تحریر: ناصر داوڑ
“گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے”… یہ الفاظ محض ایک مقولہ نہیں تھے، یہ حاجی نور اسلام داوڑ کا فلسفہِ حیات تھا۔ وہ ایک ایسا انسان تھا جس کے سینے میں وزیرستان کا درد دھڑکتا تھا، اور جس کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ حق کی گواہی دیتا تھا۔
شمالی وزیرستان پر جب مصیبتوں کے سیاہ بادل چھائے اور آپریشن ضربِ عضب کی ہولناکیوں نے ہزاروں خاندانوں کو بے گھر کر دیا، تو بنوں کی تپتی سڑکوں پر ایک ایسا شخص نمودار ہوا جس کے لمبے بالوں اور سادہ حلئے کو دیکھ کر پہلی بار دیکھنے والے کے ذہن میں وہی وحشت آتی تھی جس سے پورا خطہ خوفزدہ تھا۔ لیکن میرے ایک دوست نور بہرام نے مجھے متوجہ کیا اور کہا: “اس کے حلئے کو نہیں، اس کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھو۔ یہ وہ لوگ نہیں جو ہم پر خوف طاری کرتے ہیں، یہ تو دراصل وہ شخص ہے جو اس خوف کو مٹانے آیا ہے۔”
وہ نور اسلام داوڑ ہی تھا، ایک ایسا سادہ، عاجز اور فقیر منش انسان جس نے متحدہ عرب امارات کی پرتعیش نوکری کو محض اس لئے ٹھوکر مار دی کیونکہ اس کی قوم سڑکوں پر اور مہاجرین کے کیمپوں میں خوار ہو رہی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ اب گھر میں بیٹھنے کا نہیں، بلکہ محاذ پر جانے کا وقت ہے۔
جب وزیرستان کے مکین بے گھری کے کرب سے گزر رہے تھے، نور اسلام داوڑ نے بے بسی کے اس عالم میں مایوسی کو شکست دی۔ اس نے بنوں کے کیمپوں میں پڑے پڑھے لکھے نوجوانوں کو ڈھونڈ نکالا اور انہیں ‘یوتھ آف وزیرستان’ کے نام سے ایک پلیٹ فارم پر متحد کر دیا۔ وزیرستان کے متاثرین جہاں امدادی کیمپوں میں اپنے بچوں کیلئے راشن اکٹھا کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے، وہیں نور اسلام نے نوجوانوں کو سڑکوں پر نکالا۔ ان کے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز تھے جن پر لکھا تھا: “ہمیں واپس وزیرستان بھیج دیا جائے!”۔ دو ڈھائی سال کی انتھک محنت کے بعد اس نے وہ کر دکھایا جو ناممکن لگتا تھا۔ اس نے حکومت کو دباؤ میں لا کر اپنے لوگوں کی بتدریج واپسی کا عمل شروع کروایا۔ یہ محض واپسی نہیں تھی، یہ ایک کھوئی ہوئی زمین پر دوبارہ حقِ ملکیت کا حصول تھا۔
نور اسلام داوڑ کا اندازِ احتجاج روایتی نہیں تھا۔ وہ اپنے نوجوانوں کے ساتھ ڈھول بجا کر، اور پشتونوں کے روایتی ‘آتنڑ’ (رقص) کے ذریعے حقوق مانگتا تھا۔ میر علی چوک میں دیا گیا وہ دھرنا، جو آج ‘نور اسلام شہید چوک’ کے نام سے منسوب ہے، وزیرستان کی تاریخ میں مزاحمت کی پہلی اینٹ ثابت ہوا۔
وہ سیکیورٹی اداروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا تھا۔ اسی جراتِ اظہار کی قیمت اسے تشدد کی صورت میں چکانی پڑی۔ جب اسے زبردستی اٹھایا گیا اور چند روز کی قید کے بعد رہا کیا گیا، تو اس کے جسم پر تشدد کے نشانات اور سر پر فریکچر اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ سچ بولنا اس خطے میں کتنا مہنگا سودا ہے۔ لیکن اس کے باوجود، اس کا لہجہ نہیں بدلا، بلکہ رہائی کے بعد وہ پہلے سے بھی زیادہ بلند آہنگ اور سخت موقف کے ساتھ میدان میں اترا۔
وہ ایک دور اندیش رہنما تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ میر علی میں پریس کلب کا قیام اس کا خواب ہے۔ وہ کہتا تھا: “ہمیں احتجاج کیلئے بنوں یا میرانشاہ جانا پڑتا ہے، جس کیلئے کرائے کے پیسے بھی پاس نہیں ہوتے۔ اگر میر علی میں اپنا پریس کلب ہو، تو یہاں روز دھرنے ہوں گے، بھوک ہڑتالیں ہوں گی اور پشتون ثقافت کی جھلکیاں بھی دکھائی دیں گی۔” وہ ایک ایسا پریس کلب چاہتا تھا جو صرف خبریں نہ دے، بلکہ عوامی مسائل کے حل کا مرکز بنے۔ اس کا ماننا تھا کہ صحافی نہ ہونے کے باوجود، جس شہر میں پریس کلب ہو، وہاں مسائل کم ہو جاتے ہیں۔ مگر افسوس، یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔
27 اگست کی وہ سیاہ شام، جب نامعلوم نقاب پوشوں نے اسے میر علی بازار میں نشانہ بنایا، تو انہوں نے محض ایک انسان کو نہیں، بلکہ ایک امید کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ پانچ یتیم بچوں کو چھوڑ کر جانے والا یہ شخص اپنی ضعیف العمر ماں کو بھی سسکتا ہوا چھوڑ گیا۔ وہ مالی طور پر تو کمزور تھا، لیکن اس کی سوچ نے وزیرستان کی بنیادیں ہلا دی تھیں۔
آج، ان کی شہادت کے بعد بھی، ‘یوتھ آف وزیرستان’ کے جوان اس کے مشن کے محافظ ہیں۔ 24 اکتوبر کو ان کے چہلم کے موقع پر میر علی میں ہونے والا احتجاجی جلسہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نور اسلام داوڑ کا قافلہ رکنے والا نہیں ہے۔ میں آج بھی ان کے نام کے ساتھ “شہید” لکھتے ہوئے تھر تھراتا ہوں، کیونکہ تلخ حقیقتیں بسا اوقات قلم کی طاقت سے بھی بڑی ہوتی ہیں۔
اے شیرِ وزیرستان! تمہارا مشن زندہ ہے۔ تم نے ہمیں سکھایا ہے کہ حق مانگنا بھیک مانگنا نہیں، بلکہ اپنی زمین پر اپنا حق جتانا ہے۔ تمہارے ادھورے خواب، تمہارے دوستوں کی آنکھوں میں امید بن کر پل رہے ہیں۔
یوتھ آف وزیرستان کے رہ جانے والے ان کے دیگر ساتھی اس کشتی کو آگے لے جانے کی کوشش تو کر رہے ہیں، مگر یہ سفر کٹھن اور راستے دشوار گزار ہیں۔ کیونکہ نور اسلام نے اپنے ساتھیوں کو صرف سچ بولنے کی ترغیب دی تھی، اور سچ بولنا اس خطے میں کبھی کبھی جرم بھی بن جاتا ہے۔ بہرحال، ان کی کشتی میں سوار، اور اس قافلے کو دھکا دینے والوں کو آج دعاؤں کی سخت ضرورت ہے۔
فی الحال، نور اسلام کی یاد میں صرف اتنا ہی:
“مقتل میں رقصِ ناز ہے، سر کٹتے ہیں مگر سچ بولنے کا حوصلہ، اب بھی جوان ہے”




