دی خیبر ٹائمز خصوصی تحریر:
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کیلئے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف ایک بار پھر بڑے پیمانے پر مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس احتجاج کو کامیاب بنانے کیلئے پارٹی کی طرف سے دعوے کئے جا رہے ہیں کہ اس بار لاکھوں افراد کو دارالحکومت لایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل افریدی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ بیس لاکھ لوگوں کو اسلام آباد لاکر دنیا کو حیران کر دیں گے۔ تاہم، اس بلند بانگ دعوے کے پچھلے منظر نامے پر نظر ڈالی جائے تو پی ٹی آئی کو اس وقت شدید اندرونی خلفشار، انتظامی جکڑبندیوں اور سنگین سیاسی بحران کا سامنا ہے۔
ایک طرف وفاقی حکومت اور انتظامیہ نے اسلام آباد کو کنٹینروں کا شہر بنا دیا ہے اور ہر داخلی راستے کو بند کرنے کی تیاری مکمل کرلی ہے، تو دوسری طرف خیبر پختونخوا کے اندر خود پی ٹی آئی کی صفوں میں شدید پھوٹ پڑ چکی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ پارٹی کے اپنے ہی رہنما اور کارکنان ایک دوسرے کے پیر کاٹنے میں مصروف ہیں۔ صوبائی کابینہ کے اراکین اور اراکینِ اسمبلی (ایم پی ایز) کی ایک بڑی تعداد وزیراعلیٰ سہیل افریدی کے مخالف صف میں کھڑی دکھائی دیتی ہے۔
پارٹی کے اندر اس مخدوش صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صوبائی وزیر فضل شکور کی مبینہ گرفتاری یا اغوائیگی اور عمران خان کی تینوں بہنوں کو حراست میں لینے کے بعد پارٹی کی مرکزی قیادت شدید دباؤ میں ہے۔ مبصرین کے مطابق، سابق وزیراعلیٰ، جو ماضی میں دھرنوں اور احتجاجی سیاست کے ماہر سمجھے جاتے تھے، ان کا اس اہم موڑ پر عدم تعاون پارٹی کے اندر گہری مایوسی کا سبب بن رہا ہے۔ ان تمام اندرونی چیلنجز کے درمیان وزیراعلیٰ سہیل افریدی ایک ایسے بند میں پھنس چکے ہیں جہاں انہیں اپنی وزارت اور سیاسی مستقبل بچانے کیلئے اس تحریک کو ہر صورت کامیاب کرنا ہے، لیکن بیس لاکھ افراد کو ڈی چوک تک لانا اب ایک ناممکن امر اور کٹھن امتحان بنتا جا رہا ہے۔ ادھر پنجاب اور سندھ سے بھی کسی بڑی اسٹریٹ موومنٹ یا خاطر خواہ عوامی ردعمل کے آثار نظر نہیں آئے، جس نے پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے اس احتجاج کو سختی سے کچلنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات اور حکومتی ترجمان عطا تارڑ نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، پی ٹی آئی کو اسلام آباد آ کر امن و عامہ کی صورتحال خراب کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور حکومت انہیں بھرپور طریقے سے روکے گی۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ آج تک پی ٹی آئی کا کوئی بھی احتجاج پرامن نہیں دیکھا گیا، اس لئے انہیں ہوش کے ناخن لینے چاہئیں ورنہ ان کے ساتھ وہ سلوک کیا جائے گا جو وہ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی مصدقہ اطلاعات پر کی گئی کہ وہ امن و عامہ کو خراب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی تھیں۔
مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کی قیادت پر شدید تنقید کی اور سوال اٹھایا کہ اگر بات چیت کی جائے تو کس سے کی جائے؟ پی ٹی آئی میں اصل انچارج اور فیصلہ ساز کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر بالکل فارغ ہیں، پارٹی میں ان کی کوئی بات نہیں سنتا۔ جو دو تین افراد مذاکرات کیلئے آگے آتے ہیں ان کے پاس اختیار نام کی کوئی چیز نہیں ہے، اس لئے ان سے مذاکرات کا کوئی جواز اور فائدہ نہیں کیونکہ ان کی زبان پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔
27 ستمبر کا یہ دنگل ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں ایک طرف پی ٹی آئی اپنی بقا اور بانی چیئرمین کی رہائی کیلئے آخری پانسہ پھینکنے کی کوشش کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف حکومتی آہنی ہتھکنڈے، اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات اور سب سے بڑھ کر پی ٹی آئی کی اپنی صفوں میں موجود باہمی چپقلش اور عدم اعتماد اس تحریک کو کامیابی سے ہمکنار ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا سہیل افریدی اپنے دعووں کے برعکس کوئی معجزہ دکھا پاتے ہیں یا یہ احتجاج بھی اندرونی تفرقے کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔




