Cargo trucks stranded at the Pakistan-Afghanistan border as Afghan travelers and medical students face growing restrictions

علم پر سیکیورٹی کا سایہ: افغان طلباء کی بے دخلی کا جائزہ

دی خیبر ٹائمز خصوصی تحریر

پاکستان میں تعلیمی و طبی شعبے کے حوالے سے حال ہی میں ایک ایسا غیر معمولی فیصلہ سامنے آیا ہے جس نے نہ صرف تعلیمی اور انتظامی حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ اس کے دور رس سفارتی، انسانی اور قانونی اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی جانب سے ملک کے نجی اور سرکاری طبی و دندان سازی کے تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم افغان طلباء و طالبات کو فوری طور پر اپنے وطن واپس بھیجنے، نئے داخلوں پر مکمل پابندی عائد کرنے اور مائگریشن و ٹرانسفر کو روکنے کے سخت احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ یہ اقدام محض ایک انتظامی نوٹیفکیشن نہیں بلکہ حکومتِ پاکستان کے غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے منصوبے اور پاک افغان سرحد پر بڑھتی ہوئی سیکیورٹی کشیدگی کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ 1 ستمبر 2026 کو پی ایم ڈی سی کی طرف سے جاری کردہ مراسلے میں 31 جولائی 2026 کے سابقہ فیصلوں کی توثیق کرتے ہوئے ملک بھر کی تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قومی پالیسی کی روشنی میں افغان طلباء کی فوری بے دخلی اور ان کیلئے لازمی نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (NOC) کے اجراء کو یقینی بنائیں۔ اداروں کو تعمیلی رپورٹ جمع کرانے کیلئے صرف ایک سے تین دنوں کی مہلت دی گئی ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں پی ایم ڈی سی ایکٹ 2022 کے تحت سخت قانونی و ریگولیٹری اقدامات کا انتباہ بھی دیا گیا ہے۔

اس اچانک اور سخت فیصلہ کن قدم سے ملک میں مقیم ہزاروں افغان محصلین کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ اگرچہ رسمی نوٹیفکیشن میں اعداد و شمار ظاہر نہیں کئے گئے تھے، تاہم مختلف وزارتوں، تدریسی اداروں اور افغان سفارت خانے کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً دو ہزار پانچ سو افغان طلباء و طالبات اس فیصلے سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 800 طلباء انڈر گریجویٹ سطح پر ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کر رہے ہیں، جبکہ 1,200 سے 1,300 کے قریب ڈاکٹر مختلف تدریسی ہسپتالوں میں تخصیص اور ایف سی پی ایس کی اعلیٰ طبی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ نرسنگ، بی ایس ٹیکنالوجی اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے شعبوں میں بھی تقریباً 500 افغان طلباء و طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔ پریشان کن بات یہ ہے کہ متاثر ہونے والے ان طلباء میں صرف عام طالب علم ہی شامل نہیں، بلکہ حکومتِ پاکستان کی علامہ محمد اقبال اسکالرشپ (فیز-3) کے تحت مکمل میرٹ پر منتخب ہونے والے ذہین محصلین، بھاری فیسیں ادا کرنے والے سیلف فائنانس طلباء، اور پاکستان میں پروف آف رجسٹریشن (PoR) کارڈ کے تحت قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے بچے بھی شامل ہیں۔ ویزوں کی توسیعی درخواستوں کا طویل عرصے سے التواء اور پھر یکلخت بے دخلی کے احکامات نے ان تمام افراد کو گہرے معلق اور نااُمیدی کے گرداب میں دھکیل دیا ہے۔

پی ایم ڈی سی کے اس حتمی حکم نامے کے بعد بالخصوص پنجاب اور خیبر پختونخوا کے ممتاز طبی اداروں میں ایک بحرانی کیفیت پیدا ہو گئی اور انہوں نے ہنگامی بنیادوں پر انتظامی کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔ لاہور کی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی (KEMU) نے فوری پیش رفت کرتے ہوئے اپنے ہاں موجود 22 افغان شہریوں کا ڈیٹا ترتیب دیا، جن میں سے 7 طالب علم ایم بی بی ایس کے آخری سال میں تھے اور اپنی ڈگری کے اختتام کے بالکل قریب تھے۔ اسی طرح علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور، پشاور کی خیبر میڈیکل یونیورسٹی، فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی اور پنڈی میڈیکل یونیورسٹی سمیت سندھ اور بلوچستان کے متعدد اداروں نے نہ صرف نئے داخلے اور مائیگریشن منسوخ کئے بلکہ افغان طلباء کو ہوسٹل خالی کرنے، لائبریری و لیبارٹری کے سامان کی واپسی اور نو ڈیوز سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے سخت نوٹسز جاری کر دئے۔ طالب علموں کیلئے تعلیمی سیشن کے عین وسط میں ہوسٹل کی رہائش کا ختم ہونا اور تعلیمی یکسوئی کا چھن جانا ایک شدید ذہنی اور نفسیاتی صدمے کا باعث بنا ہے۔

