خلیج میں سیکیورٹی الرٹ: غیر ملکی کارکنوں کے لئے ہنگامی ہدایات اور سفری پابندیاں

پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) ایران کے محکمہ صحت کے مطابق، زخمیوں میں خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے، خاص طور پر تہران کے شمالی اضلاع میں شہری عمارتوں پر ہونے والے حملوں نے رہائشیوں کو شدید متاثر کیا ہے ۔ اسرائیل میں جانی نقصان ایئر ڈیفنس سسٹم (Iron Dome, Arrow) کی وجہ سے نسبتاً کم رہا، تاہم میزائلوں کے ٹکڑے گرنے اور خوف و ہراس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہسپتالوں میں زیرِ علاج رہے ۔  

مالی اعتبار سے، ایران کا جوہری پروگرام سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ اصفہان، نطنز اور فورڈو میں موجود جوہری تنصیبات کو امریکی اور اسرائیلی حملوں نے شدید نقصان پہنچایا ہے ۔ سی آئی اے کی رپورٹ کے مطابق، ان حملوں نے ایران کے جوہری عزائم کو کئی ماہ یا سالوں کے لئے پیچھے دھکیل دیا ہے ۔  
ایران میں معاشی طور پر بجلی کے نظام میں خلل پڑا ہے اور ملک بھر میں رولنگ بلیک آؤٹس جاری ہیں ۔ فضائی صنعت کو بھی شدید دھچکا لگا ہے، ایران کے 5 F-14 جنگی طیارے، 8 AH-1 ہیلی کاپٹر اور متعدد ریڈار سسٹم تباہ ہو چکے ہیں ۔ اسرائیل میں نیواتیم ایئربیس اور انٹیلی جنس مراکز کو جزوی نقصان پہنچا ہے، جبکہ شمالی اسرائیل میں حزب اللہ کے راکٹوں نے سینکڑوں عمارتوں کو نقصان پہنچایا، جس کے باعث ہزاروں شہریوں کو بے گھر کر دیا ۔
 
خلیجی ممالک، جو کہ لاکھوں غیر ملکی کارکنوں اور کاروباری افراد کا مسکن ہیں، اس وقت شدید سیکیورٹی الرٹ کی زد میں ہیں۔ فروری 2026 میں ہونے والے حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور کویت جیسے ممالک میں غیر ملکیوں کے لئے ہنگامی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
مختلف سفارت خانوں، بشمول امریکہ اور آسٹریلیا نے اپنے شہریوں اور وہاں مقیم ورکرز کو درج ذیل ہدایات جاری کی ہیں۔

شیلٹر ان پلیس، حملوں کے دوران غیر ملکیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی رہائش گاہوں کے اندر رہیں اور کھڑکیوں سے دور رہیں۔ ابوظہبی اور منامہ میں مقیم آسٹریلوی اور امریکی اہلکاروں کو پہلے ہی ان ہدایات پر عمل درآمد کروا دیا گیا ہے ۔  
سفری پابندیاں: غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور ایئر پورٹس پر جانے سے پہلے فلائٹ اسٹیٹس چیک کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ فروری 2026 میں دبئی اور ابوظہبی میں 700 سے زائد پروازیں منسوخ ہوئیں ۔  
غیر ملکیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے پاسپورٹ اور ویزا کی کاپیاں محفوظ رکھیں اور اپنے سفارت خانوں میں اپنا اندراج کروائیں ۔  
طویل مدتی لاک ڈاؤن یا فضائی حملوں کے پیش نظر خوراک، پانی اور ضروری ادویات کا ذخیرہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔  
خلیجی ممالک میں “ریڈ الرٹ” اور ورکرز کی حالتِ زار خلیج کے ممالک میں اس وقت دوہرا الرٹ جاری ہے۔ ایک طرف عسکری حملوں کا خطرہ ہے تو دوسری طرف فروری 2026 میں متحدہ عرب امارات میں شدید دھند (Fog) کی وجہ سے ریڈ الرٹ جاری کیا گیا، جس نے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے نظام کو مفلوج کر دیا ۔
 
