Rescue 1122 personnel and local residents carrying out relief operations following the attack on a traffic police mobile in Tank.

ٹانک: وزیر آباد بازار میں ٹریفک پولیس موبائل پر حملہ، 3 اہلکار شہید اور اے ایس آئی سمیت متعدد افراد زخمی، سرکاری گاڑی برآمد

ٹانک ( دی خیبر ٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک) خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک کے مصروف کاروباری مرکز وزیر آباد بازار میں نامعلوم مسلح دہشتگردوں نے ٹریفک پولیس کی موبائل وین پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار تین اہلکار موقع پر ہی جامِ شہادت نوش کر گئے جبکہ اے ایس آئی اور راہگیروں سمیت کئی افراد زخمی ہو گئے۔ حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، تاہم پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چھینی گئی موبائل وین برآمد کر لی ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) عبدالصمد خان کے مطابق فائرنگ کا یہ دلخراش واقعہ ٹانک کے وزیر آباد بازار میں پیش آیا۔ مسلح ملزمان نے گھات لگا کر ٹریفک پولیس کی موبائل وین کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ اتنی شدید تھی کہ گاڑی میں سوار تینوں ٹریفک اہلکار سنبھلنے کا موقع نہ پا سکے اور موقع پر ہی شہید ہو گئے۔

دہشتگرد واردات کے بعد حسبِ معمول ٹریفک پولیس کی موبائل وین بھی اپنے ساتھ اغوا کر کے لے گئے، تاہم پولیس نے فوری اور پیشہ ورانہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے گاڑی کا تعاقب کیا اور اسے بعد ازاں گرہ بڈھا کے علاقے سے بحفاظت برآمد کر لیا۔

واقعہ میں اے ایس آئی عصمت اللہ شدید زخمی ہوئے، جبکہ فائرنگ کی زد میں آ کر دو راہ گیر بھی زخمی ہوئے ہیں۔ تمام زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کیلئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) ٹانک اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام نے فوری طور پر جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ ڈی پی او کے مطابق، ملزمان کی گرفتاری کیلئے ضلع بھر کی تمام شاہراہوں اور پیدل راستوں کی سخت ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ علاقے میں نامعلوم حملہ آوروں کی تلاش کیلئے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا عزم ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کرنے والے عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ضلع ٹانک اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں امن و امان کی صورتحال طویل عرصے سے ابتر چلی آ رہی ہے۔ ان علاقوں میں سرکاری عملداری کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے، جہاں مختلف دہشتگرد تنظیموں اور عناصر نے سیکیورٹی اداروں کیلئے مشکلات پیدا کر رکھی ہیں۔ عام شہریوں کے ساتھ ساتھ پولیس اور دیگر سرکاری تنصیبات بھی مسلسل ان عسکریت پسندوں کے نشانے پر ہیں، جو خطے میں پائیدار امن کے قیام کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

Tank Attack Summary:

Three Traffic Personnel Martyred, Vehicle Recovered

TANK: Three traffic police personnel were martyred on the spot, and an Assistant Sub-Inspector (ASI) along with two bystanders were injured when unidentified armed attackers opened fire on a traffic police mobile van in the Wazirabad Bazaar of Tank district.

Key Details of the Incident:

  • Casualties: Three traffic officials embraced martyrdom on the spot. ASI Ismatullah and two civilian bystanders sustained injuries and were immediately shifted to the District Headquarters (DHQ) Hospital for treatment.
  • Vehicle Recovery: The attackers initially fled the scene taking the police mobile van with them, but police successfully recovered the vehicle later from the Grah Budha area.
  • Law Enforcement Response: District Police Officer (DPO) Abdul Samad Khan stated that all major roads and pedestrian routes across the district have been blockaded and a search operation is underway to apprehend the fleeing culprits.
  • Security Context: The incident underscores the severe security challenges and compromised state writ in Tank and its surrounding regions, where militant groups frequently target citizens, police, and state infrastructure

• • The Khyber Times: thekhybertimes@gmail.com