تحریر: خصوصی رپورٹ | دی خیبر ٹائمز
خیبر پختونخوا اور سابقہ قبائلی اضلاع ایک طویل عرصے سے دہشت گردی اور بدامنی کے اثرات جھیلتے آ رہے ہیں۔ اگرچہ مختلف سیکیورٹی اداروں نے قربانیاں دے کر امن کی بحالی میں کردار ادا کیا ہے، اور اب بھی ادا کررہے ہیں، تاہم موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ انسدادِ دہشت گردی کے لئے ایسے اداروں کو مزید مضبوط کیا جائے جو مقامی سطح پر مؤثر، قابلِ اعتماد اور نتائج دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس تناظر میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کا کردار سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
سی ٹی ڈی نے حالیہ برسوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشت گرد نیٹ ورکس کو توڑنے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ جس انداز سے سی ٹی ڈی ٹارگٹڈ کارروائیاں کر رہی ہے، وہ کئی مواقع پر دیگر سیکیورٹی اداروں اور فرنٹیئر کور (FC) سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔
سی ٹی ڈی کا فوکس بڑے پیمانے کے آپریشنز کے بجائے مخصوص اور درست اہداف پر ہوتا ہے، جس سے نہ صرف مطلوب عناصر کو نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ عام شہری بھی ممکنہ نقصان سے محفوظ رہتے ہیں۔
انسدادِ دہشت گردی میں عوامی تعاون ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور یہی وہ میدان ہے جہاں سی ٹی ڈی کو واضح برتری حاصل ہے۔ چونکہ سی ٹی ڈی پولیس کا حصہ ہے، اس لئے شہری اس ادارے پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔
لوگ خفیہ معلومات فراہم کرنے میں نسبتاً زیادہ آمادگی ظاہر کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں بروقت کارروائیاں ممکن ہو پاتی ہیں۔ یہی اعتماد سی ٹی ڈی کو دیگر فورسز کے مقابلے میں زیادہ مؤثر بناتا ہے۔
قبائلی اضلاع اور حساس علاقوں میں کارروائی کے لئے محض اسلحہ اور نفری کافی نہیں ہوتی، بلکہ مقامی سماجی ساخت، روایات، زبان اور قبائلی اقدار سے آگاہی بھی ناگزیر ہے۔
سی ٹی ڈی کے اہلکار چونکہ زیادہ تر مقامی ہوتے ہیں، اس لیے وہ علاقے کی نفسیات، جغرافیہ اور سماجی پیچیدگیوں کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سی ٹی ڈی کی کارروائیاں نہ صرف زیادہ مؤثر ہوتی ہیں بلکہ غیر ضروری عوامی ردعمل سے بھی محفوظ رہتی ہیں۔
اگرچہ صوبے کے شہری اضلاع میں سی ٹی ڈی کا دائرہ کار کسی حد تک مؤثر ہو چکا ہے، تاہم قبائلی اضلاع میں اس ادارے کی استعداد اب بھی محدود ہے۔ نفری کی کمی، وسائل کی قلت اور جدید ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی جیسے مسائل سی ٹی ڈی کی کارکردگی کو متاثر کر رہے ہیں۔
ان علاقوں میں اگر سی ٹی ڈی کو مکمل اختیارات، جدید تربیت اور تکنیکی سہولیات فراہم کی جائیں تو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔
سیکیورٹی ماہرین کا خیال ہے، کہ صوبے اور قبائلی اضلاع میں سی ٹی ڈی کی نفری اور بجٹ میں اضافہ کرنے سے ان کا کردار مزید بہتر ثابت ہوسکتی ہے۔
جدید انٹیلی جنس، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور سرویلنس نظام متعارف کرانے کی اشد ضروری ہے۔
مقامی نوجوانوں کی بھرتی کے ذریعے بھی زمینی حقائق سے فائدہ اٹھانے کے امکانات ہیں۔
دیگر سیکیورٹی اداروں اور ایف سی کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری کے قیام اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی قیادت سی ٹی ڈی کو دی جائے۔
عوامی سطح پر سی ٹی ڈی کے کردار کو اجاگر کرنے کیلئے اعتماد سازی کی مہم چلائی جائے۔
یہ حقیقت اب واضح ہو چکی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف طاقت کے استعمال سے نہیں جیتی جا سکتی۔ اس کے لئے انٹیلی جنس، عوامی تعاون اور مقامی آگاہی بنیادی ستون ہیں۔ سی ٹی ڈی ان تمام عناصر کا عملی امتزاج ہے۔
خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع اور بالخصوص قبائلی علاقوں میں سی ٹی ڈی کو مزید مضبوط بنانا نہ صرف ضروری بلکہ ناگزیر ہو چکا ہے، کیونکہ ایک مضبوط سی ٹی ڈی ہی پائیدار امن کی ضمانت بن سکتی ہے۔




