خیبر پختونخوا میں ریستی رٹ کا چیلینج، عسکری نیٹ ورکس کی بحالی، انتقامی خلا اور مقامی ابادی پر اثرات کا تنقیدی مطالعہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی ابتر صورتحال محض ایک مقامی انتظامی تعطل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک وسیع تر علاقائی تزویراتی بحران کا شاخسانہ ہے جس نے ریاست کی رٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کی دوبارہ آمد کے بعد سے، کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر عسکری دھڑوں کی کارروائیوں میں جو غیر معمولی تیزی آئی ہے، اس نے صوبے کے کونے کونے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق، عسکریت پسندوں کے حملوں کی تعداد جو 2021 میں محض 282 تھی، غیر معمولی رفتار سے بڑھتی ہوئی 2024 میں 1,758 سالانہ تک جا پہنچی ہے ۔ یہ خوفناک رجحان ظاہر کرتا ہے کہ عسکریت پسندوں نے نہ صرف جدید ترین امریکی ساختہ نائٹ ویژن اور تھرمل آلات تک رسائی حاصل کر لی ہے، بلکہ وہ سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ اس عسکری پھیلاؤ کے نتیجے میں صوبے میں سیکیورٹی فورسز شدید دباؤ کا شکار ہیں، ریاستی عملداری بری طرح متاثر ہوئی ہے، اور شہری حقوق و عوامی جان و مال کا تحفظ ناممکن ہو کر رہ گیا ہے ۔    صوبائی سیکیورٹی کے اس مجموعی بگاڑ اور ریاستی عملداری کے زوال کا سب سے تشویشناک مظہر صوبے کے جنوبی اضلاع میں دیکھا جا سکتا ہے، جو کبھی عسکریت پسندی سے محفوظ تصور کئے جاتے تھے لیکن اب وہاں عسکریت پسندی کا نیا گڑھ قائم ہو چکا ہے جس نے پولیس کو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے ۔ خاص طور پر ضلع کرک میں، جو کبھی پرامن سمجھا جاتا تھا، اب ایک اہم میدانِ جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ پہلی بار شدت پسند تنظیموں نے اس ضلع تک براہِ راست رسائی حاصل کر کے سرکاری عملداری کو بری طرح متاثر کیا ہے اور صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ شام ہونے سے قبل ہی پولیس کو تھانوں اور قلعہ نما چوکیوں تک محدود کر دیا گیا ہے ۔ کرک میں حالیہ دنوں میں سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر کواڈ کاپٹر ڈرونز کے ذریعے بمباری کی گئی، اور جب زخمی سیکیورٹی اہلکاروں کو منتقل کرنے کے لئے ایمبولینسیں روانہ ہوئیں تو عسکریت پسندوں نے گھات لگا کر ان پر حملہ کیا، لاشوں کو نذرِ آتش کیا اور گاڑیوں کو پھونک دیا ۔ اس منظم عسکری اجارہ داری نے پولیس فورس کی دن ڈھلنے کے بعد نقل و حرکت کو صفر کر دیا ہے اور مضافاتی و دیہی پٹی پر عسکریت پسندوں کی غیر اعلانیہ حکمرانی قائم ہو چکی ہے ۔    کرک کی اس ابتر صورتحال کے ساتھ ساتھ دیگر جنوبی اضلاع میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پسپائی اور عسکریت پسندوں کا گہرا نفوذ نمایاں ہے۔ ضلع لکی مروت میں عسکریت پسندوں نے پولیس کا وہ حشر نشر کر دیا ہے کہ اب قانون نافذ کرنے والے ادارے بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ لکی مروت میں پولیس اسٹیشنوں پر مسلسل ہونے والے راکٹ اور دستی بموں کے حملوں، اور سڑک کنارے نصب بارودی سرنگوں کے ذریعے پولیس افسران کی ہلاکتوں نے فورس کے حوصلے پست کر دئے ہیں ۔ ستمبر 2024 میں، عاجز آ کر لکی مروت کے پولیس اہلکاروں نے اپنی چوکیاں اور ڈیوٹیاں چھوڑیں اور تاجہ زئی کے مقام پر انڈس ہائی وے بلاک کر کے تاریخی دھرنا دیا ۔ ان مظاہرین کا کھلا مطالبہ تھا کہ اگر سیکیورٹی فورس کو جدید ہتھیار اور جنگی اختیارات دئے جائیں تو وہ عسکریت پسندی کا خاتمہ کر سکتے ہیں، لیکن ریاستی حکام انہیں بے یار و مددگار چھوڑ چکے ہیں ۔ اسی طرح ضلع بنوں، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی عسکریت پسندوں نے نہ صرف سرکاری عملداری کو شدید متاثر کیا ہے، بلکہ یہاں کے عوام کا جینا بھی محال ہو گیا ہے ۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں روزانہ کی بنیاد پر بینک کی کیش گاڑیوں کی لوٹ مار، تاجروں کا اغوا برائے تاوان اور بنوں میں مئی 2026 میں ایک چیک پوسٹ پر گاڑی کے ذریعے کئے گئے خودکش دھماکے میں 15 پولیس اہلکاروں کی شہادت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پورا جنوبی ریجن عسکریت پسندوں کے چنگل میں آ چکا ہے ۔    جنوبی اضلاع کی اس سیکیورٹی دلدل کا موازنہ اگر قبائلی اضلاع کی موجودہ صورتحال سے کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ مئی 2018 میں وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (FATA) کا خیبر پختونخوا کے ساتھ الحاق اس تزویراتی وعدے کے باوجود ناکام رہا کہ اس سے یہاں کی محرومیوں کا خاتمہ ہوگا، ترقیاتی خوشحالی آئے گی اور امن کا بول بالا ہوگا ۔ انضمام کے آٹھ سال بعد بھی ریاستی دعووں کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں ۔ نہ تو ان قبائلی اضلاع کی تاریخی محرومیوں کا ازالہ کیا گیا، بلکہ اس کے برعکس یہ خطہ پہلے سے بھی کہیں زیادہ شدید بدامنی کا شکار ہو چکا ہے ۔ ریاستی ڈھانچے کی منتقلی اتنی ناقص اور عجلت پسندانہ تھی کہ نوآبادیاتی دور کے قانون (FCR) کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے سیکیورٹی اور انتظامی خلا کو پورا نہیں کیا جا سکا ۔ اس سنگین سیکیورٹی بحران کا سب سے ہولناک سماجی اثر یہ نکلا ہے کہ کوئی بھی طاقت اور مالی حیثیت رکھنے والا قبائلی شخص عسکریت پسندوں کے ڈر اور معاشی زوال کی وجہ سے قبائلی اضلاع سے نکل کر پشاور ، اسلام آباد یا ملک کے دیگر شہروں میں منتقل ہونا چاہتا ہے ۔ اس کے برعکس، جس غریب شخص کے پاس ہجرت کرنے کی طاقت اور وسائل نہ ہوں، وہ ان جنگ زدہ اضلاع میں عملاً یرغمال بنے اپنے تلخ ترین دن گزارنے پر مجبور ہے ۔    قبائلی اضلاع کے اس سماجی و سیکیورٹی خلا کے معاشی اثرات پورے صوبے کی کاروباری برادری اور عام شہریوں پر بھی بھتہ خوری کی شکل میں مرتب ہو رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں بدامنی کا سب سے سنگین مالی مظہر بھتہ خوری (Bhatta) کا وہ منظم جال ہے جس نے اب باقاعدہ ایک متوازی متحرک ٹیکسیشن کی شکل اختیار کر لی ہے اور عسکریت پسندوں کی بقا و فنانسنگ کا ایک بڑا حصہ اسی بھتے سے حاصل ہوتا ہے ۔ صوبے میں بھتہ خوری اس وقت اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے جہاں عسکریت پسند گروہ اب نہ صرف بڑے سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کو واٹس ایپ کالز اور ٹی ٹی پی کے لیٹر ہیڈز پر دھمکیاں دے کر لاکھوں ڈالر وصول کر رہے ہیں بلکہ انتہائی غریب طبقہ بھی اس عذاب سے محفوظ نہیں ہے ۔ حالت یہ ہے کہ سڑک کنارے ریڑھیاں لگانے والے غریب ریڑھی فروش بھی شدت پسند تنظیموں کو باقاعدہ بھتے کی وصولی کر کے ہی پیاز، آلو اور ٹماٹر بیچنے پر مجبور ہیں ۔ انکار کی صورت میں ان کی ریڑھیوں کو نذرِ آتش کر دیا جاتا ہے یا ان پر فائرنگ کی جاتی ہے ۔ صوبائی حکومت کی جانب سے احساس ریڑھی بان روزگار تحفظ بل 2025 کا مسودہ تیار کرنا اس معاشی المئے کا سب سے بڑا ثبوت ہے، جس کا بنیادی مقصد 140,000 سے زائد غریب دکانداروں کو اس منظم بھتہ خور مافیا کے چنگل سے بچانا ہے ۔    مذکورہ معاشی نچوڑ کی جڑیں عسکریت پسندی کی مالیاتی فنڈنگ کے منظم نیٹ ورکس سے جڑی ہوئی ہیں۔ عسکریت پسندوں کے ان فنڈنگ نیٹ ورکس کے بنیادی اہداف میں بڑے صنعت کار اور سرمایہ دار شامل ہیں جنہیں واٹس ایپ پیغامات، غیر ملکی نمبرز اور براہ راست اغوا برائے تاوان کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور سرمایہ بیرون ملک منتقل ہو رہا ہے ۔ ان کی اس فنڈنگ کا ایک بڑا حصہ کابل، خوست اور لغمان میں بنے حوالہ اور ہنڈی کے نیٹ ورکس کے ذریعے منظم کیا جاتا ہے ۔ مزید برآں، عسکریت پسند سرکاری اور نجی ٹھیکیداروں سے ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبوں پر 5% سے 15% تک جبری ٹیکسیشن کی شکل میں بھتہ لیتے ہیں، جس کی وجہ سے انفراسٹرکچر کے اہم منصوبے اور سی پیک فیز 2.0 کے کام معطل ہو رہے ہیں ۔ اس کام کو منظم کرنے میں شمالی و جنوبی وزیرستان کے عسکری کمانڈرز براہِ راست ملوث ہیں ۔ اس کے علاوہ، شدت پسندوں کو چرس اور افیون کی فصلوں پر 20% سے 30% تک کا براہ راست شیئر دے کر منشیات کے ڈیلرز اور اسمگلر بھی بھتہ دیتے ہیں، جس سے غیر قانونی معیشت کو فروغ ملتا ہے اور یہ کالا دھن عسکریت پسندی کی فنڈنگ کے کام آتا ہے ۔ اس غیر قانونی منشیات ٹیکسیشن کو تحریک طالبان پاکستان اور وادی تیراہ میں متحرک لشکرِ اسلام جیسی تنظیمیں باقاعدہ فنڈنگ کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتی ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ، انتہائی نچلے درجے پر غریب ریڑھی فروشوں اور دکانداروں سے ہفتہ وار یا ماہانہ بنیادوں پر مائیکرو بھتہ خوری کی جاتی ہے جہاں مقامی فعال عسکری سیل اور غنڈہ مافیا کا گٹھ جوڑ غریب خاندانوں کا معاشی استحصال کرتا ہے ۔    ریاستی سطح پر ان معاشی اور مالی نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے دہائیوں پر محیط بدامنی کو ختم کرنے کے نام پر سیکیورٹی اداروں کی جانب سے اب تک متعدد عسکری آپریشنز (مثلاً سوات آپریشن، ضربِ عضب، رد الفساد اور حالیہ آپریشن عزم استحکام) کئے جا چکے ہیں، لیکن یہاں مستقل امن کا قیام ایک خواب بن کر رہ گیا ہے ۔ اس ناکامی کے برعکس، حکومت نے ڈیجیٹل میڈیا کے متعدد نیٹ ورکس بنا کر یہاں ترقی، بحالی اور خوشحالی کے ایسے قصیدے گھڑے ہیں جو تھکنے کا نام نہیں لیتے، جبکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہے ۔ قبائلی اور جنوبی اضلاع میں وہی پرانی محرومی، وہی خوفناک بدامنی، بلکہ اب تو یہ کہا جاتا ہے کہ عسکریت پسندی کی موجودہ لہر 2014 سے قبل کی بدامنی سے بھی زیادہ ہولناک اور سنگین شکل اختیار کر چکی ہے ۔ اس تضاد کو چھپانے کے لئے ریاستی سطح پر ایک غیر اعلانیہ سنسرشپ لاگو ہے، جس کی وجہ سے پاکستانی قومی میڈیا پر بھی خیبر پختونخوا کی اس ابتر بدامنی، روزانہ کی ہلاکتوں، اور قبائلی اضلاع کی گہری سیکیورٹی و سماجی محرومی کو بالکل رپورٹ نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث یہاں کا عام شہری خود کو ملک سے کٹا ہوا محسوس کرتا ہے ۔    اس میڈیا بلیک آؤٹ کے پسِ پردہ عسکریت پسندوں کا تنظیمی ڈھانچہ جس تیزی سے مضبوط ہوا ہے، وہ ایک تزویراتی حقیقت ہے۔ مثال کے طور پر، سال 2014 میں شروع کئے گئے آپریشن ضربِ عضب کے دوران عسکریت پسندوں کا جو تنظیمی نیٹ ورک عارضی طور پر توڑ دیا گیا تھا، عسکری منصوبہ بندی میں تزویراتی خامیوں کے باعث وہ نیٹ ورک اب نہ صرف دوبارہ جوڑ دیا گیا ہے، بلکہ پہلے سے بھی زیادہ طاقتور اور فعال ہو کر سامنے آیا ہے ۔ اس نیٹ ورک کے جڑنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ ضربِ عضب کے دوران عسکریت پسند بھاگ کر افغانستان چلے گئے تھے ۔ 2021 میں امریکی افواج کے انخلا اور افغان طالبان کی کابل آمد کے بعد، ان جنگجوؤں کو محفوظ پناہ گاہیں ملیں، جہاں سے انہوں نے سرحد پار نقل و حرکت تیز کی اور جدید امریکی ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے ذریعے پاکستان کے سرحدی اور جنوبی اضلاع میں اپنے نیٹ ورکس کو دوبارہ سے بحال اور فعال کر دیا ۔    عسکریت پسندوں کی اس دوبارہ تنظیمِ نو میں ان کی تنظیمی مضبوطی اور نت نئے تزویراتی اتحادوں کا کلیدی کردار ہے ۔ گزشتہ چند سالوں میں عسکریت پسندوں کے کئی منتشر اور الگ ہو جانے والے دھڑوں کو دوبارہ تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کے مرکزی ڈھانچے میں جوڑ دیا گیا ہے ۔ عسکری امور کے ماہرین کے مطابق، ٹی ٹی پی کا موجودہ امیر مفتی نور ولی محسود بکھری ہوئی شدت پسند تنظیموں اور دھڑوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا غیر معمولی ماہر مانا جاتا ہے، جس نے سخت نظم و ضبط قائم کر کے عسکریت پسندوں کی فیلڈ آپریشنل صلاحیت کو مضبوط کیا ہے ۔ اس عسکری ارتقاء کا سب سے خطرناک پہلو شمالی وزیرستان کے روایتی حافظ گل بہادر گروپ (HGBG) کا دن بہ دن مضبوط ہونا ہے، جو حکومتِ پاکستان کے لئے ایک بڑا دردِ سر بنتا جا رہا ہے ۔ اب اس گروپ نے اپنا باقاعدہ تنظیمی نام بدل کر اتحاد المجاہدین پاکستان (IMP) رکھ لیا ہے اور اس مہلک عسکری اتحاد میں ٹی ٹی پی حکیم اللہ محسود گروپ، لشکرِ اسلام گروپ اور حرکت الانقلابِ اسلامی پاکستان جیسے دھڑے شامل ہو چکے ہیں ۔    شدت پسندوں کے ان نیٹ ورکس کی تفصیلی اندرونی دھڑے بندیوں کا جائزہ لیا جائے تو ان کے عزائم اور اثرات واضح ہوتے ہیں۔ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) مفتی نور ولی محسود کی کلیدی قیادت میں تقریباً 80 سے زائد چھوٹے مقامی عسکری سیلز (ڈالگئی) کے اتحاد کی شکل میں متحرک ہے ۔ یہ تنظیم بنیادی طور پر جنوبی و مغربی اضلاع، سوات اور وزیرستان کے علاقوں میں سرگرم ہے اور منظم گوریلا حملوں، سیکیورٹی فورسز کی ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھاتی ہے ۔ دوسری جانب، اتحاد المجاہدین پاکستان (IMP) کا نیا اتحاد حافظ گل بہادر، لشکرِ اسلام اور حرکت الانقلابِ اسلامی کی شراکت داری سے شمالی وزیرستان، بنوں، خیبر اور وادی تیراہ میں فعال ہے ۔ یہ گروہ فوجی چھاؤنیوں پر بارود سے بھری گاڑیوں کے خودکش حملوں اور نائٹ ویژن اسنائپنگ میں مہارت رکھتا ہے ۔ ان کے ساتھ ساتھ، ٹی ٹی پی سے منحرف ہونے والا متشدد گروپ ٹی ٹی پی جماعت الاحرار (JuA) پشاور، مہمند، باجوڑ اور نوشہرہ پٹی پر سرگرم ہے، جو اگرچہ ٹی ٹی پی کے ساتھ نظریاتی الحاق رکھتا ہے مگر آزاد فیلڈ آپریشنز کے تحت شہری علاقوں میں دستی بموں کے حملے اور ٹارگٹ کلنگز کرتا ہے، جس کے باعث عام شہری روز بہ روز شدید غیر یقینی اور خوف و ہراس کی صورتحال سے دوچار ہیں ۔    اس مسلسل اور منظم بدامنی کے براہِ راست اور مہلک معاشی اثرات صوبے کے غریب عوام اور کاروباری طبقے پر مرتب ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے غربت اور بے روزگاری میں ہوشربا اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں واقع حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ (HIE)، جو کبھی صوبے کی معاشی ریڑھ کی ہڈی تصور کی جاتی تھی، اب عملاً کھنڈر بننے جا رہی ہے کیونکہ وہاں درجنوں صنعتیں اور فیکٹریاں تیزی سے بند ہو رہی ہیں ۔ فیکٹری مالکان اور چیمبر آف کامرس کے نمائندے اس صنعتی بندش کی دو بڑی اور بنیادی وجوہات بیان کر رہے ہیں۔ پہلی وجہ بدامنی اور بھتہ خوری ہے جس کے تحت حیات آباد کے فیکٹری مالکان کو عسکریت پسندوں کی جانب سے واٹس ایپ پر کروڑوں روپے کے بھتے کے پیغامات مل رہے ہیں اور انکار کرنے والوں کے گھروں اور فیکٹریوں کو دستی بموں سے اڑا دیا جاتا ہے ۔ اس خوف کی وجہ سے سینکڑوں مینوفیکچررز اپنا تمام سرمایہ لے کر بیرونِ ملک یا پنجاب منتقل ہو چکے ہیں ۔ دوسری بڑی وجہ بجلی کے ناقابلِ برداشت بلز اور گیس کنکشنز پر پابندی ہے، جس کی وجہ سے اب کارخانہ دار فیکٹریاں چلانے کی مالی سکت ہی نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے روزانہ کارخانے بند ہو رہے ہیں اور مزدور بیروزگار ہو رہے ہیں ۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سمال انڈسٹریز ڈویلپمنٹ بورڈ (SIDB) کے تحت 55 فیصد اور سرحد ڈویلپمنٹ اتھارٹی (SDA) کے زیرِ انتظام 64 فیصد کارخانے اب مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں ۔    خیبر پختونخوا کے بگڑتے ہوئے سلامتی کے حالات کا براہِ راست تعلق پاکستان اور افغان امارتِ اسلامی کے مابین بڑھتے ہوئے تزویراتی اور سرحدی تنازعات سے ہے ۔ فروری 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان بھڑک اٹھنے والی باقاعدہ سرحدی جنگ، جس میں فضائی حملے اور ڈرون حملے شامل تھے، نے دونوں پڑوسیوں کے تعلقات کو بدترین نہج پر پہنچا دیا ہے ۔ چین، جس نے پاکستان میں سی پیک منصوبوں پر 65 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے، ان حملوں اور سیکیورٹی بحران سے شدید تشویش کا شکار ہے ۔ اس جیو پولیٹیکل تعطل میں سب سے تشویشناک تزویراتی موڑ اس وقت آیا جب امارتِ اسلامی افغانستان نے چین کو ایک اہم اجلاس میں مطلع کیا کہ کابل کی یہ کوشش ہے کہ وہ پاکستانی طالبان کی مرکزی قیادت اور ان کے تمام عسکری دھڑوں کو زبردستی افغان سرزمین سے نکال کر واپس پاکستان کی سرحد کے اندر دھکیل دے رہے ہیں ۔ افغان طالبان یہ اقدام اس لئے کر رہے ہیں تاکہ ان پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کے لگنے والے عالمی الزامات اور سفارتی بلیک میلنگ کا راستہ مکمل طور پر روکا جا سکے ۔ اس تزویراتی فیصلے کے تحت، سنکیانگ کے ایغور علیحدگی پسندوں کا مہلک گروہ ای ٹی آئی ایم یا رکستان اسلامک پارٹی (ETIM/TIP) بھی مجبوراً افغانستان سے نکل کر پاکستان کے قبائلی اضلاع کا رخ کرے گا ۔ سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں انتہائی تربیت یافتہ جنگجوؤں کی قبائلی اضلاع کی طرف یہ زبردستی منتقلی خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کی صورتحال کو ایک ایسی دلدل میں دھکیلنے والی ہے جہاں سے نکلنا شاید ریاست کے بس میں نہ رہے، اور یہ خدشہ روز بہ روز حقیقت بنتا جا رہا ہے کہ امن و امان کی یہ بدترین صورتحال ناقابلِ تلافی حد تک مزید خراب ہو جائے گی ۔

