مشرقِ وسطیٰ میدانِ جنگ میں تبدیل: ایران امریکا کشیدگی عروج پر، مذاکرات کے امکانات معدوم اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایرانی جہاز کو نشانہ بنانے کی ویڈیو جاری کر کے اشتعال میں اضافہ کر دیا ہے، تو دوسری طرف ایرانی میزائلوں نے تل ابیب میں تباہی مچا کر جنگ کا نقشہ بدل دیا ہے۔ اس سنگین صورتحال میں سفارتی کوششیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔ امریکی فوج کے شعبہ سینٹکام نے حالیہ کارروائی میں ایک ایرانی جہاز کو اپنی تحویل میں لینے اور اس پر حملے کی ویڈیو جاری کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سمندری حدود میں تصادم کا نیا محاذ کھل چکا ہے۔ دوسری جانب، ایران کے حالیہ میزائل حملوں نے اسرائیل کے دفاعی نظام کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق تل ابیب میں ایک ہزار سے زائد رہائشی مکانات مکمل طور پر تباہ یا ناقابلِ رہائش ہو چکے ہیں، جو کہ حالیہ دہائیوں میں اسرائیل کو پہنچنے والا سب سے بڑا شہری نقصان ہے۔ اسلام آباد میں تعینات ایرانی سفیر نے خطے کی صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی صورت عالمی دباؤ اور دھمکیوں میں نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا: ایران کو دھمکاکر غیرمنطقی مطالبات پورے کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ ہم اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ایران کی جانب سے موجودہ حالات میں مذاکرات کی کسی بھی پیشکش کو مسترد کرنے کے پیچھے چند اہم وجوہات ہیں: 1. اعتماد کا فقدان: ایران کا موقف ہے کہ جب تک امریکہ اور اس کے اتحادی جارحانہ اقدامات (جیسے جہازوں پر حملے) بند نہیں کرتے، بات چیت ممکن نہیں۔ 2. تہران کا الزام ہے کہ امریکہ مذاکرات کے نام پر ایسے مطالبات رکھتا ہے جو ایران کی دفاعی صلاحیت (میزائل پروگرام) کو ختم کرنے سے متعلق ہیں، جو کہ اسے منظور نہیں۔ 3. ایران کا کہنا ہے کہ ایک طرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف اسرائیل کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے، ایسے دوہرے معیار میں سفارت کاری بے معنی ہے۔ اگر ہم ماضی کے مذاکرات پر نظر ڈالیں تو ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا سب سے بڑا موڑ 2015 کا جوہری معاہدہ (JCPOA) تھا۔ * اوبامہ کے دور میں طویل مذاکرات کے بعد ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاکہ معاشی پابندیاں ختم ہو سکیں۔ * 2018 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی اور ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم شروع کر دی۔ * موجودہ دور میں بھی ویانا میں کئی دور کے مذاکرات ہوئے تاکہ اس معاہدے کو بحال کیا جا سکے، لیکن فریقین کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ امریکہ ہر بار معاہدے کی شرائط سے پھر جاتا ہے، اس لئے اب مذاکرات وقت کا ضیاع ہیں۔ اسرائیل میں ہونے والی حالیہ تباہی کے بعد نیتن یاہو حکومت پر جوابی حملے کا شدید عوامی دباؤ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری نے فوری مداخلت نہ کی تو یہ جنگ محض دو ممالک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کے امن و معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

مشرقِ وسطیٰ میدانِ جنگ میں تبدیل: ایران امریکا کشیدگی عروج پر، مذاکرات کے امکانات معدوم

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایرانی جہاز کو نشانہ بنانے کی ویڈیو جاری کر کے اشتعال میں اضافہ کر دیا ہے، تو دوسری طرف ایرانی میزائلوں نے تل ابیب میں تباہی مچا کر جنگ کا نقشہ بدل دیا ہے۔ اس سنگین صورتحال میں سفارتی کوششیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔

امریکی فوج کے شعبہ سینٹکام نے حالیہ کارروائی میں ایک ایرانی جہاز کو اپنی تحویل میں لینے اور اس پر حملے کی ویڈیو جاری کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سمندری حدود میں تصادم کا نیا محاذ کھل چکا ہے۔ دوسری جانب، ایران کے حالیہ میزائل حملوں نے اسرائیل کے دفاعی نظام کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق تل ابیب میں ایک ہزار سے زائد رہائشی مکانات مکمل طور پر تباہ یا ناقابلِ رہائش ہو چکے ہیں، جو کہ حالیہ دہائیوں میں اسرائیل کو پہنچنے والا سب سے بڑا شہری نقصان ہے۔
اسلام آباد میں تعینات ایرانی سفیر نے خطے کی صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی صورت عالمی دباؤ اور دھمکیوں میں نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا:
ایران کو دھمکاکر غیرمنطقی مطالبات پورے کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ ہم اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

ایران کی جانب سے موجودہ حالات میں مذاکرات کی کسی بھی پیشکش کو مسترد کرنے کے پیچھے چند اہم وجوہات ہیں:
1. اعتماد کا فقدان: ایران کا موقف ہے کہ جب تک امریکہ اور اس کے اتحادی جارحانہ اقدامات (جیسے جہازوں پر حملے) بند نہیں کرتے، بات چیت ممکن نہیں۔
2. تہران کا الزام ہے کہ امریکہ مذاکرات کے نام پر ایسے مطالبات رکھتا ہے جو ایران کی دفاعی صلاحیت (میزائل پروگرام) کو ختم کرنے سے متعلق ہیں، جو کہ اسے منظور نہیں۔
3. ایران کا کہنا ہے کہ ایک طرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف اسرائیل کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے، ایسے دوہرے معیار میں سفارت کاری بے معنی ہے۔
اگر ہم ماضی کے مذاکرات پر نظر ڈالیں تو ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا سب سے بڑا موڑ 2015 کا جوہری معاہدہ (JCPOA) تھا۔
* اوبامہ کے دور میں طویل مذاکرات کے بعد ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاکہ معاشی پابندیاں ختم ہو سکیں۔
* 2018 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی اور ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم شروع کر دی۔
* موجودہ دور میں بھی ویانا میں کئی دور کے مذاکرات ہوئے تاکہ اس معاہدے کو بحال کیا جا سکے، لیکن فریقین کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ امریکہ ہر بار معاہدے کی شرائط سے پھر جاتا ہے، اس لئے اب مذاکرات وقت کا ضیاع ہیں۔
اسرائیل میں ہونے والی حالیہ تباہی کے بعد نیتن یاہو حکومت پر جوابی حملے کا شدید عوامی دباؤ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری نے فوری مداخلت نہ کی تو یہ جنگ محض دو ممالک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کے امن و معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