اسلام آباد امن کانفرنس 2026: امریکہ، ایران اور اسرائیل کے مابین تاریخی مذاکرات اور پاکستان کا کلیدی کردار

�خطہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری دہائیوں پر محیط کشیدگی جب 2026 کے اوائل میں ایک ہمہ گیر جنگ کی صورت اختیار کر گئی، تو عالمی برادری ایک ایسی تباہی کے دہانے پر کھڑی تھی جس کے اثرات شاید صدیوں تک محسوس کئے جاتے۔ 28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی اس جنگ نے، جسے “آپریشن ایپک فیوری” (Operation Epic Fury) کا نام دیا گیا، نہ صرف خطے کے جغرافئے کو بلکہ عالمی معیشت کی بنیادوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ۔ تاہم، 8 اپریل 2026 کو پاکستان کی انتھک محنت اور تزویراتی ثالثی کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے مابین دو ہفتوں کی جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا، جس نے بارود کی بو سے بھرپور فضا میں امن کی ایک کرن پیدا کی ہے ۔ اس تاریخی پیش رفت کے بعد اب تمام تر نظریں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پر مرکوز ہیں، جہاں “اسلام آباد ایکارڈ” (Islamabad Accord) کے نام سے منسوب امن مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے ۔ یہ مذاکرات محض دو ممالک کے مابین تنازع کا تصفیہ نہیں بلکہ 21 ویں صدی کے نئے عالمی نظام اور کثیر الجہتی سفارت کاری کا ایک بڑا امتحان ہیں ۔   
پاکستان کی تزویراتی ثالثی اور وزیر اعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار
پاکستان نے اس بحران کے دوران ایک ایسی پوزیشن حاصل کی ہے جو شاید دنیا کے کسی دوسرے ملک کے پاس نہیں تھی۔ ایک طرف تہران کے ساتھ اس کے دیرینہ برادرانہ اور جغرافیائی تعلقات ہیں، تو دوسری طرف واشنگٹن کے ساتھ اس کی دہائیوں پرانی تزویراتی شراکت داری ہے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس نازک موڑ پر اپنی سفارتی مہارت کا ثبوت دیتے ہوئے خود کو ایک ایسے عالمی رہنما کے طور پر پیش کیا ہے جو مشرق اور مغرب کے مابین پل کا کردار ادا کر سکتا ہے ۔   
وزیر اعظم شہباز شریف نے ٹویٹر (ایکس) پر اپنے پیغام میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لئے “بامعنی اور فیصلہ کن” مذاکرات کی میزبانی کے لئے ہر طرح سے تیار ہے ۔ ان کا یہ ٹویٹ محض ایک بیان نہیں بلکہ پاکستان کی اس مہینوں پر محیط خاموش سفارت کاری کا نچوڑ تھا جو پسِ پردہ واشنگٹن، تہران اور بیجنگ کے مابین جاری تھی ۔ وزیر اعظم نے تہران میں صدر مسعود پزشکیان سے 45 منٹ طویل ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں انہوں نے ایرانی قیادت کو یہ یقین دلایا کہ اسلام آباد ایک غیر جانبدار اور محفوظ مقام ہے جہاں وہ اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کر سکتے ہیں ۔   
اس پوری مہم جوئی میں پاکستان کی فوجی قیادت، بالخصوص آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے ۔ جنرل عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ براہِ راست رابطے کئے اور انہیں اس بات پر قائل کیا کہ ایران پر ہولناک حملوں کا الٹی میٹم مزید دو ہفتوں کے لئے مؤخر کر دیا جائے تاکہ سفارت کاری کو ایک آخری موقع مل سکے ۔ یہ سول اور ملٹری قیادت کا وہ غیر معمولی اتحاد تھا جس نے پاکستان کو اس مقام پر لا کھڑا کیا کہ آج واشنگٹن اور تہران دونوں اسلام آباد کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔   