خیبر پختونخوا میں ریستی رٹ کا چیلینج، عسکری نیٹ ورکس کی بحالی، انتقامی خلا اور مقامی ابادی پر اثرات کا تنقیدی مطالعہ

خصوصی رپورٹ : ناصر داوڑ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی ابتر صورتحال محض ایک مقامی انتظامی تعطل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک وسیع تر علاقائی تزویراتی بحران کا شاخسانہ ہے جس نے ریاست کی رٹ کو ہلا کر مزید پڑھیں

مناتو کے متاثرین تصدیق کے باوجود معاوضے کے طلبگار، پی ڈی ایم اے کا مسائل حل کرنے کا دعویٰ ضلع کرم مناتو کے متاثرین تصدیق کا عمل مکمل ہونے کے باوجود معاوضے سے تاحال محروم ہیں جس کے باعث متاثرین کو مشکلات کا سامنا ہے ضلع کرم کے علاقے مناتو میں عمائیدین کا مشترکہ جرگہ منعقد ہوا جس علماء اور عمائیدین نے شرکت کی اس موقع پر اپنے خطاب میں ملک کیبت خان اور دیگر عمائیدین نے کہا کہ مناتو اور اس کے گردونواح کے دیہات میں لوگ انتہائی تشویشناک صورتحال سے دوچار ہیں جہاں سینکڑوں عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد (TDPs) تمام تر سرکاری تصدیقی طریقہ کار مکمل ہونے کے باوجود مالی معاوضے سے محروم ہیں اگرچہ دفتری کارروائی کے تمام مراحل مکمل ہو چکے ہیں اور ڈیٹا بھی فائنل کیا جا چکا ہے، لیکن زمین پر موجود حقائق بڑھتی ہوئی مایوسی اور ٹوٹے ہوئے وعدوں کی عکاسی کر رہے ہیں۔ عمائیدین نے متاثرہ خاندان لندوکی، لیل گڈا، خومرے، کامران، ناری روغ، ووٹ، ورستہ میلہ، پیر کوٹ، ظریف خان کلے اور گواکے جیسے دیہاتوں سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں علاقے کی سیکیورٹی صورتحال کی وجہ سے اپنے گھروں اور آبائی زمینوں کو چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ نقل مکانی کے کئی ماہ گزرنے کے باوجود یہ خاندان نہ صرف اپنی املاک سے دور ہیں بلکہ ریاست کی جانب سے اس مالی امداد سے بھی محروم ہیں جو ان کی زندگیوں کی دوبارہ بحالی کے لیے وعدے کئے گئےتھے علاقے کے سماجی راہنما محبت خان کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کی مایوسی کی بنیادی وجہ معاوضہ ملنے میں تاخیر ہے، کیونکہ حکام نے کئی ماہ قبل تمام اہل افراد کی بائیومیٹرک تصدیق کا عمل مکمل کر لیا تھا۔ اس عمل کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا اور بدعنوانی کو روکنا تھا جس سے بے گھر آبادی میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ اب جلد ہی امدادی فنڈز ان تک پہنچ جائیں گے۔ تاہم، ان توقعات کا جواب خاموشی سے دیا گیا ہے محبت خان کا کہنا ہے کہ تمام تر سرکاری شرائط اور ضروری ضابطے مکمل کرنے کے باوجود تاحال کوئی مالی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ بائیومیٹرک تصدیق کی تکمیل اور امداد کی اصل فراہمی کے درمیان اس طویل وقفے نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے کہ آخر کارکردگی کے لیے بنائے گئے اس نظام میں اتنی طویل تعطل کی وجہ کیا ہے۔ یہ انتظامی رکاوٹ محض کاغذی کارروائی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک گہرے سماجی و اقتصادی بحران کا سبب بن رہی ہے جو متاثرہ خاندانوں کو تباہی کے دہانے پر دھکیل رہا ہے۔ معاوضے میں طویل تاخیر نے بہت سے لوگوں کو شدید مالی مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ نقل مکانی کے دوران وہ اپنے اثاثوں اور آمدنی کے ذرائع دونوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ مماتو سے تعلق رکھنے والے ڈرائیور رحمان الللہ کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات سے دیہاڑی دار طبقہ بری طرح متاثر ہوا ہے جن کی آمدنی کے تمام راستے بند ہو چکے ہیں اور وہ اب اپنے رشتہ داروں یا مقامی کمیونٹی کی امداد پر تکیہ کرنے پر مجبور ہیں۔ معاشی اثرات کے علاوہ اس صورتحال نے متاثرہ آبادی میں شدید نفسیاتی تناؤ بھی پیدا کر دیا ہے جہاں حکام کی جانب سے عدم توجہی اور خاموشی نے اس ابتدائی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے جو امدادی نظام پر کیا گیا تھا۔ ایک بے گھر رہائشی عبداللہ نے بحران کی سنگینی کو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ اب دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے جس کی وجہ سے بہت سے والدین اپنے بچوں کو بنیادی ضروریات یا صحت کی سہولیات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ محرومی کی اس سطح نے ضلعی انتظامیہ سے اجتماعی طور پر یہ مطالبہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ معاوضہ فنڈز فوری طور پر جاری کیے جائیں اور اس تاخیر کی کوئی واضح وجہ بتائی جائے۔ اب کمیونٹی کے لیے بروقت امداد محض ایک انتظامی طریقہ کار نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ بن چکی ہے تاکہ اس نظام پر ان کا اعتماد بحال ہو سکے جو فی الحال ان کی حالتِ زار سے لاتعلق نظر آتا ہے۔ انتظامیہ کی مسلسل خاموشی اور متعلقہ محکموں کی جانب سے واضح جواب نہ ملنے سے تنگ آکر مناتُو اور گردونواح کے متاثرہ خاندانوں نے مستقبل کے حوالے سے سخت انتباہ جاری کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر آنے والے چند دنوں میں ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ متاثرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ علاقے میں کسی بھی ممکنہ کشیدگی کی تمام تر ذمہ داری ان حکام پر عائد ہوگی جو تصدیق شدہ ڈیٹا موجود ہونے کے باوجود کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ بحران کی بڑھتی ہوئی شدت اس بات کی متقاضی ہے کہ فوری انتظامی مداخلت کی جائے تاکہ مزید مشکلات کو روکا جا سکے اور یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کرم کی ان کمزور برادریوں کو ان کی مشکلات میں تنہا نہ چھوڑا جائے۔ دوسری جانب پی ڈی ایم اے ضلع کرم کے کوارڈینیٹر شیراز باچا کا کہنا ہے کہ متاثرین کی بروقت اور ہر ممکن تعاون کے لئے ضلعی انتظامیہ اور فورسز کے ساتھ مل کر وہ ہرممکن اقدامات اٹھارہے ہیں جس کے باعث متاثرین کے زیادہ تر مسائل حل کئے گئے ہیں اور متاثرین کی اپنے گھروں کو واپسی سمیت ان کے تمام حل طلب مسائل کے حل کے لئے اقدامات جاری ہیں

