A green Pakistani passport bound with chains on a desk next to a globe, featuring a infographic graphic showing Pakistan's ranking at 101 out of 199 in the Henley Passport Index 2026.

101 ویں پوزیشن پر آمد کے باوجود گرین پاسپورٹ کی زبوں حالی برقرار، یمن، صومالیہ اور نیپال بھی پاکستان سے آگے

دی خیبر ٹائمز (خصوصی رپورٹ) عالمی شہریت اور رہائش سے متعلق معتبر مشاورتی ادارے ہینلے اینڈ پارٹنرز کی سال 2026 کی دوسری ششماہی کیلئے جاری کردہ تازہ ترین انڈیکس میں اگرچہ پاکستانی پاسپورٹ نے دو درجے کی معمولی بہتری کے ساتھ 103 سے 101 ویں پوزیشن حاصل کی ہے، لیکن اس کے باوجود گرین پاسپورٹ عالمی سطح پر طاقت کے لحاظ سے تاحال دنیا کے کمزور ترین پاسپورٹس میں شامل ہے۔ دنیا بھر کے 199 پاسپورٹس اور 227 سفری مقامات کے جامع جائزے کے بعد تیار کی گئی اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 29 سے 30 ممالک یا خطوں میں بغیر پیشگی ویزا یا ویزا آن ارائیول کی سہولت کے ساتھ پاکستان کی عالمی سفری آزادی اور قدر میں کوئی نمایاں کیفیاتی تبدیلی رونما نہیں ہو سکی ہے۔
عالمی پاسپورٹ انڈیکس میں پاکستان سے نیچے صرف وہی تین ممالک موجود ہیں جو طویل عرصے سے شدید جنگ، داخلی انتشار اور سیکیورٹی بحرانوں کا شکار ہیں، جن میں بالترتیب عراق (101/102)، شام (102/103) اور فہرست میں سب سے آخری درجے پر موجود افغانستان (103) شامل ہیں۔ تاہم پاکستان سے اوپر موجود ممالک کا احاطہ کیا جائے تو گرین پاسپورٹ کی زبوں حالی مزید واضح ہو جاتی ہے۔ اس فہرست میں ہمارے پڑوسی ملک بھارت نے 81 ویں پوزیشن حاصل کر رکھی ہے، جبکہ سری لنکا 93 ویں نمبر پر اور شدید سفارتی و اقتصادی چیلنجز کا سامنا کرنے والے ممالک فلسطین اور ایران 95 ویں پوزیشن پر براجمان ہیں۔ اسی طرح بنگلہ دیش اور شمالی کوریا مشترکہ طور پر 96 ویں درجے پر ہیں، جبکہ نیپال 97 ویں اور صومالیہ 98 ویں نمبر پر قائم ہے۔ حتیٰ کہ متعدد داخلی اور سیکیورٹی بحرانوں کی زد میں گھرا ملک یمن بھی 99 ویں پوزیشن پر رہتے ہوئے پاکستان سے دو درجے آگے ہے، جو اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ گرین پاسپورٹ کو عالمی سطح پر کس قدر سخت سفارتی اور امیگریشن تحفظات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب عالمی منظر نامے پر ایشیائی ملک سنگاپور نے 192 ممالک میں ویزا فری داخلے کی سہولت کے ساتھ دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹ کا اعزاز برقرار رکھا ہوا ہے۔ اس فہرست میں متحدہ عرب امارات، جاپان اور جنوبی کوریا مشترکہ طور پر 188 ممالک میں ویزا فری رسائی کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہیں، جبکہ یورپی ملک سویڈن 187 ممالک تک آسان رسائی کے ساتھ تیسرے درجے پر ہے۔ چوتھے نمبر پر بیلجیئم، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، آئرلینڈ، اٹلی، لکسمبرگ، نیدرلینڈز، ناروے اور اسپین 186 ویزا فری مقاصد کے ساتھ براجمان ہیں، جبکہ یونان، آسٹریا، مالٹا، پرتگال اور سوئٹزرلینڈ 185 ممالک میں ویزا فری داخلے کے ساتھ مشترکہ طور پر پانچویں نمبر پر آئے ہیں۔ رپورٹ کا سب سے دلچسپ پہلو متحدہ عرب امارات کی تاریخی پیشرفت ہے جس نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران متحرک اقتصادی پالیسیوں کے بل بوتے پر اپنی رینکنگ میں 40 درجے کی زبردست چھلانگ لگائی ہے، جبکہ کسی زمانے میں دنیا کا طاقتور ترین مانا جانے والا امریکی پاسپورٹ مسلسل تنزلی کے بعد اب دسویں نمبر پر پہنچ چکا ہے۔
کسی بھی ملک کے پاسپورٹ کی عالمی قدر صرف سفری سہولت نہیں بلکہ اس ملک کے معاشی استحکام، بین الاقوامی سفارتی اثر و رسوخ اور اس کے شہریوں کے عالمی امیگریشن رویوں کی عکاس ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق گرین پاسپورٹ کی مسلسل نچلی سطح پر موجودگی کے اسباب کا جائزہ لیا جائے تو سب سے بنیادی وجہ پاکستان میں اکنامک ڈپلومیسی یعنی معاشی سفارت کاری کا شدید فقدان ہے۔ پاکستان ماضی میں دیگر اقوام کے ساتھ اپنے معاشی اور تجارتی روابط کو باہمی ویزا فری یا ویزا آن ارائیول معاہدوں میں تبدیل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس کے علاوہ بیرونِ ملک جانے والے کئی پاکستانی شہریوں کی جانب سے ویزا کی مدت سے زائد قیام کرنے (Overstay) اور غیر قانونی ہجرت کے بڑھتے ہوئے رجحانات نے بھی دنیا کے متعدد ممالک کو پاکستانیوں کیلئے ویزا قوانین سخت کرنے پر مجبور کیا ہے۔ ساتھ ہی سرحدوں پر نگرانی اور دستاویزات کی سیکیورٹی کے حوالے سے عالمی اداروں کے تحفظات بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہیں۔
پاکستانی پاسپورٹ کا 103 سے 101 ویں درجے پر آنا اگرچہ عددی اعتبار سے ایک مثبت اشارہ ضرور ہے، مگر عالمی سطح پر 199 اقوام میں 101 ویں نمبر پر ہونا ملک کی سفارتی اور معاشی پالیسیوں کیلئے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ جب تک پاکستان اپنی معاشی بنیادوں کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ سخت امیگریشن کنٹرول اور دوطرفہ جارحانہ سفارت کاری کا آغاز نہیں کرتا، تب تک گرین پاسپورٹ کو وہ بین الاقوامی وقار اور سفری رسائی حاصل نہیں ہو سکے گی جس کی توقع ہر پاکستانی شہری رکھتا ہے۔