قانونی اور بین الاقوامی پہلوؤں سے جائزہ لیا جائے تو یہ اقدام ریاستی اختیارات اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی پاسداری کے درمیان ایک سنگین تعارض کو جنم دیتا ہے۔ اگرچہ ملکی فریم ورک کے تحت پی ایم ڈی سی ایکٹ 2022 اور فارنرز ایکٹ ریاستِ پاکستان کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ غیر ملکیوں کی رجسٹریشن اور ویزا پالیسی کو اپنے قومی مفادات کے مطابق یکطرفہ طور پر کنٹرول کرے، لیکن عالمی سطح پر اس پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر حقوقِ انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پاکستان معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (ICESCR) کا دستخط کنندہ ہے، جس کے تحت کسی بھی طالب علم کے ساتھ اس کی قومیت کی بنیاد پر تعلیمی تفریق نہیں کی جا سکتی۔ اس کے علاوہ جائز توقعات کا اصول یہ تقاضا کرتا ہے کہ جو طلباء قانونی ویزوں اور حکومت کی باقاعدہ اجازت سے داخل ہوئے تھے، ان کا اپنی تعلیم مکمل کرنا ایک بنیادی اور جائز حق ہے۔ اس فیصلے کا سب سے مظلوم طبقاتی پہلو افغان طالبات ہیں، کیونکہ افغانستان میں طالبان کی حکومت نے خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے، لہٰذا پاکستان سے ان کی جبری واپسی کا براہِ راست مطلب ان کے تعلیمی سفر کی مستقل موت اور صنف پر مبنی تعاقب کو فروغ دینا ہے۔

اس فیصلے کا محرک محض تعلیمی یا انتظامی کنٹرول نہیں بلکہ پاک-افغان دوطرفہ تعلقات کے بگاڑ اور سیکورٹی جیو پولیٹکس میں مضمر ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کے افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں اور سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اسلام آباد کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا ہے۔ تاہم، افغان طلباء کو اس تنازع کی بھینٹ چڑھانا یا کابل کی طالبان حکومت پر دباؤ ڈالنے کیلئے تعلیمی کارڈ کا استعمال کرنا سیاسی و سفارتی لحاظ سے کارگر ثابت ہوتا نظر نہیں آتا۔ چونکہ افغان طالبان انتظامیہ خود اپنے ملک میں جدید نصاب اور بالخصوص خواتین کی تعلیم کی حامی نہیں ہے، اس لئے طبی طلباء یا طالبات کی واپسی کابل انتظامیہ کیلئے کوئی بڑا سیاسی یا سفارتی دباؤ پیدا نہیں کرتی۔ اس پالیسی کا سارا معاشی، تعلیمی اور نفسیاتی بوجھ صرف ان بے گناہ نوجوانوں پر پڑ رہا ہے جن کا کسی عسکری يا سیاسی کشمکش سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس طرح کے فیصلوں سے پاکستان دہائیوں پر محیط اپنی سافٹ پاور اور وہ تعلیمی سفارتی سرمایہ بھی گنوا رہا ہے جو اس نے افغان عوام کے ساتھ قائم کیا تھا۔

اس سنگین تعلیمی و سفارتی بحران سے نکلنے اور خطے میں پاکستان کے معتبر امیج کو بحال رکھنے کیلئے جذباتی فیصلوں کے بجائے دانشمندانہ حکمتِ عملی اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔ سب سے اول، انسانی ہمدردی کے بنیادی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان طلباء کو خصوصی استثنیٰ دیا جانا چاہئے جو اپنی ڈگری کے آخری سال میں ہیں یا تخصیص کی تربیت مکمل کرنے کے قریب ہیں تاکہ وہ اپنی کلینیکل ٹریننگ کا خاتمہ کر کے سند حاصل کر سکیں۔ دوسری یہ کہ جونیئر سالوں کے طلباء کیلئیے اسلام آباد اور کابل کے درمیان ایک جوائنٹ ویزہ و سیکیورٹی اسکریننگ کمیٹی تشکیل دی جائے جو تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم افغان شہریوں کے کوائف کی مکمل تسلی کر کے ان کے ویزوں کی تجدید کرے یا کریڈٹ آورز کے تحفظ کیلئے آن لائن اور دیگر بین الاقوامی اداروں میں نقل و حرکت کا راستہ مہیا کرے۔ تیسری یہ کہ اقوامِ متحدہ کے مشن (UNAMA)، شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) اور چین جیسے دوستانہ علاقائی فریقین کو سفارتی ثالثی کیلئے متحرک کیا جائے تاکہ سیکیورٹی تحفظات پر کابل پر سخت دباؤ برقرار رکھتے ہوئے تعلیمی اور انسانی روابط کو الگ تھلگ رکھا جا سکے۔ قومی سیکیورٹی کا تحفظ ہر ریاست کا بنیادی حق ہے، مگر حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ سیکیورٹی تدابیر اور انسانی ترقی کا توازن قائم رکھا جائے تاکہ مستقبل میں دونوں ممالک کے عوام کے درمیان مثبت سفارتی تعلقات کی گنجائش برقرار رہ سکے۔