غیر ملکی کارکنوں کی حالتِ زار انتہائی تشویشناک ہے، بہت سے ورکرز جو تعمیراتی شعبے یا آئل فیلڈز میں کام کر رہے تھے، کام کی معطلی کی وجہ سے مالی مشکلات کا شکار ہیں ۔ بحرین اور قطر میں امریکی اڈوں کے قریب رہنے والے کارکنوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے کیونکہ ایران نے ان اڈوں کو نشانہ بنانے کا واضح اعلان کر رکھا ہے ۔ فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے وطن واپسی کے خواہشمند کارکنان پھنس کر رہ گئے ہیں، جبکہ کچھ ممالک نے ویزا کی مدت میں خودکار توسیع کا اعلان کیا ہے تاکہ قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے ۔  

اگرچہ عسکری کارروائیاں عروج پر ہیں، لیکن پس پردہ جنگ بندی کے لئے متعدد عالمی اور علاقائی طاقتیں سرگرم ہیں۔
سلطنتِ عمان اس تنازع میں سب سے اہم ثالث کے طور پر ابھری ہے۔ اپریل 2025 میں مسقط میں امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس اراغچی کے درمیان بالواسطہ مذاکرات ہوئے ۔ عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے پیغامات کی ترسیل میں پل کا کردار ادا کیا اور دعویٰ کیا کہ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی تھی، جس میں ایران نے حزب اللہ اور حوثیوں کی سرگرمیاں منجمد کرنے کی پیشکش بھی کی تھی ۔ قطر نے بھی اس عمل میں تعاون کیا اور ایک جامع فریم ورک کے لئے کوششیں کیں تاکہ خطے کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کیا جا سکے ۔  

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالس نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر مذاکرات کی میز پر لوٹیں۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے مشترکہ بیان میں ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اشتعال انگیزی بند کرے اور اپنے جوہری پروگرام پر دوبارہ بات چیت شروع کرے، تاہم انہوں نے تہران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کی براہ راست حمایت یا مذمت سے گریز کیا ہے ۔  

پاکستان اور چین، دونوں ممالک مشرق وسطیٰ میں استحکام کے خواہاں ہیں لیکن ان کے نقطہ نظر میں توازن اور اسٹریٹجک مفادات کا رنگ غالب ہے۔
پاکستان نے ایران پر ہونے والے غیر منصفانہ حملوں کی مذمت کی ہے، لیکن ساتھ ہی ایران کی جانب سے خلیجی ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین پر کئے گئے میزائل حملوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ پاکستان کا کردار ایک “مصلحت پسند” دوست کا ہے جو خطے میں کسی بڑی آگ کو بجھانے کے لئے سفارتی اثر و رسوخ استعمال کر رہا ہے۔  
انسانی ہمدردی: متحدہ عرب امارات میں ایک پاکستانی شہری کی ہلاکت نے اسلام آباد کے لیے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، جس کے بعد پاکستانی دفترِ خارجہ نے اپنے شہریوں کے تحفظ کے لئے خلیجی ریاستوں کے ساتھ رابطہ تیز کر دیا ہے ۔  
علاقائی امن: پاکستان کی کوشش ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم ہو تاکہ اس کی اپنی مغربی سرحد افغانستان اور ایران پر امن برقرار رہے اور سی پیک (CPEC) جیسے منصوبے متاثر نہ ہوں ۔  
چین نے اس تنازع میں امریکہ اور اسرائیل کی عسکری مہم جوئی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق، ایران کی خودمختاری اور سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے ۔ چینی ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ رجیم چینج (حکومت کی تبدیلی) کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے اور مذاکرات کو محض ایک کور (Cover) کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔  
فوری جنگ بندی: تمام عسکری کارروائیوں کو فوراً روکا جائے ۔  
مذاکرات کا ازسرنو آغاز: ایران کے جوہری پروگرام پر 2015 کے معاہدے کی طرز پر نئی بات چیت شروع کی جائے ۔  
علاقائی استحکام: چین مشرق وسطیٰ کے ممالک کے درمیان براہ راست تعلقات کی بحالی (جیسے سعودی ایران معاہدہ) کو فروغ دے رہا ہے تاکہ بیرونی مداخلت کا راستہ روکا جا سکے