مناتو کے متاثرین تصدیق کے باوجود معاوضے کے طلبگار، پی ڈی ایم اے کا مسائل حل کرنے کا دعویٰ

ضلع کرم مناتو کے متاثرین تصدیق کا عمل مکمل ہونے کے باوجود معاوضے سے تاحال محروم ہیں جس کے باعث متاثرین کو مشکلات کا سامنا ہے ضلع کرم کے علاقے مناتو میں عمائیدین کا مشترکہ جرگہ منعقد ہوا جس علماء مزید پڑھیں

روایتی میڈیا سے ڈیجیٹل دنیا تک؛ پاکستانی صحافیوں کیلئے نئے چیلنجز تحریر: ناصر داوڑ پاکستان میں صحافت ایک ایسے تاریخی دوراہے پر کھڑی ہے جہاں میڈیا کی پوری ساخت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب اخبار میں شائع ہونے والی خبر یا رات نو بجے کا نیوز بلیٹن عوام کیلئے حتمی سچ سمجھا جاتا تھا۔ صحافی معاشرے میں فکری رہنما تصور کئے جاتے تھے، اخبارات قومی مباحثے کی سمت متعین کرتے تھے اور ٹی وی چینلز عوامی رائے سازی کا سب سے طاقتور ذریعہ سمجھے جاتے تھے۔ مگر اب حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ پرنٹ میڈیا کے بعد الیکٹرانک میڈیا بھی شدید بحران کا شکار ہے، ہزاروں میڈیا ورکرز بے یقینی کا شکار ہیں، اور سوشل میڈیا نے معلومات، خبروں اور رائے سازی کے پورے نظام کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پاکستان میں صحافت ختم ہورہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صحافت ختم نہیں ہورہی بلکہ اس کی شکل تبدیل ہورہی ہے۔ ماضی میں صحافت کا مرکز اخبارات، ریڈیو اور ٹی وی چینلز تھے، مگر اب صحافت موبائل فون، یوٹیوب، فیس بک، ٹک ٹاک، پوڈکاسٹس اور ویب سائٹس میں منتقل ہورہی ہے۔ پہلے ادارے صحافی کو شناخت دیتے تھے، آج صحافی خود ایک ادارہ بنتا جارہا ہے۔ اب کسی بڑے چینل یا اخبار سے وابستگی ہی کامیابی کی ضمانت نہیں رہی بلکہ ذاتی ساکھ، ڈیجیٹل موجودگی اور عوام کے ساتھ براہِ راست رابطہ زیادہ اہم بن چکا ہے۔ پاکستان میں پرنٹ میڈیا کا زوال دراصل اس وقت شروع ہوا جب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے لوگوں کی معلومات حاصل کرنے کی عادت تبدیل کردی۔ لوگ صبح اخبار خریدنے کے بجائے موبائل فون پر خبریں پڑھنے لگے۔ اشتہارات، جو اخبارات کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ تھے، گوگل اور فیس بک جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی طرف منتقل ہوگئے۔ نتیجتاً اخبارات مالی بحران کا شکار ہوگئے، صفحات کم ہوئے، تنخواہیں رُکیں اور صحافی فارغ کئے جانے لگے۔ اسی طرح 2002 کے بعد پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز کے عروج نے ایک نئی میڈیا انڈسٹری کو جنم دیا۔ جیو، اے آر وائی، دنیا، ایکسپریس، سما اور دیگر چینلز نے صحافت کو نئی رفتار دی، ہزاروں نوجوان اس شعبے میں آئے اور میڈیا ایک طاقتور صنعت بن گیا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہی الیکٹرانک میڈیا شدید مسائل کا شکار ہوگیا۔ اشتہارات میں کمی، ریٹنگ کی دوڑ، سیاسی دباؤ، ادارتی آزادی پر قدغنیں اور ڈیجیٹل میڈیا کی یلغار نے نیوز چینلز کی بنیادیں کمزور کردیں۔ اب نوجوان نسل ٹی وی اسکرین سے زیادہ موبائل اسکرین پر وقت گزارتی ہے۔ لوگ بریکنگ نیوز کیلئے ٹی وی آن کرنے کے بجائے یوٹیوب، ایکس، فیس بک یا واٹس ایپ کھولتے ہیں۔ اسی بحران کے باعث میڈیا انڈسٹری میں بڑے پیمانے پر چھانٹیاں ہورہی ہیں۔ کئی صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو نوکریوں سے فارغ کیا جاچکا ہے۔ لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ دور میں بے روزگار صحافی کی اصطلاح مکمل طور پر درست ہے؟ شاید پہلے یہ لفظ زیادہ مناسب تھا، مگر آج صورتحال مختلف ہے۔ اب صحافت صرف کسی اخبار یا ٹی وی چینل کی نوکری کا نام نہیں رہی۔ اگر کوئی صحافی روایتی میڈیا ادارے سے الگ ہوکر بھی یوٹیوب، فیس بک، ویب سائٹ، پوڈکاسٹ، ڈیجیٹل رپورٹنگ یا فری لانس جرنلزم کررہا ہے تو اسے مکمل طور پر بے روزگار کہنا درست نہیں ہوگا۔ آج زیادہ مناسب اصطلاح آزاد صحافی، ڈیجیٹل صحافی یا فری لانس جرنلسٹ ہوسکتی ہے۔ اصل مسئلہ بے روزگاری سے زیادہ ذہنی جمود کا ہے۔ موجودہ دور میں بے کار صحافی وہ نہیں جو کسی ادارے میں ملازم نہیں، بلکہ وہ ہے جو بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ خود کو بدلنے کیلئے تیار نہیں۔ وہ صحافی جو اب بھی صرف روایتی نیوز روم کے انتظار میں بیٹھا رہے، نئی ٹیکنالوجی نہ سیکھے، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے دور رہے اور جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھنے کی کوشش نہ کرے، وہ عملی طور پر خود کو محدود کررہا ہے۔ آج کا دور ملٹی میڈیا جرنلزم کا ہے، جہاں ایک شخص لکھ بھی سکتا ہے، ویڈیو بھی بنا سکتا ہے، پوڈکاسٹ بھی کرسکتا ہے اور سوشل میڈیا پر اپنا براہِ راست سامعین بھی بنا سکتا ہے۔ پاکستانی صحافیوں کیلئے اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ انہیں کن پلیٹ فارمز پر کام کرنا چاہئے؟ موجودہ حالات میں یوٹیوب سب سے طاقتور پلیٹ فارم بنتا جارہا ہے۔ یہاں تجزیے، وی لاگز، انٹرویوز، ڈاکیومنٹریز اور پوڈکاسٹس کیلئے بڑی گنجائش موجود ہے۔ فیس بک اب بھی اردو صحافت کیلئے اہم پلیٹ فارم ہے، خاص طور پر مقامی خبروں اور لائیو سیشنز کیلئے۔ ٹک ٹاک نوجوان نسل تک پہنچنے کا تیز ترین ذریعہ بن چکا ہے، جبکہ ایکس فوری خبروں اور سیاسی مباحثوں کیلئے اہم سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح انسٹاگرام، واٹس ایپ چینلز اور ذاتی ویب سائٹس بھی مستقبل کی صحافت میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ اب کامیاب صحافی وہ ہوگا جو صرف ایک پلیٹ فارم پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف پلیٹ فارمز پر اپنی موجودگی قائم کرے۔ پاکستان میں سوشل میڈیا کے حوالے سے ایک دلچسپ مگر تشویشناک حقیقت یہ بھی ہے کہ یہاں اکثر سنجیدہ، علمی اور فکری لوگ پس منظر میں رہ جاتے ہیں، جبکہ شور مچانے والے، جذبات بھڑکانے والے اور غیر سنجیدہ عناصر زیادہ نمایاں ہوجاتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا کا الگورتھم ہے، جو تحقیق، دلیل اور متوازن گفتگو کے بجائے جذباتی، متنازع اور اشتعال انگیز مواد کو زیادہ فروغ دیتا ہے۔ چیخنے، لڑنے، الزامات لگانے اور سنسنی پھیلانے والے مواد کو زیادہ ویوز ملتے ہیں، جبکہ سنجیدہ مواد اکثر نظر انداز ہوجاتا ہے۔ دوسری طرف بہت سے پڑھے لکھے، باشعور اور سنجیدہ لوگ سوشل میڈیا کو غیر سنجیدہ سمجھ کر اس سے دور رہتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ میدان غیر ذمہ دار لوگوں کیلئے خالی رہ جاتا ہے۔ نتیجتاً عوامی بیانیہ اکثر ایسے لوگوں کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے جو معلومات اور تحقیق سے زیادہ جذبات فروخت کرتے ہیں۔ بعض عناصر لوگوں کو احساسِ محرومی میں مبتلا کرنے، انہیں غصے اور مایوسی کی طرف دھکیلنے اور جذباتی ردعمل پیدا کرنے کیلئے اشتعال انگیز الفاظ اور منفی بیانئے استعمال کرتے ہیں۔ دن رات ایسا مواد تیار کیا جاتا ہے جس کا مقصد معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ لوگوں کو ذہنی اور جذباتی طور پر متاثر کرنا ہوتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر ذمہ دارانہ صحافت کی علامت ہے بلکہ معاشرے میں بے اعتمادی، تقسیم اور نفسیاتی دباؤ کو بھی بڑھاتا ہے۔ تاہم اس صورتحال کا حل یہ نہیں کہ سنجیدہ لوگ سوشل میڈیا چھوڑ دیں۔ اگر باشعور، تربیت یافتہ اور ذمہ دار لوگ جدید پلیٹ فارمز پر فعال نہیں ہوں گے تو پھر یہ میدان مکمل طور پر شور، نفرت اور غلط معلومات پھیلانے والوں کے ہاتھ میں چلا جائے گا۔ سوشل میڈیا اب صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ رائے سازی، سیاسی بیانیے، سماجی شعور اور معلومات کی ترسیل کا سب سے بڑا میدان بن چکا ہے۔ اس لئے صحافیوں، دانشوروں اور سماجی کارکنوں کو سوشل میڈیا پر آنا چاہئے، مگر تحقیق، ذمہ داری اور اخلاقیات کے ساتھ۔ پاکستانی میڈیا اس وقت ایک بڑے انتقالی دور سے گزر رہا ہے۔ روایتی میڈیا کمزور ضرور ہورہا ہے، مگر صحافت ختم نہیں ہورہی بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں نئی شکل اختیار کررہی ہے۔ مستقبل ان صحافیوں کا ہے جو ٹیکنالوجی سیکھیں گے، ویڈیو، آڈیو اور تحریر تینوں پر عبور حاصل کریں گے، اپنی ذاتی ساکھ بنائیں گے اور جدید پلیٹ فارمز پر خود کو منظم انداز میں پیش کریں گے۔ اب صرف کسی ادارے کی نوکری پر انحصار کافی نہیں رہا۔ آج کامیاب وہی ہوگا جو خود کو ایک برانڈ، ایک پلیٹ فارم اور ایک مستقل آواز کے طور پر منوا سکے۔ وقت ہمیشہ اُنہی لوگوں اور اداروں کو زندہ رکھتا ہے جو خود کو حالات اور تقاضوں کے مطابق بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ صرف ماضی کی شہرت، تجربہ یا نام کسی کی بقا کی ضمانت نہیں بنتا۔ ایک وقت تھا جب “نوکیا” موبائل فون کی دنیا کا سب سے بڑا اور قابلِ اعتماد نام سمجھا جاتا تھا۔ دنیا کے تقریباً ہر کونے میں اگر بہترین موبائل فون کا ذکر ہوتا تو نوکیا سرفہرست ہوتا، مگر وقت کے بدلتے تقاضوں، اسمارٹ ٹیکنالوجی اور نئی دنیا کے ساتھ خود کو مکمل طور پر ہم آہنگ نہ کرسکنے کے باعث وہ آہستہ آہستہ مارکیٹ سے غائب ہوگیا، اور اس کی جگہ نئے اور جدید اسمارٹ فونز نے لے لی۔ صحافت کی دنیا میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ اگر کوئی صحافی صرف ماضی کے تجربات، روایتی انداز اور پرانے نظام پر اصرار کرے گا، اور نئی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور بدلتی میڈیا دنیا کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوگا، تو وہ بھی وقت کے ساتھ اسی طرح منظر سے غائب ہوجائے گا۔ آج کا دور اُنہی صحافیوں کا ہے جو سیکھنے، بدلنے اور وقت کے ساتھ آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