وزیر اعظم شہباز شریف کی سفارتی ذمہ داریاں اور چیلنجز
وزیر اعظم اب اس اتنی بڑی ذمہ داری کو نبھانے کے لئے “گرینڈ ڈپلومیسی” کے اصولوں پر عمل پیرا ہیں۔ ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج فریقین کے مابین پائے جانے والے گہرے عدم اعتماد کو ختم کرنا ہے ۔ امریکہ کا خیال ہے کہ ایران محض وقت حاصل کرنے کے لئے مذاکرات کر رہا ہے، جبکہ ایران کو خدشہ ہے کہ امریکہ مذاکرات کے لبادے میں ان کی قیادت کو کمزور کرنا چاہتا ہے ۔ وزیر اعظم نے اس صورتحال میں “ضامنوں” (Guarantors) کا ایک ایسا نیٹ ورک تشکیل دیا ہے جس میں چین، سعودی عرب، ترکی، اور قطر شامل ہیں، تاکہ کسی بھی فریق کو معاہدے سے روگردانی کا موقع نہ ملے ۔   
چین کا کردار: ایک خاموش ضامن اور سیکیورٹی فراہم کنندہ
چین کی اس امن عمل میں شمولیت نے مذاکرات کے توازن کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ چینی قیادت، جو کہ روایتی طور پر مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں براہِ راست ملوث ہونے سے کتراتی رہی ہے، اس بار اپنے معاشی مفادات اور توانائی کی سلامتی کے تحفظ کے لئے میدان میں اتری ہے ۔ چونکہ چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اس لیے تہران پر اس کا اثر و رسوخ کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہے ۔   
پاکستانی حکام کے مطابق، چین نے اس مذاکراتی عمل میں “ضامن” کا کردار قبول کیا ہے ۔ بیجنگ نے ایرانی قیادت کو یہ تحریری ضمانت دی ہے کہ مذاکرات کے لئے اسلام آباد آنے والے وفود کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا جائے گا اور نہ ہی ان پر کسی قسم کا حملہ کیا جائے گا ۔ یہ یقین دہانی اس وقت انتہائی اہم تھی جب ایران کے سابق سپریم لیڈر اور دیگر اعلیٰ حکام پہلے ہی حملوں کا نشانہ بن چکے تھے ۔   
چین-پاکستان پانچ نکاتی امن اقدام
بیجنگ میں پاکستانی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای کے مابین ہونے والی ملاقات کے بعد ایک جامع امن فریم ورک پیش کیا گیا، جس نے اسلام آباد مذاکرات کے لئے ایجنڈے کا کام کیا ہے ۔  
 
نکتہ نمبر عنوان بنیادی مقصد
1 جارحیت کا خاتمہ تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کا فوری تعطل
2 سیاسی حل طاقت کے بجائے ڈائیلاگ کے ذریعے تصفیہ
3 تحفظِ عامہ سویلین آبادی اور بنیادی انفراسٹرکچر پر حملوں کی ممانعت
4 بحری سلامتی آبنائے ہرمز کی بحالی اور تجارتی جہاز رانی کا تحفظ
5 عالمی قانون اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی بالادستی کا اعتراف
  
چین کا یہ کردار نہ صرف ایران کو اعتماد فراہم کر رہا ہے بلکہ امریکہ کے لیے بھی یہ پیغام ہے کہ خطے میں اب طاقت کا ایک نیا مرکز موجود ہے جو توازن قائم رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔   
وفود کی تشکیل: تزویراتی وزن اور سیاسی قد و قامت
اسلام آباد امن مذاکرات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں جانب سے وہ شخصیات شریک ہو رہی ہیں جو براہِ راست فیصلہ سازی کی طاقت رکھتی ہیں ۔ یہ محض تکنیکی مذاکرات نہیں بلکہ سیاسی سطح پر ہونے والا ایک گرینڈ تصفیہ ہے ۔   