افغانستان کی اسلامی امارت (IEA) نے ایران اور اسرائیل کے تنازع پر انتہائی سخت اور واضح موقف اپنایا ہے۔ ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اسرائیلی حملوں کو صہیونی حکومت کی جارحیت قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔  
افغانستان کے سرکاری بیانات کے مطابق بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی، اسرائیل کی جانب سے ایرانی فوجی کمانڈروں اور جوہری سائنسدانوں کا قتل بین الاقوامی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ افغانستان کا ماننا ہے کہ اسرائیل غزہ میں جاری مظالم سے توجہ ہٹانے کے لئے خطے میں نئی جنگ چھیڑ رہا ہے۔
پناہ گزینوں کا مسئلہ: افغانستان نے ایران کا شکریہ ادا کیا ہے کہ اس نے دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے، اور موجودہ کشیدگی میں وہ ایران کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے ۔  
عالمی برادری کی ذمہ داری: اسلامی امارت نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو مزید عدم استحکام پھیلانے سے روکیں تاکہ خطے میں انارکی پیدا نہ ہو ۔  
امریکی بحریہ نے خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عرب میں “میری ٹائم وارننگ زون” قائم کر دیا ہے ۔ تجارتی جہازوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ امریکی جنگی جہازوں سے کم از کم 30 ناٹیکل میل کا فاصلہ برقرار رکھیں تاکہ کسی غلط فہمی یا حادثاتی حملے سے بچا جا سکے ۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکیوں نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے، جبکہ انشورنس کمپنیوں نے اس خطے سے گزرنے والے جہازوں کے پریمیم میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے ۔  

2026 کے وسط تک کی صورتحال یہ بتاتی ہے کہ تنازع محض میزائلوں تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک وجود کی جنگ بن چکا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کا ہدف ایران کی طاقت کو مکمل ختم کرنا ہے، جبکہ ایران اپنے “مزاحمتی محور” کے ذریعے خطے میں امریکی موجودگی کو ناممکن بنانا چاہتا ہے ۔  
امن کے لئے درج ذیل عوامل فیصلہ کن ہوں گے:
امریکہ میں سیاسی تبدیلی: صدر ٹرمپ کی پالیسیاں اور ان کا مذاکرات بمقابلہ عسکری طاقت کا توازن خطے کا مستقبل طے کرے گا ۔  
ایران کی اندرونی صورتحال: انٹرنیٹ بلیک آؤٹس اور مسلسل حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عوامی ردعمل حکومت کی پالیسی پر اثر انداز ہو سکتا ہے ۔  
ثالثی کا نیا فریم ورک: اگر عمان اور قطر، چین کے تعاون سے کوئی ایسا معاہدہ کروانے میں کامیاب ہو جائیں جس میں ایران کی سیکیورٹی ضمانتیں اور اسرائیل کا تحفظ شامل ہو، تو جنگ کے بادل چھٹ سکتے ہیں ۔  
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے مابین جاری یہ کشیدگی اب محض ایک علاقائی تنازع نہیں رہی بلکہ یہ تیسری عالمی جنگ کے پیش خیمہ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ میزائلوں کی تعداد، اہداف کی حساسیت اور جانی و مالی نقصانات کے اعداد و شمار اس ہولناکی کی گواہی دیتے ہیں جو اس وقت مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے۔ خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں غیر ملکی کارکنوں اور کاروباری افراد کے لئے یہ وقت انتہائی کٹھن ہے، جہاں انہیں نہ صرف اپنی جانوں کی فکر ہے بلکہ ان کا روزگار بھی داؤ پر لگا ہوا ہے۔ پاکستان اور چین کا کردار اس صورتحال میں تعمیری ہے، لیکن جب تک بڑی طاقتیں رجیم چینج اور علاقائی بالادستی کے خواب دیکھتی رہیں گی، امن کا قیام ایک مشکل خواب ہی رہے گا۔ افغانستان کا واضح موقف مسلم امہ کی یکجہتی کی عکاسی کرتا ہے، لیکن عملی طور پر جنگ کو روکنے کے لئے سفارتی میز پر بیٹھے ممالک (عمان، قطر) کا کردار ہی حتمی ثابت ہوگا۔ دی خیبرٹائمز کے قارئین کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ بدلتے ہوئے عالمی حالات پر نظر رکھیں، کیونکہ ان واقعات کے اثرات براہ راست ہماری معیشت اور سیکیورٹی پر مرتب ہو رہے ہیں۔