روایتی میڈیا سے ڈیجیٹل دنیا تک؛ پاکستانی صحافیوں کیلئے نئے چیلنجز

تحریر: ناصر داوڑ پاکستان میں صحافت ایک ایسے تاریخی دوراہے پر کھڑی ہے جہاں میڈیا کی پوری ساخت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب اخبار میں شائع ہونے والی خبر یا رات نو بجے کا نیوز مزید پڑھیں

پاک افغان محاذ آرائی اور ارومچی کا سفارتی راستہ: جیو پولیٹیکل بساط پر چین کی ثالثی اور تزویراتی مفادات کا گہرا تجزیہ تحریر: ناصر داوڑ پاکستان اور افغانستان کے مابین تاریخی اور برادرانہ تعلقات کی راکھ سے اب ایک ایسی چنگاری پھوٹی ہے جس نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ فروری 2026 کا مہینہ تاریخ میں اس موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا جب دہائیوں پر محیط تزویراتی گہرائی کا تصور کھلی جنگ میں تبدیل ہو گیا۔ پاکستان کی جانب سے کابل، قندھار اور پکتیا میں افغان فوجی تنصیبات پر فضائی حملے محض عسکری کارروائی نہیں تھی، بلکہ یہ اس صبر کے لبریز ہونے کا اعلان تھا جو تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی محفوظ پناہ گاہوں کے معاملے پر اسلام آباد میں پایا جاتا تھا۔ 16 مارچ 2026 کو کابل میں منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز پر ہونے والے المناک حملے، جس میں 400 سے زائد جانیں گئیں، اور ایک لاکھ سے زائد افراد کی نقل مکانی نے اس انسانی بحران کو بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، تاہم پاکستان اسے دہشتگردی کا ٹریننگ کیمپ بتا رہاہے، اسی سنگین صورتحال میں بیجنگ نے اپنی روایتی خاموشی توڑ کر ارومچی امن عمل کے ذریعے ایک ایسے کھلاڑی کے طور پر انٹری دی ہے جو اب صرف معاشی ہی نہیں بلکہ جیو پولیٹیکل ریفری بننا چاہتا ہے۔ ارومچی مذاکرات کا پس منظر اور سفارتی نشستوں کا ارتقاء چین نے اس ثالثی کیلئے سنکیانگ کے دارالحکومت ارومچی کا انتخاب محض اتفاقاً نہیں کیا، بلکہ یہ کابل اور اسلام آباد کیلئے ایک خاموش پیغام تھا کہ اس خطے کی بدامنی براہِ راست چین کی سرحدوں کو متاثر کرتی ہے۔ اپریل 2026 کے پہلے ہفتے میں ہونے والے یہ مذاکرات پانچ مختلف مراحل پر محیط تھے، جن میں سفارتی نزاکتوں سے زیادہ عسکری حقائق پر زور دیا گیا۔ پہلے مرحلے میں جہاں مذاکرات کے ضابطے طے ہوئے، وہیں دوسرے اور تیسرے مرحلے میں اصل تپش محسوس کی گئی جب ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں، ڈیورنڈ لائن پر باڑ کی حفاظت اور سرحد پار عسکری نقل و حرکت پر سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ چوتھی اور پانچویں نشست تک آتے آتے، چین نے دونوں فریقین کو ایک ایسے تیکنیکی فریم ورک پر لانے کی کوشش کی جہاں جذباتی بیانئے کے بجائے قابلِ تصدیق حقائق کو اہمیت دی جائے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ اب صرف وعدوں پر اکتفا نہیں کرے گا بلکہ اسے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی مسماری کا مادی ثبوت چاہئے۔ ان مذاکرات میں شریک وفود کی ساخت دونوں ممالک کی ترجیحات کا آئینہ دار تھی۔ پاکستان نے اپنے وفد کو انتہائی مختصر اور تیکنیکی رکھا، جس کی قیادت ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر سید علی اسد گیلانی کر رہے تھے، جبکہ پسِ پردہ انٹیلی جنس اور عسکری حکام کی موجودگی نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان اس معاملے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے خالصتاً سیکیورٹی کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ اس کے برعکس، افغان طالبان کا وفد جس میں مولوی محب اللہ وسیق اور جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس (GDI) کے نمائندے شامل تھے، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کابل اسے طاقت کے توازن کا معاملہ سمجھتا ہے۔ طالبان کا یہ وفد سفارتی لفاظی کے بجائے زمینی عسکری قوت کے دفاع کیلئے ارومچی پہنچا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی خود مختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ بیجنگ کے تزویراتی مفادات اور علاقائی استحکام کی ضرورت چین کی اس غیر معمولی مداخلت کے پیچھے کھربوں ڈالر کا داؤ لگا ہوا ہے۔ بیجنگ کیلئے سی پیک محض ایک سڑک نہیں بلکہ اس کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کی شہ رگ ہے۔ سی پیک 2 کے تحت چین اب اپنی سرمایہ کاری کو افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیا تک لے جانے کا خواب دیکھ رہا ہے، لیکن یہ خواب اسی صورت شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے جب پاک افغان سرحد پر بندوقیں خاموش ہوں۔ داسو ڈیم جیسے منصوبوں پر چینی انجینئرز کی ہلاکت نے بیجنگ کو یہ باور کرا دیا ہے کہ اگر اس نے اب مداخلت نہ کی تو اس کی معاشی سلطنت کو عسکریت پسندی کی دیمک چاٹ جائیگی۔ اس کے علاوہ، سنکیانگ کی سیکیورٹی چین کا سب سے حساس ترین پہلو ہے۔ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM)یا ترکستان اسلامک پارٹی (TIP) جیسے گروہوں کا افغان سرزمین کو استعمال کرنا چین کیلئے ریڈ لائن ہے، اور وہ ارومچی عمل کے ذریعے کابل کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ چینی سرمایہ کاری کے بدلے میں اسے اپنی سرحدوں کو علیحدگی پسندوں سے پاک رکھنا ہوگا۔ جیو پولیٹیکل سطح پر چین خود کو امریکہ کے متبادل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے بعد، پاک افغان تنازع کا حل بیجنگ کے گلوبل سیکیورٹی انیشیٹو کی کامیابی کا سب سے بڑا اشتہار ہوگا۔ چین جانتا ہے کہ اگر وہ یہاں ناکام ہوا تو امریکہ کو بگرام ایئر بیس جیسے اڈوں کے ذریعے خطے میں دوبارہ قدم جمانے کا موقع مل جائے گا، جو چینی جوہری تنصیبات کیلئے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ افغانستان کے لیتھیم، کوبالٹ اور تانبے کے وسیع ذخائر، جن کی مالیت کھربوں ڈالر ہے، چین کی جدید ٹیکنالوجی کی صنعت کیلئے آکسیجن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مس عینک جیسے منصوبوں کی کامیابی کیلئے چین کسی بھی قیمت پر سرحد کے دونوں اطراف امن کا خواہاں ہے، چاہے اس کیلئے اسے دونوں اتحادیوں پر سخت دباؤ ہی کیوں نہ ڈالنا پڑے۔ دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی اور ٹی ٹی پی کا پیچیدہ معاملہ 2020 کا دوحہ معاہدہ، جس کی بنیاد پر امریکہ نے افغانستان چھوڑا تھا، اب ایک بے معنی کاغذ کا ٹکڑا نظر آتا ہے۔ اس معاہدے کی روح یہ تھی کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، لیکن اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹیں اور زمینی حقائق اس کے برعکس کہانی سناتے ہیں۔ ٹی ٹی پی، القاعدہ اور حافظ گل بہادر گروپ جیسے عناصر نہ صرف افغان سرزمین پر موجود ہیں بلکہ انہیں ایک طرح کی نظریاتی چھتری بھی میسر ہے۔ پاکستان نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ بنوں چھاؤنی جیسے حملوں کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے ہیں۔ امارتِ اسلامی کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے ٹی ٹی پی کو سرحد سے دور منتقل کر دیا ہے، ایک ایسا تزویراتی مغالطہ ہے جس کا مقصد عالمی برادری کو مطمئن کرنا ہے۔ پاکستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کی منتقلی کیلئے 10 ارب روپے کے مطالبے کو مسترد کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ کابل اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے کیش کرانا چاہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے مابین بیعت کا رشتہ ہے جو کسی بھی سیاسی معاہدے سے زیادہ مضبوط ہے۔ اگر طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی سخت کارروائی کرتے ہیں تو انہیں اندرونی بغاوت اور اپنے جنگجوؤں کے داعش خراسان (IS-KP) میں شامل ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔ یہی وہ نظریاتی بندھن ہے جو پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان نے ارومچی میں جن عسکری تنظیموں کی فہرست پیش کی ہے، ان میں ٹی ٹی پی کے علاوہ لشکرِ اسلام، اتحاد المجاہدین پاکستان، جیشِ فرسانِ محمد اور بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) بھی شامل ہیں۔ بی ایل اے کے حوالے سے پاکستان کا یہ موقف کہ اسے افغان انٹیلی جنس کی خاموش حمایت حاصل ہے، اس تنازع کو ایک نئے اور خطرناک رخ پر لے گیا ہے جہاں اب دونوں ممالک ایک دوسرے کے باغیوں کو پناہ دینے کے الزامات لگا رہے ہیں۔ ٹرمپ کی واپسی اور بگرام ایئر بیس: پاک افغان تعلقات میں نئی تبدیلیاں مئی 2026 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ چین اس پوری صورتحال میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مابین بڑھتی ہوئی قربت اور تزویراتی شراکت داری نے کابل کے ماتھے پر پسینہ لا دیا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے بگرام ایئر بیس کی واپسی کا مطالبہ اور پاکستان کی جانب سے امریکی مفادات کیلئے سیکیورٹی سب کنٹریکٹر کا ممکنہ کردار چین کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ بیجنگ کو خدشہ ہے کہ اگر پاکستان کی مدد سے امریکہ بگرام میں واپس آتا ہے تو سی پیک کا پورا منصوبہ امریکی نگرانی میں آ جائے گا۔ اسی لئے چین نے پاکستان کو متنبہ کیا ہے کہ وہ واشنگٹن کی خوشنودی کیلئے پڑوسیوں کے ساتھ پل نہیں جلا سکتا۔ پاکستان، چین اور امریکہ کے اس تہرے تزویراتی مقابلے نے افغانستان کو ایسی دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے کہ وہ اب بھارت کی طرف دیکھ رہا ہے۔ کابل کی جانب سے بھارتی فوج سے تربیت کے مطالبات اور نئی دہلی سے بڑھتے ہوئے سفارتی تعلقات نے اسلام آباد کی اس دیرینہ اسٹریٹجک ڈیپتھ پالیسی کو دفن کر دیا ہے، جس کے تحت پاکستان، افغانستان میں ایک ایسی دوست حکومت چاہتا تھا جو مشکل وقت میں اس کا ساتھ دے۔ اسلام آباد کے اسٹریٹجک ڈیپتھ کے تصور کو دفن کر دیا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستان جسے اپنا زیرِ اثر علاقہ سمجھتا تھا، وہ اب اس کے حریفوں کا نیا ٹھکانہ بنتا جا رہا ہے۔ ارومچی عمل اگرچہ ایک (سیفٹی والو) کے طور پر کام کر رہا ہے جو کسی بڑے دھماکے کو روک رہا ہے، لیکن یہ مستقل امن کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ جب تک ٹی ٹی پی کا نظریاتی وجود اور ڈیورنڈ لائن کا سرحدی تنازع موجود ہے، تب تک کوئی بھی معاہدہ محض ایک عارضی فائر بندی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھے گا۔ ارومچی امن عمل کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ کیا چین اپنی معاشی طاقت کو عسکری دباؤ میں بدل سکتا ہے؟ پاکستان کی معاشی مجبوری اور افغانستان کی سفارتی تنہائی بیجنگ کے ہاتھ میں وہ پتے ہیں جنہیں وہ بہت احتیاط سے کھیل رہا ہے۔ تاہم، پاک افغان تعلقات کی تلخی اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں صرف میز پر بیٹھنے سے دل صاف نہیں ہوں گے۔ یہ ایک ایسی جیو پولیٹیکل بساط ہے جہاں ہر کھلاڑی دوسرے کو مات دینے کیلئے نئے مہرے چل رہا ہے، اور اس جنگ میں فی الوقت امن کی دستک بہت کمزور سنائی دے رہی ہے۔

