خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کا 13سالہ دور اقتدار…حکمرانوں کے دعوے …اپوزیشن کی تنقید…عوامی اظہار راۓ
خصوصی تحریر: سفیراللہ
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)خیبر پختونخوا میں 2013 سے مسلسل برسر اقتدار ہے تب سے لے کر اب تک یعنی تیرہ سال کے دوران صوبے کی سیاست، طرزحکمرانی اور ترقیاتی پالیسیوں میں اس جماعت کا کردار نمایاں رہا ہے۔ 2013 کے عام انتخابات کے بعد پی ٹی آئی نے پہلی مرتبہ صوبے میں حکومت بنائی ۔اس کے بعد 2018 کے انتخابات میں بھی واضح کامیابی حاصل کر کے اقتدار برقرار رکھا۔ اس عرصے میں صوبے کی حکومت نے مختلف شعبوں میں اصلاحات اور فلاحی منصوبوں کے دعوے کیے جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے ان دعوؤں کو ہدف تنقید بناتے ہوۓ حکومت کی کارکردگی کو چیلنج کیا۔ گزشتہ تیرہ برسوں میں پی ٹی آئی کی حکومت کو صوبے میں ایک طویل سیاسی تسلسل کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس نے خیبر پختونخوا کی حکمرانی کے انداز کو متاثر کیا۔
پی ٹی آئی کی قیادت کا مؤقف رہا ہے کہ اس دور حکومت میں صحت، پولیس اصلاحات، تعلیم اور مقامی حکومتوں کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں لائی گئیں۔ صحت کے شعبے میں حکومت نے صحت انصاف کارڈ جیسے منصوبے کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیا جس کے تحت لاکھوں خاندانوں کو سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں علاج کی سہولت فراہم کی گئی۔ اسی طرح پولیس کے نظام میں اصلاحات لا کر تھانہ کلچر کے خاتمے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور میرٹ پر بھرتیوں کو بھی پی ٹی آئی حکومت کی اہم کامیابیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جبکہ صوبہ کے صدر مقام شہر پشاور میں دیگر منصوبوں کے علاوہ جدید بس سروس بی آر ٹی جیسے میگا پراجیکٹ کے اجراء کو بھی حکمران جماعت بڑا کریڈٹ گردان رہی ہے۔ پارٹی کے بانی رہنما عمران خان نے بھی کئی مواقع پر کہا کہ خیبر پختونخوا کو اصلاحات کا ایک ماڈل صوبہ بنانے کی کوشش کی گئی جہاں اداروں کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرنے پر زور دیا گیا۔
سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپورنے مختلف بیانات میں کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے صوبے میں گورننس کو بہتر بنانے، صحت کے منصوبوں کو جاری رکھنے اور امن و امان کے قیام کے لیے اقدامات کیے۔ ان کے مطابق حکومت نے مالی مشکلات کے باوجود عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھا اور کوشش کی کہ عام آدمی کو ریاستی سہولیات تک بہتر رسائی ملے۔ موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے ابتدائی بیانات میں کہا کہ صوبائی حکومت کی ترجیح انتظامی استحکام، ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنا اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت آئندہ برسوں میں تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں مزید بہتری لانے کے لیے اقدامات کرے گی۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں صوبے میں پی ٹی آئی کی اس کارکردگی سے مطمئن نظر نہیں آتیں۔ ان جماعتوں کے رہنماؤں جن میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد سر فہرست ہیں۔ کا کہنا ہے کہ تیرہ سال کے طویل عرصے کے باوجود صوبے میں صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع اور بنیادی انفراسٹرکچر میں وہ پیش رفت نہیں ہو سکی جس کے وعدے اور دعوے کۓ گۓ ۔ اپوزیشن کے مطابق حکمران جماعت نے زیادہ تر توجہ اپنے قائد کی جیل سے رہائ پر مرکوز رکھی اور سڑکوں پر احتجاج کر کے وقت کا ضیاع کیا۔ جبکہ معیشت، صنعت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں پائیدار منصوبہ بندی کا فقدان رہا۔ ان کا مؤقف ہے کہ صوبے کو اب بھی مالی مشکلات، بے روزگاری اور ترقیاتی منصوبوں کی سست روی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
عوامی سطح پر بھی اس حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ کچھ شہریوں کا خیال ہے کہ صحت انصاف کارڈ اور پولیس اصلاحات اور بی آر ٹی جیسے منصوبوں نے عام آدمی کو براہ راست فائدہ پہنچایا اور حکومتی نظام میں شفافیت کی کوششیں کی گئیں۔ دوسری جانب بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ صوبے میں انفراسٹرکچر، روزگار اور معاشی ترقی کی رفتار توقعات کے مطابق نہیں رہی اور حکومت کو ان شعبوں میں مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے تیرہ سالہ دور اقتدار کو ایک اہم سیاسی تجربہ سمجھا جاتا ہے جس میں اصلاحات اور فلاحی منصوبوں کے ساتھ ساتھ حکمرانی اور معاشی ترقی کے حوالے سے بحث اور اختلاف رائے بھی مسلسل جاری رہا۔ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئ کے دور حکومت کو بعض حلقے کامیابی قرار دیتے ہیں جبکہ کچھ ناقدین اسے ناکامی کا شکار قرار دیتے ہیں۔




