ جب ایک فریق جنگی طیارے بھیج رہا ہو اور دوسرا فریق سرحدی توپخانہ چلا رہا ہو تو مذاکراتی میز پر اعتماد کی فضا قائم نہیں رہتی۔ ارومچی عمل کی اصل بنیاد اعتماد سازی تھی مگر کل کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ارادوں پر اب بھی شدید بداعتماد ہیں۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ کابل نے مثبت بیانات تو دئے مگر عملی طور پر ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی فیصلہ کن قدم نہیں اٹھایا۔ کابل سمجھتا ہے کہ اسلام آباد سفارتی بات چیت کو صرف دباؤ بڑھانے کے لئے استعمال کر رہا ہے اور اصل پالیسی عسکری ہے۔ اس باہمی شکوک نے مذاکراتی عمل کو کمزور کر دیا ہے۔ اس کے باوجود یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ارومچی عمل مکمل طور پر مر چکا ہے۔ چین جیسی علاقائی طاقت اس تصادم کو لمبا نہیں دیکھنا چاہے گی کیونکہ اس سے نہ صرف سی پیک کی توسیع بلکہ پورے خطے کے تجارتی منصوبے متاثر ہوتے ہیں۔ اسی لئے امکان یہی ہے کہ بیجنگ، دوحہ اور شاید انقرہ دوبارہ دونوں ملکوں کو رابطے پر لانے کی کوشش کریں گے۔ لیکن اب مذاکرات پہلے جیسے نرم ماحول میں نہیں ہوں گے۔ اب ہر ملاقات کے پیچھے تازہ خون، تباہ شدہ چیک پوسٹیں، خوفزدہ آبادی اور شدید بداعتمادی کی دیوار کھڑی ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بات چیت دوبارہ شروع بھی ہوئی تو وہ امن کے رومانوی وعدوں کے ساتھ نہیں بلکہ ایک سرد جنگی حقیقت کے سائے میں ہوگی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ کل کے واقعات نے پاک افغان تعلقات کو پھر اس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں بندوق کی آواز سفارت کاری سے زیادہ بلند سنائی دے رہی ہے۔ ارومچی مذاکرات نے جو مختصر سا دروازہ کھولا تھا وہ ابھی مکمل بند نہیں ہوا مگر اس کے پٹ ایک بار پھر بارود کے دھماکوں سے لرز اٹھے ہیں۔ اب فیصلہ دونوں دارالحکومتوں کو کرنا ہے کہ وہ اس دروازے کو کھلا رکھتے ہیں یا اسے مکمل جنگ کے اندھیرے میں بند کر دیتے ہیں۔ فی الحال سرحد پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس بات کی علامت ہے کہ امن کی امید ابھی زندہ تو ہے مگر شدید زخمی حالت میں۔

پاک فضائیہ کی افغانستان میں کارروائی، پاک افغان سرحدی خطہ دوبارہ جنگ کے دہانے پر

تحریر:ناصر داوڑ گزشتہ روز پاک افغان سرحد ایک بار پھر آگ اور دھویں میں ڈوب گئی۔ کئی ہفتوں کی نسبتاً خاموش مگر بے یقینی سے بھری فضا کے بعد پاکستان نے افغانستان کے اندر متعدد حساس مقامات پر تازہ فضائی مزید پڑھیں