امریکی وفد: واشنگٹن کی تزویراتی ٹیم
وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس (JD Vance) کریں گے ۔ جے ڈی وینس کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ وہ صدر ٹرمپ کے خیالات کے قریب ترین سمجھے جاتے ہیں اور وہ خارجہ پالیسی میں “امریکہ فرسٹ” کے اصولوں کے حامی ہونے کے باوجود جنگ کے پھیلاؤ کے خلاف رہے ہیں ۔   
* جے ڈی وینس (نائب صدر): وفد کے سربراہ، جو صدر ٹرمپ کے براہِ راست نمائندے کے طور پر حتمی فیصلوں پر دستخط کرنے کے مجاز ہوں گے ۔   
* اسٹیو وٹکوف (خصوصی ایلچی): مشرقِ وسطیٰ کے لیے صدر کے خصوصی نمائندے، جنہوں نے پسِ پردہ مذاکرات کے 15 نکاتی فریم ورک کو ترتیب دیا ہے ۔   
* جیرڈ کشنر (سینئر مشیر): صدر ٹرمپ کے داماد اور ابراہیمی معاہدوں کے روحِ رواں، جن کے عرب ممالک کے ساتھ گہرے مراسم مذاکرات کی علاقائی قبولیت کے لیے ضروری ہیں ۔   
* ایڈمرل بریڈ کوپر (سینٹ کام): عسکری پہلوؤں پر مشاورت فراہم کرنے کے لیے وفد کا حصہ ہوں گے، بالخصوص آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کی بحالی ان کی ترجیح ہو گی ۔   
ایرانی وفد: تہران کی سیاسی و عسکری قیادت
ایران نے بھی اپنے وفد میں انتہائی تجربہ کار اور بااثر شخصیات کو شامل کیا ہے، جو اس بات کی عکاس ہے کہ تہران اب معاشی دباؤ اور جنگ کی تباہ کاریوں سے نکلنے کے لیے سنجیدہ ہے ۔   
* محمد باقر قالیباف (اسپیکر پارلیمنٹ): ایرانی وفد کے سربراہ، جو پاسدارانِ انقلاب کے سابق جرنیل رہے ہیں اور ایران کے سخت گیر حلقوں میں بھی قابلِ قبول ہیں ۔   
* عباس عراقچی (وزیرِ خارجہ): ایک منجھے ہوئے سفارت کار جنہوں نے 2015 کے جوہری معاہدے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ مذاکرات کے تکنیکی پہلوؤں اور 10 نکاتی ایرانی منصوبے کے دفاع کے ذمہ دار ہوں گے ۔   
* علی لاریجانی: سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے نمائندے، جن کی موجودگی وفد کو براہِ راست رہبرِ اعلیٰ کے دفتر سے جوڑتی ہے ۔   
اسلام آباد کے مقامات اور مذاکراتی ماحول
مذاکرات کے لیے اسلام آباد کے ان مقامات کا انتخاب کیا گیا ہے جو نہ صرف سیکیورٹی کے اعتبار سے محفوظ ہیں بلکہ جہاں بین الاقوامی وفود کی رازداری کو بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔   
سرینا ہوٹل اسلام آباد: تزویراتی مرکز
سرینا ہوٹل کو مذاکرات کے بنیادی مرکز کے طور پر منتخب کیا گیا ہے ۔ یہاں امریکی اور ایرانی وفود کے لیے الگ الگ بلاکس مختص کیے گئے ہیں، جبکہ ایک مشترکہ ہال “اسلام آباد ڈائیلاگ” کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ہوٹل کے ارد گرد کئی کلومیٹر کے رقبے کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے ۔   
جناح کنونشن سینٹر: عالمی میڈیا کا مرکز
دنیا بھر کے میڈیا کے لیے جناح کنونشن سینٹر میں وسیع انتظامات کیے گئے ہیں ۔ یہاں ایک جدید ترین “انٹرنیشنل میڈیا سینٹر” قائم کیا گیا ہے جہاں سے 500 سے زائد صحافی براہِ راست نشریات فراہم کر سکیں گے ۔ حکومتِ پاکستان کا مقصد یہ ہے کہ مذاکرات کے حوالے سے درست اور تصدیق شدہ معلومات دنیا تک پہنچیں تاکہ کسی قسم کی افواہوں یا ڈس انفارمیشن کو روکا جا سکے ۔   
غیر ملکی میڈیا اور ویزہ پالیسی