پاک افغان محاذ آرائی اور ارومچی کا سفارتی راستہ: جیو پولیٹیکل بساط پر چین کی ثالثی اور تزویراتی مفادات کا گہرا تجزیہ

پاکستان، چین اور امریکہ کے تہرے مقابلے نے کابل کو دہلی کے قریب کر دیا ہے۔ ٹی ٹی پی کا مسئلہ ہو یا بگرام کی واپسی کا مطالبہ، پاک افغان تعلقات اب اس نہج پر ہیں جہاں صرف میز پر مزید پڑھیں

بنوں میں شدت پسندوں کا فتح خیل پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ، 15 اہلکار شہید، 3 زخمی بنوں (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں شدت پسندوں نے فتح خیل پولیس اسٹیشن کو ایک بڑے خودکش حملے کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے 15 اہلکاروں کی شہادت اور 3 کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ حملے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور کئی گھنٹوں تک امدادی سرگرمیاں متاثر رہیں۔ پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق حملہ اتوار کی رات تقریباً 9 بجے اس وقت کیا گیا جب بارود سے بھرے ایک لوڈر رکشہ کو فتح خیل پولیس اسٹیشن کی عمارت سے ٹکرا دیا گیا۔ دھماکہ انتہائی شدید نوعیت کا تھا، جس کی آواز دور دور تک سنی گئی، جبکہ دھماکے سے پولیس اسٹیشن کی عمارت مکمل طور پر زمین بوس ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق اس وقت پولیس اسٹیشن میں مجموعی طور پر 18 اہلکار موجود تھے۔ دھماکے کے نتیجے میں 15 اہلکار موقع پر شہید ہوگئے، جبکہ تین اہلکار شدید زخمی حالت میں ملبے سے نکالے گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ریسکیو میں شہریوں کے ساتھ ساتھ ریسکیو 1122 اور الخدمت کے رضاکروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، پولیس حکام کے مطابق حملے کے فوری بعد شدت پسندوں نے علاقے کے مختلف راستوں اور شاہراہوں پر پوزیشنیں سنبھال لیں اور امدادی کارروائیوں کیلئے جانے والی پولیس اور ریسکیو ٹیموں پر فائرنگ بھی کی۔ سیکیورٹی خدشات اور رات کی تاریکی کے باعث کئی گھنٹوں تک ریسکیو سرگرمیاں شدید متاثر رہیں۔ پہلے مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے تلے دبے اہلکاروں کو نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق علاقے میں شدید خوف کی فضا قائم رہی، جبکہ دھماکے کے بعد کئی گھنٹوں تک وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران بنوں اور اس کے گرد و نواح میں شدت پسند حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خصوصاً تھانوں، پولیس چوکیوں اور سیکیورٹی فورسز کی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے حافظ گل بہادر گروپ، اتحاد المجاہدین، نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، جو بنوں اور اس کے گرد و نواح میں کافی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ ذرائع اور شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلع کے کئی دیہی علاقوں میں سرکاری عملداری کمزور پڑ چکی ہے اور شام کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں کی نقل و حرکت بھی محدود ہو جاتی ہے۔ شہریوں کے مطابق بعض علاقوں میں شدت پسند گروہوں کی سرگرمیاں کھلے عام جاری ہیں، جبکہ تاجروں اور کاروباری طبقے سے بھتہ خوری کی شکایات بھی مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔ بنوں کے عوام کا کہنا ہے کہ مسلسل حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے واقعات نے معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ شہریوں نے حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں مؤثر کارروائیاں کرکے امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے۔ دوسری جانب حکام کی جانب سے حملے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کرنے اور سرچ آپریشن شروع کرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تاہم سرکاری سطح پر واقعے کی مکمل تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں۔

بنوں میں شدت پسندوں کا فتح خیل پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ، 15 اہلکار شہید، 3 زخمی

بنوں (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں شدت پسندوں نے فتح خیل پولیس اسٹیشن کو ایک بڑے خودکش حملے کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے 15 اہلکاروں کی شہادت اور 3 کے زخمی ہونے کی تصدیق مزید پڑھیں

دہشت گردی کے خلاف عالمی گھیرا تنگ: آسٹریلیا نے بھی بی ایل اے اور اس کی قیادت پر کڑی پابندیاں عائد کر دیں پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کی کارروائیوں میں ملوث کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کے خلاف عالمی برادری کا گھیرا مزید تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک اہم تزویراتی پیش رفت میں آسٹریلوی حکومت نے بی ایل اے اور اس کے تین سینئر رہنماؤں کو باقاعدہ طور پر دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے ان پر کڑی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ آسٹریلوی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تنظیم پاکستان میں سویلین شہریوں، غیر ملکی باشندوں، اہم قومی تنصیبات اور ریاستی اداروں پر حملوں میں براہِ راست ملوث ہے، جس کے باعث عالمی امن کو خطرات لاحق ہیں۔ آسٹریلیا کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر انتہا پسند گروہوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ کینبرا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا کا دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف مقابلہ کرنے کا عزم غیر متزلزل ہے اور ان تازہ پابندیوں کا بنیادی مقصد دہشت گردوں کی مالی شہ رگ کاٹنا ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے اب تنظیم کے لیے نئے کارندوں کی بھرتی، کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور انتہا پسند نظریات کی تشہیر کو ناممکن بنایا جائے گا۔ آسٹریلوی حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایسے تمام نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی جو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔ قانونی نقطہ نظر سے یہ پابندیاں انتہائی سخت ہیں، جن کے تحت اب ان نامزد افراد اور تنظیم کے اثاثوں کا استعمال، کسی بھی قسم کا لین دین یا انہیں مالی وسائل فراہم کرنا آسٹریلوی قانون کے تحت سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی فرد یا ادارے کو 10 سال تک قید کی سزا اور بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین اس اقدام کو پاکستان کی اس سفارتی مہم کی کامیابی قرار دے رہے ہیں جس کے تحت بی ایل اے کو پہلے ہی امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین جیسے اہم عالمی کھلاڑی دہشت گرد قرار دے چکے ہیں۔ بی ایل اے کی حالیہ کارروائیوں، بالخصوص چینی قونصل خانے اور کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملوں نے عالمی برادری کو یہ باور کرایا ہے کہ یہ گروہ اب صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی مفادات کے لئے بھی خطرہ ہے۔ اس مضمون اس بات کی نشاندہی کرنے کی کوشش کیا ہے، کہ آسٹریلیا کا یہ فیصلہ محض ایک قانونی کارروائی نہیں بلکہ ایک واضح سفارتی پیغام ہے کہ علیحدگی پسندی کی آڑ میں تشدد کا راستہ اختیار کرنے والے گروہوں کے لئے اب دنیا میں کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ یہ دستاویز اس بات کی شاہد ہے کہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو اب عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے اور مالیاتی نیٹ ورکس کی بندش سے ان کالعدم تنظیموں کی آپریشنل صلاحیتوں کو شدید دھچکا لگے گا۔ کینبرا کا یہ سخت موقف اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش ہے کہ عالمی امن و سلامتی کا تحفظ ہر قیمت پر ممکن بنایا جا سکے۔

دہشت گردی کے خلاف عالمی گھیرا تنگ: آسٹریلیا نے بھی بی ایل اے اور اس کی قیادت پر کڑی پابندیاں عائد کر دیں

پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کی کارروائیوں میں ملوث کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کے خلاف عالمی برادری کا گھیرا مزید تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک اہم تزویراتی پیش مزید پڑھیں

پشاور میں امریکی قونصل خانے کی بندش: ایک تاریخی و تزویراتی تجزیہ دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ مئی 2026 کی ایک خاموش صبح پشاور میں امریکی پرچم کا باقاعدہ طور پر اتارا جانا محض ایک دفتری منتقلی نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے ایک ایسے طویل اور ہنگامہ خیز باب کا خاتمہ ہے جو سات دہائیوں پر محیط تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ کا یہ فیصلہ کہ پشاور سے تمام سفارتی امور اسلام آباد منتقل کر دئے جائیں، ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور میں کسی بھی بیرونِ ملک امریکی مشن کی پہلی مستقل بندش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن کی جانب سے اس فیصلے کا بظاہر سبب بجٹ میں کٹوتی اور سیکیورٹی خدشات بتائے گئے ہیں، لیکن اس کے پیچھے چھپی تزویراتی وجوہات اس ڈھانچے کی مکمل تحلیل کی طرف اشارہ کرتی ہیں جس نے سرد جنگ سے لے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ تک واشنگٹن کے لئے ہراول دستے کا کام کیا تھا۔ اب نئی ٹیکنالوجی اور بدلی ہوئی عالمی ترجیحات نے پشاور میں فزیکل موجودگی کی ضرورت کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ اس کہانی کی جڑیں 1952 میں پیوست ہیں جب پشاور میں پہلی بار امریکی قونصل خانے کی بنیاد رکھی گئی۔ وہ دور سرد جنگ کا تھا اور پشاور کی جغرافیائی حیثیت اسے کمیونزم کے خلاف ایک بہترین واچ ٹاور بناتی تھی۔ پشاور محض ایک سفارتی دفتر نہیں تھا بلکہ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کا وہ حساس مہرہ تھا جہاں سے سوویت یونین اور وسطی ایشیا کی فوجی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکتی تھی۔ اسی مقصد کے لئے پشاور ایئر اسٹیشن یا (بڈھ بیر اڈہ) قائم کیا گیا، جسے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا ایک انتہائی حساس مانیٹرنگ مرکز مانا جاتا تھا۔ اس دور میں اسے لٹل یو ایس اے کہا جاتا تھا، جہاں سینکڑوں امریکی اہلکار ایک خود کفیل بستی کی طرح رہتے تھے۔ یہ وہی مقام تھا جہاں سے اڑنے والے امریکی یو ٹو (U-2) جاسوس طیارے کو سوویت یونین نے مار گرایا، جس کے بعد دنیا نے وہ منظر بھی دیکھا جب سوویت رہنما نکیتا خروشیف نے پشاور کے گرد نقشے پر سرخ لکیر کھینچ کر اسے تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ پشاور قونصل خانے کی تاریخ کا سب سے متحرک اور ہنگامہ خیز دور افغان جنگوں کے دوران سامنے آیا۔ اسی قونصل خانے نے 1979 سے 1989 کے دوران افغان مزاحمت کے اعصابی مرکز کے طور پر کام کیا۔ سی آئی اے اور امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار اسی عمارت سے افغان مجاہدین اور پاکستانی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے۔ اسی دور میں بڈھ بیر کے مقام پر وہ خونی معرکہ بھی پیش آیا جس میں قید سوویت اور افغان فوجیوں نے مسلح بغاوت کی اور پورا اسلحہ خانہ دھماکے سے اڑ گیا۔ نائن الیون کے بعد جب امریکہ ایک بار پھر اس خطے میں جنگ کے لیے اترا تو پشاور قونصل خانہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔ یہ تورخم بارڈر کے راستے نیٹو سپلائی لائنز کو محفوظ بنانے اور قبائلی علاقوں میں جاری عسکری کارروائیوں کی نگرانی کا سب سے بڑا لاجسٹک اور انٹیلی جنس مرکز بن کر ابھرا۔ لیکن اس تزویراتی اہمیت کی ایک بھاری قیمت سیکیورٹی کی صورت میں چکانی پڑی۔ پشاور میں امریکی سفارت کاروں پر ہونے والے حملے محض اتفاق نہیں تھے بلکہ ایک منظم مہم کا حصہ تھے۔ اگست 2008 میں جب مسلح افراد نے یونیورسٹی ٹاؤن میں قونصل جنرل لِن ٹریسی کی گاڑی کو گھیر کر اندھا دھند فائرنگ کی، تو یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ اب شہر کے گنجان علاقوں میں امریکی اہلکار محفوظ نہیں رہے۔ اسی سال نومبر میں یو ایس ایڈ کے ڈائریکٹر اسٹیفن وینس کو ان کے ڈرائیور سمیت قتل کر دیا گیا۔ اپریل 2010 میں پشاور نے وہ ہولناک دن دیکھا جب پانچ خودکش حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی اور راکٹوں کے ساتھ قونصل خانے کی عمارت پر دھاوا بول دیا۔ اس حملے میں 50 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور قونصل خانے کا دفاعی ڈھانچہ بری طرح لرز گیا۔ اس کے بعد بھی 2011 اور 2012 میں موٹر سائیکل بموں اور مارٹر شیلز کے ذریعے مسلسل حملے جاری رہے، جس نے واشنگٹن کو یہ باور کرا دیا کہ پشاور کے شہری علاقے میں سفارتی عملے کی موجودگی اب ایک ناقابلِ برداشت رسک ہے۔ یونیورسٹی ٹاؤن کا علاقہ برسوں تک ان خفیہ سرگرمیوں کا اصل گڑھ بنا رہا۔ چونکہ قونصل خانے کی مرکزی عمارت چھوٹی تھی، اس لئے امریکی عملے کی رہائش اور ترقیاتی سرگرمیوں کو یونیورسٹی ٹاؤن کے وسیع مکانات اور ولاز میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ یہ ولاز بظاہر عام رہائشی مکانات لگتے تھے لیکن ان کے اندر کا نظام انتہائی پیچیدہ اور دنیا کی نظروں سے اوجھل تھا۔ یہاں سی آئی اے کے اہلکار اور نجی سیکیورٹی فرمز کے کارندے مشکوک افراد کی نگرانی اور معلومات کا تبادلہ کرتے تھے۔ اسی نیٹ ورک کا ایک حصہ ریمنڈ ڈیوس جیسے متنازع کرداروں سے بھی جڑا تھا جن کے ان خفیہ کمپاؤنڈز سے روابط اکثر مقامی مقتدر حلقوں کے لئے شک کا باعث بنتے رہے۔ یو ایس ایڈ اور مختلف این جی اوز کی آڑ میں ہونے والے انٹیلی جنس روابط نے پشاور کے سماجی ڈھانچے پر بھی گہرے اثرات مرتب کئے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مئی 2026 میں اس مشن کو بند کرنے کا حتمی فیصلہ کیوں کیا گیا؟ اس کی بڑی وجہ بدلتی ہوئی امریکی ترجیحات ہیں۔ افغانستان سے انخلا کے بعد اب واشنگٹن کو پشاور میں اس قدر بڑے اور مہنگے مشن کی ضرورت نہیں رہی۔ مزید برآں، ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی وفاقی اداروں میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کا جو پروگرام شروع کیا ہے، اس کے تحت پشاور جیسے ریموٹ مشنز کا جواز ختم ہو گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس بندش سے امریکی خزانے کو سالانہ تقریباً 7.5 ملین ڈالر کی بچت ہوگی۔ اس کے علاوہ، حالیہ مہینوں میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی اور کراچی میں امریکی مشن پر ہونے والے حملوں نے سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس نے پشاور قونصل خانے کو بند کرنے کے عمل میں تیزی پیدا کر دی ہے۔ پشاور میں فزیکل موجودگی کے خاتمے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ امریکہ اس خطے سے مکمل طور پر لاتعلق ہو رہا ہے۔ اب امریکہ کی دلچسپی کا محور بوٹس آن گراؤنڈ کے بجائے ڈیجیٹل اور سیٹلائٹ مانیٹرنگ پر منتقل ہو چکا ہے۔ واشنگٹن اب جدید ترین فضائی نگرانی اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے وہی مقاصد حاصل کر رہا ہے جو پہلے پشاور میں بیٹھ کر حاصل کئے جاتے تھے۔ اس فیصلے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ عسکریت پسندوں کے لئے اب کوئی آسان اور فزیکل امریکی ہدف باقی نہیں رہے گا، جس سے پاکستان کے سیکیورٹی اداروں پر دباؤ میں کمی آئے گی۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ پشاور میں امریکی قونصل خانے کی یہ تاریخی بندش پاکستان اور افغانستان کے خطے میں امریکہ کے اس روایتی فرنٹ لائن اسٹیٹ والے کردار کے باقاعدہ خاتمے کا اعلان ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ اب اس خطے کو ماضی کی طرح جنگی مہم جوئی کے بجائے ایک انتہائی محدود اور دور رس سفارتی نظر سے دیکھنا چاہتا ہے۔پاکستان اور بالخصوص پشاور کے لئے یہ ایک بڑی نفسیاتی اور سیاسی تبدیلی ہے۔ وار آن ٹیرر اور افغان جہاد کے دوران پشاور جو عالمی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا تھا، اب اس فزیکل موجودگی کے ختم ہونے سے اس خطے کی وہ حیثیت بدل رہی ہے جسے بین الاقوامی میڈیا میں خطرناک ترین سرحد کہا جاتا تھا۔ یہ اس بات کی دستاویز ہے کہ اب امریکہ اس خطے کو براہِ راست مداخلت کے بجائے دور سے مانیٹر کرنا چاہتا ہے۔

