A stylized map of Pakistan showing fragmented regions separated by cracked borders, illustrating concepts of provincial division and administrative reorganisation.

صوبوں کی تقسیم کا ڈرامہ: پنجاب کی خاموشی پر سوال کب اٹھے گا؟

دی خیبرٹائمز خصوصی تحریر
پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل کا معاشی، سیاسی اور انتظامی نقطہ نظر سے ہمیشہ گہرا تعلق رہا ہے۔ تاہم، جب بھی ملک میں انتظامی اصلاحات یا صوبائی حدود کی بات ہوتی ہے، تو مرکزی دھارے کا تمام تر فوکس سندھ اور خیبر پختونخوا کی ممکنہ تقسیم یا ان کی انتظامی ساخت پر ہی مرکوز کر دیا جاتا ہے۔ اسلام آباد کے ایوانوں سے لے کر الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کے ٹاک شوز تک، ہر جگہ یہی بحث چھیڑی جاتی ہے کہ سندھ یا پختونخوا کے اندر نئے انتظامی یونٹس کیسے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر، ملک کے سب سے بڑے اور بااثر صوبے پنجاب کی تقسیم کا ذکر گول کر دیا جاتا ہے۔
یہ عمل نہ صرف سیاسی اور انتظامی عدم توازن کو جنم دیتا ہے بلکہ اس سے یہ تاثر بھی مضبوط ہوتا ہے کہ وفاق کی تمام تر نظرِ کرم اور توجہ صرف ایک ہی صوبے کی بالادستی کو برقرار رکھنے پر مرکوز ہے۔
پاکستان کا اصل انتظامی مسئلہ پنجاب کا غیر معمولی اور غیر متوازن حجم ہے۔ 12 کروڑ سے زائد کی آبادی کے ساتھ، اکیلا پنجاب ملک کی کل آبادی کا آدھے سے زیادہ حصہ بنتا ہے۔ وفاقی پارلیمنٹ کی نشتوں، قومی مالیاتی کمیشن (NFC) ایوارڈ کی تقسیم اور سیول و ملٹری افسرشپ کے کوٹے میں پنجاب کا حجم اتنا بڑا ہے کہ باقی تینوں صوبے مل کر بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔
یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ جب تک سب سے بڑے صوبے کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک باقی صوبوں میں نئے یونٹس کی بحث نہ تو منطقی بنے گی اور نہ ہی اسے عوامی سطح پر مقبولیت حاصل ہو سکے گی۔ اصل مدعا اور مسئلہ ہی پنجاب کی تقسیم ہے۔ اگر اس مرحلے کو عبور کر لیا جائے تو ملک کے دیگر حصوں میں انتظامی اصلاحات اور نئے صوبوں کے قیام کا کام انتہائی آسان اور بلاتنازع ہو جائے گا۔
جنوبی پنجاب اور راولپنڈی یا پوٹھوہار کے خطے کے عوام کو اپنے بنیادی کاموں کیلئے لاہور کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔ ملتان، بہاولپور یا ڈیرہ غازی خان کے ایک عام شہری کا لاہور سیکرٹریٹ تک رسائی حاصل کرنا کسی سزا سے کم نہیں۔ جب تک طاقت اور وسائل کا مرکز ایک جگہ رہے گا، تب تک انتظامی انحطاط جاری رہے گا۔
لاہور اور اس کے گردونواح کے میگا پروجیکٹس پر بجٹ کا بڑا حصہ صرف ہو جاتا ہے، جبکہ جنوبی اور مغربی پنجاب کے پسماندہ اضلاع بنیادی سہولیات سے بھی محروم رہتے ہیں۔ پنجاب کی تقسیم کے نتیجے میں معاشی وسائل کی نچلی سطح تک منصفانہ اور شفاف منتقلی ممکن ہو سکے گی۔
چار صوبائی اکائیوں میں ایک صوبے کا اتنے بڑے حجم کے ساتھ موجود ہونا حقیقی وفاقیت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ پنجاب کی دو یا تین صوبوں (مثلاً جنوبی پنجاب، central پنجاب، اور شمالی پنجاب) میں تقسیم سے وفاق کے تمام اجزاء کے درمیان سیاسی طاقت کا توازن قائم ہو جائے گا، جس سے چھوٹے صوبوں کے احساسِ محرومی کا خاتمہ ہو گا۔
سندھ اور خیبر پختونخوا پر تنقید کرنے یا وہاں کی جغرافیائی ساخت کو زیرِ بحث لانے سے پہلے سیاست دانوں، دانشوروں اور پالیسی سازوں کو اپنی ترجیحات درست کرنا ہوں گی۔ جب تک پنجاب کو تقسیم کر کے ایک متوازن وفاقی ڈھانچہ تیار نہیں کیا جاتا، تب تک دیگر صوبوں میں تقسیم کا عمل صرف سیاسی تنازعات اور صوبائی تعصبات کو ہوا دے گا۔
لہٰذا، وقت کا تقاضا ہے کہ قومی سطح پر ایک سنجیدہ، بے باک اور سخت بحث کا آغاز اکیلے اور سب سے بڑے صوبے پنجاب کی تقسیم سے کیا جائے۔ جب پنجاب کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرنے کا جرات مندانہ قدم اٹھایا جائے گا، تو باقی پورے ملک میں اصلاحات کا راستہ خود بخود ہموار ہو جائے گا۔

Exclusive Summary: The Drama of Provincial Division — When Will Punjab’s Silence Be Questioned?

  • Disproportionate National Focus: Mainstream political discussions and media debate routinely focus on dividing Sindh and Khyber Pakhtunkhwa into smaller administrative units while glaringly ignoring the division of Punjab, the country’s largest and most dominant province.

  • Structural Imbalance: Home to over 120 million people, Punjab accounts for more than half of Pakistan’s population. This single province holds overwhelming dominance in parliamentary seats, NFC Award allocations, and civil/military quotas, eclipsing the combined weight of the other three provinces.

  • Prerequisite for Nationwide Reform: Initiating new provincial units in other regions is ill-advised without first addressing Punjab’s structural size. Partitioning Punjab administratively is the core prerequisite to making broader national reforms logical, accepted, and conflict-free.

  • Administrative & Economic Denial: Marginalized districts in South and West Punjab (e.g., Multan, Bahawalpur, Dera Ghazi Khan) suffer as provincial resources are heavily concentrated in Lahore’s mega-projects, forcing citizens to travel immense distances to access basic governance at the central secretariat.

  • Restoring Federal Equilibrium: Dividing Punjab into distinct units—such as Southern, Central, and Northern Punjab—would restore genuine federal equilibrium, decentralize resources to the grassroots, and alleviate the sense of deprivation felt by smaller provinces.

  • Editorial Verdict: Politicians and policymakers must reorder their priorities. National stability demands a direct, bold discourse on dividing Punjab first; once achieved, administrative reforms across the rest of Pakistan will naturally follow without regional friction.