ان مذاکرات کی عالمی اہمیت کے پیشِ نظر، دنیا بھر سے میڈیا ہاؤسز نے اپنے نمائندوں کو پاکستان بھیجنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ ذرائع کے مطابق، امریکہ، برطانیہ، چین، بھارت اور خلیجی ممالک کے سینکڑوں صحافیوں نے پاکستان کے ویزے کے لیے درخواستیں دی ہیں ۔   
وزارتِ خارجہ اور وزارتِ اطلاعات نے ایک “فاسٹ ٹریک” ویزہ سسٹم متعارف کرایا ہے، جس کے تحت ان مذاکرات کی کوریج کے لیے آنے والے صحافیوں کو 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر ویزے جاری کیے جا رہے ہیں ۔ یورپی یونین اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے پاکستان کی اس کھلی میڈیا پالیسی کو سراہا ہے، جس کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا ہے ۔   
سیکیورٹی پلان: ریڈ زون کی حفاظت کا جامع منصوبہ
اسلام آباد کے ریڈ زون اور ڈپلومیٹک انکلیو کو ایک “غیر متزلزل قلعہ” میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ سیکیورٹی کے اس منصوبے کو تین تہوں (Layers) میں تقسیم کیا گیا ہے:   
1. پہلی تہہ (داخلی سیکیورٹی): سرینا ہوٹل اور کنونشن سینٹر کے اندرونی حصوں کی حفاظت اسپیشل سروسز گروپ (SSG) اور ایلیٹ فورس کے سپرد ہے ۔   
2. دوسری تہہ (پیری میٹر سیکیورٹی): ریڈ زون کے تمام داخلی راستوں پر پاک فوج اور رینجرز کے دستے تعینات ہیں، جہاں جدید بائیومیٹرک اور فیشل ریکگنیشن سسٹم نصب کیے گئے ہیں ۔   
3. تیسری تہہ (فضائی و تکنیکی نگرانی): اسلام آباد کی فضائی حدود کو “نو فلائی زون” قرار دے دیا گیا ہے، جبکہ ڈرونز اور جدید سگنلز انٹیلیجنس کے ذریعے پورے شہر کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے ۔   
اسلام آباد ٹریفک پولیس نے متبادل راستوں کا نقشہ جاری کر دیا ہے تاکہ عام شہریوں کو کم سے کم دشواری ہو، تاہم ڈپلومیٹک انکلیو کی طرف جانے والے تمام راستے مکمل طور پر سیل کر دیے گئے ہیں ۔   
مذاکراتی ایجنڈا: دو متصادم نظریات کے مابین جنگ
مذاکرات کی میز پر دو مختلف دستاویزات موجود ہیں جن کے نکات ایک دوسرے سے یکسر متصادم ہیں ۔   
ایران کا 10 نکاتی مطالبہ
ایران کا موقف ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا تھا، لیکن اسے مجبور کیا گیا۔ ان کے مطالبات درج ذیل ہیں:
نمبر مطالبہ تفصیل
1 غیر جارحیت کی ضمانت امریکہ اور اسرائیل دوبارہ حملہ نہ کرنے کا عہد کریں
2 آبنائے ہرمز پر کنٹرول بحری راستوں کی نگرانی ایرانی مسلح افواج کے پاس رہے گی
3 افزودگی کا حق پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی جاری رکھنے کی اجازت
4 پابندیوں کا خاتمہ تمام معاشی اور تجارتی پابندیوں کی فوری منسوخی
5 معاوضہ جنگ میں ہونے والے انفراسٹرکچر کے نقصان کا ازالہ
6 اثاثوں کی واپسی دنیا بھر میں منجمد ایرانی فنڈز کی واگزاری
7 امریکی انخلاء خطے سے امریکی عسکری اڈوں کا خاتمہ
8 یو این قراردادیں ایران مخالف تمام عالمی قراردادوں کی منسوخی
9 آئی اے ای اے کیسز ایٹمی ایجنسی میں ایران کے خلاف مقدمات کا بند ہونا
10 لبنان میں جنگ بندی اسرائیل حزب اللہ اور لبنان پر حملے فوری بند کرے
  
امریکی 15 نکاتی منصوبہ
امریکہ کا منصوبہ ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرنے اور اسے ایک “عام ریاست” بنانے پر مرکوز ہے ۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران میں “حکومت کی تبدیلی” (Regime Change) کے بجائے “روئے کی تبدیلی” چاہتے ہیں، لیکن وہ کسی بھی صورت ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے قریب نہیں جانے دیں گے ۔   