پشاور میں امریکی قونصل خانے کی بندش: ایک تاریخی و تزویراتی تجزیہ

دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ پشاور سے امریکی پرچم کی رخصتی: سات دہائیوں پر محیط تزویراتی تعلق کا خاتمہ اور پاک-افغان سرحد پر بدلتی ہوئی عالمی بساط کا تجزیہ مئی 2026 کی ایک خاموش صبح پشاور میں امریکی پرچم کا باقاعدہ مزید پڑھیں

یو اے ای سے مخصوص افراد کی بے دخلی کی خبریں من گھڑت ہیں، وفاقی وزارت داخلہ کی وضاحت پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو مکمل طور پر مسترد اور جعلی قرار دے دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے کسی خاص ملک یا فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو بے دخل کیا جا رہا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک باضابطہ اعلامئے میں دوٹوک الفاظ میں واضح کیا گیا ہے کہ یو اے ای میں کسی بھی ملک یا فرقے کے خلاف ایسی کوئی مخصوص ڈی پورٹیشن مہم نہیں چل رہی اور نہ ہی کسی خاص طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اعلامئے کے مطابق یو اے ای سے کسی بھی فرد کی بے دخلی کا عمل صرف اور صرف میزبان ملک کے قوانین کی خلاف ورزی، ویزا شرائط کی عدم پاسداری یا غیر قانونی دستاویزات رکھنے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جس کا کسی سیاسی یا مذہبی وابستگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وزارت داخلہ نے مزید واضح کیا کہ پاکستانی شہری بدستور متحدہ عرب امارات اور دیگر دوست ممالک میں ورک ویزے حاصل کر رہے ہیں اور روزگار کے سلسلے میں ان کی آمد و رفت کا سلسلہ معمول کے مطابق جاری ہے۔ حکومت پاکستان بیرون ملک مقیم اپنے شہریوں کے مسائل سے پوری طرح آگاہ ہے اور کسی بھی مشکل صورتحال میں متعلقہ ممالک کے ساتھ سفارتی ذرائع سے رابطہ کیا جاتا ہے، جبکہ پاکستانیوں سے متعلق ہر معاملے کو کیس ٹو کیس بنیاد پر میرٹ پر دیکھا جاتا ہے۔ وزارت داخلہ نے عوام اور میڈیا کو غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی جعلی خبریں محض بدنیتی اور مذموم مقاصد کے تحت پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ دوست ممالک کے ساتھ تعلقات اور تارکین وطن کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی جا سکے، لہٰذا صرف سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ خبروں پر ہی یقین کیا جائے۔

یو اے ای سے مخصوص افراد کی بے دخلی کی خبریں من گھڑت ہیں، وفاقی وزارت داخلہ کی وضاحت

پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو مکمل طور پر مسترد اور جعلی قرار دے دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے مزید پڑھیں

ایران کا تجارتی جہازوں پر ٹول ٹیکس کا مطالبہ: عالمی معیشت کے لئے نیا خطرہ پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) عالمی سیاست کے اہم ترین مرکز، اقوامِ متحدہ میں اس وقت شدید سفارتی جنگ چھڑ گئی ہے جب امریکی سفیر مائیک والٹز نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں سویلین جہازوں پر ٹول ٹیکس نافذ کرنے کے نئے نظام کو پوری دنیا کے لئے ایک سنگین چیلنج قرار دے دیا۔ سلامتی کونسل میں ایک اہم قرارداد کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی سفیر نے انکشاف کیا کہ ایران اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام سویلین تجارتی جہازوں سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ اس گزرگاہ کو استعمال کرنے کے عوض ٹول ادا کریں۔ مائیک والٹز نے واضح کیا کہ یہ صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایران کا یہ نیا انتظامی ڈھانچہ عالمی تجارتی نظام کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس قرارداد کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور قطر جیسے اہم علاقائی ممالک کی بھرپور حمایت حاصل ہے، جو ایران سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ تجارتی جہازوں پر حملے بند کرے اور اس نئے نظام کو فوری طور پر ختم کرے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان الزامات اور قرارداد کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے رکن ممالک کو ایک احتجاجی خط لکھا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کا موقف ہے کہ سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا قرارداد کا مسودہ ناقص، یک طرفہ اور حقائق کے منافی ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کی اصل وجہ وہ نظام نہیں جسے امریکہ نشانہ بنا رہا ہے، بلکہ اس کی اصل جڑیں خطے میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مسلسل فوجی جارحیت اور طاقت کا غیر قانونی استعمال ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ قرارداد کے مسودے میں ان اہم عوامل کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا جو خطے کی سلامتی کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ اس سفارتی تنازع کا پس منظر انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کو دنیا کی تیل کی شہ رگ تصور کیا جاتا ہے۔ خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع یہ تنگ سمندری راستہ دنیا کی کل پیٹرولیم تجارت کے تقریباً ایک تہائی حصے کی گزرگاہ ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت تجارتی جہازوں کو ایسی بین الاقوامی گزرگاہوں سے بلا روک ٹوک گزرنے کا حق حاصل ہے، اور اس پر کسی بھی قسم کا ٹیکس یا کنٹرول عالمی تجارتی قوانین کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے اور ایران اس گزرگاہ پر اپنا کنٹرول سخت کرتا ہے، تو اس کے براہِ راست اثرات عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں پر پڑیں گے، جس سے پوری دنیا میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، سلامتی کونسل میں اس معاملے پر بحث آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کے تعلقات میں مزید تلخی پیدا کر سکتی ہے جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر مرتب ہوں گے۔

ایران کا تجارتی جہازوں پر ٹول ٹیکس کا مطالبہ: عالمی معیشت کے لئے نیا خطرہ

پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) عالمی سیاست کے اہم ترین مرکز، اقوامِ متحدہ میں اس وقت شدید سفارتی جنگ چھڑ گئی ہے جب امریکی سفیر مائیک والٹز نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں سویلین جہازوں پر ٹول مزید پڑھیں

خیبر پختونخوا میں آٹے کا بحران: پنجاب سے سپلائی میں رکاوٹیں یا بین الصوبائی تنازع؟

خیبر پختونخوا میں آٹے کا بحران: پنجاب سے سپلائی میں رکاوٹیں یا بین الصوبائی تنازع؟

پشاور: خیبر پختونخوا میں ایک بار پھر آٹے کی قیمتوں کو پر لگ گئے ہیں۔ پنجاب سے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی ترسیل میں حائل رکاوٹوں نے صوبے کے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ گزشتہ مزید پڑھیں