دی خیبرٹائمز کیلئے خصوصی تحریر: کاشف عزیز
پشتو زبان کے عظیم الشان صوفی شاعر اور شہنشاہِ تصوف حضرت عبدالرحمان بابا رحمۃ اللہ علیہ خانقاہی اور فلسفیانہ، دونوں طرزِ تصوف کے رموز سے بخوبی آراستہ تھے۔ پشاور کے تاریخی نواحی گاؤں دیہہ بہادر میں غوری خیل مومند کے ابراہیم خیل قبیلے میں جنم لینے والے عبدالرحمان (معروف بہ رحمان بابا) عبدالستار کے گھر پیدا ہوئے اور اسی دھرتی کی گود میں پلے بڑھے۔ رحمان بابا کا تعلق علاقے کے ایک متمول اور صاحبِ ثروت خانوادے سے تھا، مگر انہوں نے دنیوی جاه و حشم کی بجائے فقیری، درویشی اور سادگی کو اپنا شعار بنایا۔ یہ بات ان کے خاندانی مزاج سے مطابقت نہ رکھتی تھی، جس کی بنا پر عزیز و اقارب نے ان سے دوری اختیار کر لی۔ اسی صورتِ حال کی عکاسی ان کا یہ مشہور پشتو شعر کرتا ہے:
نه شی د خانانو ملنگانو سره کلی
چرته عزیز خان چرته ملنگ عبدالرحمن
ایک عمومی روایت کے مطابق رحمان بابا اپنے گاؤں میں واقع دریائے باڑہ کے کنارے بیٹھ کر اشعار موزوں کرتے تھے اور ان کا بیشتر کلام دریا کی لہروں کی نذر ہو گیا۔ تاہم، مورخین اور محققین اس بات کو محض ایک مفروضہ قرار دے کر رد کرتے ہیں، کیونکہ بابا نے اپنے کلام میں خود اپنے مرتب کردہ دیوان کا ذکر کیا ہے۔ رحمان بابا کی شاعری کثیر جہتی ہے اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد بالخصوص ادب کے طالب علموں کیلئے مشعلِ راہ ہے۔ ان کے کلام کا بنیادی محور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ کریم ﷺ سے وُفورِ محبت اور عشقِ حقیقی ہے۔ انہوں نے اولیائے کرام کا راستہ اپنایا اور ان کے قلم سے نکلنے والا ہر لفظ حبِ الٰہی اور حبِ رسول ﷺ سے معطر ہے۔ وہ عرفان و آگہی کا وہ انمول خزانہ ہیں جسے سمجھنے کیلئے محض “اہلِ زبان” ہونا کافی نہیں، بلکہ “اہلِ دل” ہونا شرط ہے۔
رحمان بابا کے خانوادے کے افراد آج بھی دیہہ بہادر میں سکونت پذیر ہیں، جن میں سے بعض شعر و سخن کا ذوق رکھتے ہیں۔ اسی علاقے سے تعلق رکھنے والے معروف ادیب و شاعر شیخ نور علی نور کے مطابق، 1961ء میں قائم ہونے والے “رحمان ادبی جرگہ” نے رحمان بابا کا ایک تصوراتی خاکہ تیار کیا تھا، جو آج تمام کتب، رسائل اور فن پاروں پر نقش ہے۔ شیخ نور علی نور کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ رحمان بابا کی تاریخِ ولادت اور وفات کے حتمی شواہد میسر نہیں ، تاہم مختلف روایات کے مطابق ان کے وصال کو تقریباً چار سو سال کا عرصہ بیت چکا ہے، مگر ان کا پیغام آفاقی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں پشتو اور دیگر زبانیں بولنے والے ان کے کلام سے روشنی حاصل کرتے ہیں، کیونکہ ان کی شاعری میں انسانیت کے ہر طبقے کیلئے رہنما اصول موجود ہیں۔
رحمان بابا کا مزارِ پرانوار پشاور کے علاقے ہزار خوانی میں واقع ہے، جہاں ملک بھر اور بیرونِ ملک سے عقیدت مند اور شائقینِ ادب کھنچے چلے آتے ہیں اور سکونِ قلب محسوس کرتے ہیں۔ مزار کے احاطے میں قائم لائبریری میں موجود ہزاروں نایاب کتب سے روزانہ علم کے پیاسے سیراب ہوتے ہیں، جبکہ آستانے پر قائم لنگر سے روزانہ سینکڑوں محتاج و عام افراد فیضیاب ہوتے ہیں۔ ہر سال رحمان بابا کے عرسِ مبارک کے موقع پر پاکستان اور افغانستان سے نامور ادیب، شُعرا اور اہل علم یکجا ہو کر محفلِ مشاعرہ سجاتے ہیں۔ ادبی حلقوں کا پرزور مطالبہ ہے کہ حکومت رحمان بابا کے افکار، پیغام اور صوفیانہ شاعری کی ترویج و اشاعت کے لیے سرکاری سطح پر ٹھوس اقدامات کرے تاکہ ہماری نئی نسل اور طالب علم ان کے افکار سے کماحقہُ استفادہ کر سکیں۔
Executive Summary: The Mystical Journey of Abdul Rahman Baba
-
Author: Kashif Aziz
-
Subject: Hazrat Abdul Rahman Baba (Rahman Baba) Pashto’s Emperor of Sufism
Key Takeaways
-
Origins & Strategic Choice of Asceticism: Born in Deh Bahadur, Peshawar, into the affluent Ibrahimkhel clan of the Ghoriakhel Momand tribe, Rahman Baba intentionally chose a life of spiritual simplicity (fakiri and darweshi) over worldly wealth a choice that initially distanced him from his well-to-do family.
-
Debunking the Bara River Myth: The article clarifies a widespread local legend claiming his poetry was lost to the lwaves of the Bara River. Historians and literary scholars dismiss this as a myth, citing Rahman Baba’s own written references to his complete Diwan (compiled collection).
-
Core Philosophy & Universal Appeal: Rooted in profound divine love (Ishq-e-Haqiqi) and devotion to Prophet Muhammad (PBUH), his poetry offers timeless guidance. It requires an “understanding heart” (Ahl-e-Dil) rather than mere fluency in the language.
-
Historical Context & Iconography: While precise birth and death dates remain historically unrecorded (his passing is estimated at roughly 400 years ago), his famous visual portrait was conceptually drawn in 1961 by the Rahman Adabi Jirga and remains the defining image of the poet today.
-
Living Legacy & Shrine: His shrine in Hazar Khwani, Peshawar, serves as a active hub for spiritual reflection, housing a massive library and a daily free community kitchen (langar). The annual Urs unites poets, scholars, and literary enthusiasts across Pakistan and Afghanistan.
-
Call for State Action: The piece concludes with a strong plea for the government to officially integrate Rahman Baba’s humanistic and Sufi teachings into the academic curriculum to inspire younger generations.




