فطرت بمقابلہ انسان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ۔
ازل سے لے کر آج تک انسان اور فطرت کے درمیان ایک دلچسپ اور پراسرار کشمکش جاری ہے۔ بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ انسان نے اپنی تکنیکی کامیابیوں سے فطرت کو تسخیر کر لیا ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ فطرت مقابلہ نہیں کر رہی، بلکہ اپنے اٹل قوانین کے تحت رواں دواں ہے، اور وقتاً فوقتاً ایسے حالات پیدا کرتی ہے کہ انسان کو اپنی بے بسی کا احساس ہو ہی جاتا ہے۔ جب بھی انسان نے فطرت کے توازن کو “سبوتاژ” (Sabotage) کرنے کی سعیِ لاحاصل کی ہے، فطرت نے اسے شدید ردعمل کا سامنا کروایا ہے۔ صنعتی ترقی کے زعم میں فضا میں اربوں ٹن زہریلی گیسیں خارج کرنے کی پاداش میں آج انسان گلوبل وارمنگ اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی صورت میں فطرت سے چھیڑ چھاڑ کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔
ہماری خوراک اور طرزِ زندگی میں مصنوعی پن نے بھی ہمیں نئی بیماریوں کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ آج وہ بیماریاں عام ہیں جن کا ذکر پرانے وقتوں میں نہ ہونے کے برابر تھا۔ چھوٹے بچوں میں دل کے دورے اور نوجوانوں میں فالج جیسے امراض اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ ہم نے فطرت سے کتنا دور فاصلہ اختیار کر لیا ہے۔
انسان اور فطرت کی اسی آنکھ مچولی کا ایک حیران کن پہلو تب سامنے آیا جب کرونا وبا کے دوران دنیا بھر میں لاک ڈاؤن ہوا۔ فضا صاف ہوئی، فضائی آلودگی میں کمی آئی اور شہروں کے شور میں ڈوبے ہوئے آسمانوں پر ستارے دوبارہ چمکنے لگے۔ لاہور اور کراچی جیسے آلودہ ترین شہروں کی آب و ہوا میں ایک غیر معمولی شفافیت دیکھی گئی۔ یہ خاموشی اور سکون دراصل فطرت کا وہ پیغام تھا جو ہم تکنیکی شور میں کہیں بھول چکے تھے۔
کرونا نے دنیا کے “طاقتور” ہونے کے زعم کو چکنا چور کر دیا ہے۔ آج میزائلوں، ایٹمی اسلحہ جات اور ڈرون طیاروں کی چکا چوند کے پیچھے چھپے ہوئے “دنیاوی خدا” ایک ان دیکھے وائرس کے سامنے بے بسی اور لاچارگی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس (FAS) کی رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں ایٹمی ہتھیاروں کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے، مگر آج ان ہتھیاروں کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ کیا یہ شرمناک نہیں کہ جو ملک پوری دنیا کو ڈرون ٹیکنالوجی سے کنٹرول کرنے کا دعویٰ کرتا ہے، وہ ایک وینٹی لیٹر کی قلت کے آگے بے بس نظر آئے؟
شاید کرونا فطرت کی طرف سے انسان کو ملنے والا ایک موقع ہے کہ ہم اپنی خود ساختہ فرعونیت سے نیچے اتریں اور انسانیت کیلئے کوئی مثبت سوچ پیدا کریں۔ آج ہمیں ایٹمی ہتھیاروں کی نہیں، بلکہ سینیٹائزر، ماسک اور انسانی ہمدردی کی ضرورت ہے۔ فطرت ہمیں پکار رہی ہے کہ ہم امن اور آشتی کی راہ اپنائیں، کیونکہ اسی میں بقا ہے۔ دنیا کے لیڈروں کیلئے اس بحران میں غور و فکر کا کافی مواد موجود ہے، کاش وہ اسے سمجھ سکیں۔





“انسان، فطرت اور کرونا: ایک فلسفیانہ مکالمہ” ایک تبصرہ