Executive Summary

Repatriation of Afghan Medical Students from Pakistan  Policy, Legal Dimensions, Affected Institutions, and Diplomatic Fallout

On September 1, 2026, the Pakistan Medical and Dental Council (PMDC) issued an official directive instructing all medical and dental institutions across Pakistan to enforce the repatriation of currently enrolled Afghan students, impose a complete ban on new admissions and migrations, and finalize departure NOCs. Enforced under the government’s broader Illegal Foreigners Repatriation Plan (IFRP) and national security mandates, this decision has generated an acute educational, legal, and geopolitical crisis.

Key Policy Directives & Administrative Enforcements

  • Mandatory Repatriation: All registered Afghan nationals in undergraduate and postgraduate medical/dental programs must return to Afghanistan; institutions are instructed to issue departure No Objection Certificates (NOCs).
  • Ban on Admissions and Transfers: Complete prohibition on new placements, migrations, or inter-institutional transfers for the ongoing academic session.
  • Strict Compliance Deadline: Medical institutions were given a 1-to-3-day window to submit compliance reports. Non-compliance carries regulatory penalties under the PMDC Act 2022, including potential revocation of institutional registration.

Demographics and Scope of Affected Students

An estimated 2,500 Afghan students across public and private healthcare institutions are directly impacted:

  • Undergraduate MBBS/BDS: Approximately 800 students.
  • Postgraduate & Specialization (FCPS/Residency): Approximately 1,200 to 1,300 doctors undergoing clinical specialization in teaching hospitals.
  • Nursing & Allied Health Sciences: Around 500 students in nursing, BS technology, and allied health fields.
  • Categories Affected: Merit-based Allama Muhammad Iqbal Scholarship holders (Phase-III), self-financed students with valid passports/visas, and registered refugee children holding Proof of Registration (PoR) cards.

Institutional Actions and On-Campus Impact

Major medical universities—including King Edward Medical University (KEMU) Lahore, Allama Iqbal Medical College (AIMC), Khyber Medical University (KMU) Peshawar, Fatima Jinnah Medical University, and Rawalpindi Medical University—have initiated rapid clearance procedures.

  • KEMU identified 22 Afghan nationals, including 7 final-year MBBS students on the verge of graduation.
  • Affected students face immediate hostel evacuations, forfeiture of clinical rotations, and sudden termination of their academic credentials.

Legal, Constitutional, and Human Rights Dimensions

  • Domestic Authority vs. International Obligations: While the PMDC Act 2022 and Foreigners Act give the state unilateral control over foreign registrations, international human rights organizations highlight non-compliance with the International Covenant on Economic, Social and Cultural Rights (ICESCR) regarding non-discrimination in education.
  • Doctrine of Legitimate Expectation: Students admitted legally through state NOCs, HEC clearance, and valid visas held a recognized legal expectation to complete their degrees without retroactive cancellation.
  • Gender-Based Persecution: Due to the Taliban regime’s ban on female higher education in Afghanistan, repatriating female medical students permanently terminates their education, exposing them to systemic disenfranchisement.

Geopolitical Context and Strategic Limits

  • Security Pretext: The decision reflects escalating bilateral friction over cross-border militancy and alleged TTP safe havens in Afghanistan.
  • Limited Policy Efficacy: Using educational access as strategic leverage holds minimal political influence over the Taliban administration, which itself restricts modern and female education. The policy primary disincentivizes innocent students while eroding decades of Pakistani soft power and educational goodwill in Afghanistan.

Policy Recommendations

  1. Humanitarian Exemptions: Grant special NOCs allowing final-year MBBS/BDS students and postgraduate residents to complete their degrees and clinical rotations.
  2. Bilateral Screening & Credit Protections: Form a joint Pak-Afghan security and visa screening committee to renew visas for vetted students or enable credit transfers via HEC to prevent complete academic loss.
  3. Diplomatic De-escalation: Separate educational and humanitarian ties from bilateral security disputes using regional frameworks (UNAMA, SCO, and third-party facilitation by China).

About Author:

Nasir Dawar

Editor, The Khyber Times & Researcher

Email: dawarjan@gmail.com