شمالی وزیرستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، قبائلی رہنما ملک سیف اللہ خان داوڑ جاں بحق
درپہ خیل میں ٹارگٹڈ حملہ، علاقے میں خوف و کشیدگی، ملزمان کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن شروع
میرانشاہ ( دی خیبر ٹائمز نیوز ڈیسک) شمالی وزیرستان میں امن و امان کی صورتحال ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئی ہے جہاں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے معروف قبائلی رہنما ملک سیف اللہ خان داوڑ جاں بحق ہوگئے۔
مقامی ذرائع کے مطابق افسوسناک واقعہ میرانشاہ کے علاقے درپہ خیل میں پیش آیا جہاں مسلح افراد نے ملک سیف اللہ خان داوڑ کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جاں بحق قبائلی رہنما کی لاش بعد ازاں ڈی ایچ کیو ہسپتال میرانشاہ منتقل کر دی گئی جہاں ضروری قانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔
واقعے کے فوراً بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ مقامی لوگوں میں شدید تشویش دیکھی جا رہی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دئے ہیں، جبکہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر حملے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دے کر اس کے محرکات جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ملزمان کی گرفتاری کے لئے درپہ خیل اور گردونواح کے علاقوں میں سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا گیا ہے جبکہ داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندیاں سخت کر دی گئی ہیں۔
قبائلی عمائدین اور مقامی شہریوں نے قبائلی رہنما کے قتل پر گہرے دکھ اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری انصاف اور قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں ایک بار پھر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نے عوام میں عدم تحفظ کی لہر دوڑا دی ہے۔
ملک سیف اللہ خان داوڑ کو علاقے میں ایک بااثر قبائلی شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا اور ان کی اچانک موت کی خبر کے بعد مختلف حلقوں میں سوگ کی فضا قائم ہے۔