لبنان اور اسرائیل کا کردار: مذاکرات میں بڑی رکاوٹ
ان مذاکرات میں سب سے بڑی پیچیدگی لبنان کا محاذ ہے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے سرکاری بیان میں اعلان کیا تھا کہ جنگ بندی کا اطلاق لبنان سمیت تمام محاذوں پر ہوگا ۔ تاہم، اسرائیل نے فوری طور پر اس کی تردید کر دی۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ان کی جنگ ایران کے ساتھ عارضی طور پر رک سکتی ہے، لیکن حزب اللہ کے خلاف ان کی کارروائیاں جاری رہیں گی ۔   
امریکہ بھی اس معاملے پر تذبذب کا شکار ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نے کہا کہ امریکہ نے کبھی بھی لبنان کو جنگ بندی کا حصہ بنانے کا وعدہ نہیں کیا تھا ۔ ایران کے لئے یہ ایک “ریڈ لائن” ہے، کیونکہ وہ حزب اللہ کو اپنے دفاع کی پہلی لکیر سمجھتا ہے ۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کیا پاکستان اور چین مل کر اسرائیل کو لبنان میں حملے روکنے پر قائل کر پاتے ہیں یا نہیں ۔   
اقتصادی اثرات: تیل کی قیمتیں اور عالمی سپلائی چین
جنگ کے آغاز سے ہی عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں
200
ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھیں، جس نے دنیا بھر میں مہنگائی کا طوفان برپا کر دیا تھا ۔ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے عالمی تیل کی ترسیل کا
20%
حصہ رک گیا تھا ۔   
اسلام آباد مذاکرات کی خبر پھیلتے ہی مارکیٹوں میں مثبت رجحان دیکھا گیا ہے:
* تیل کی قیمتوں میں 15%
 تک کی کمی واقع ہوئی ہے ۔   
* خلیجی ممالک کی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی آئی ہے ۔   
* پاکستان کی کرنسی (روپے) کی قدر میں استحکام دیکھنے میں آیا ہے کیونکہ پاکستان اب عالمی سطح پر ایک “سیکیورٹی گیٹ وے” کے طور پر ابھرا ہے ۔   
تزویراتی بصیرت: پاکستان کے لئے خطرات اور مواقع
اگرچہ یہ مذاکرات پاکستان کے لئے ایک بڑی سفارتی فتح ہیں، لیکن ان میں خطرات بھی پوشیدہ ہیں ۔ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں اور جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے، تو پاکستان پر یہ الزام لگ سکتا ہے کہ اس نے فریقین کو صحیح طریقے سے ہینڈل نہیں کیا ۔ مزید برآں، ایران میں موجود عدم استحکام پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکوں کو ہوا دے سکتا ہے، جس کا ادراک پاکستانی سیکیورٹی اداروں کو بخوبی ہے ۔   
دوسری طرف، ان مذاکرات کی کامیابی پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کے ایک ناگزیر کھلاڑی کے طور پر قائم کر دے گی ۔ یہ پاکستان کے لئے ایک موقع ہے کہ وہ سی پیک (CPEC) کے ذریعے ایران اور ترکی کو جوڑ کر ایک نیا علاقائی معاشی بلاک تشکیل دے، جس کی پشت پناہی چین کر رہا ہو ۔   
مستقبل کا منظرنامہ: کیا اسلام آباد امن کا گہوارہ بنے گا؟
اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات محض دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کو مستقل امن میں بدلنے کی ایک کوشش ہیں ۔ فریقین کے مابین خلیج بہت وسیع ہے، لیکن جنگ کی بڑھتی ہوئی قیمت نے انہیں میز پر بیٹھنے پر مجبور کر دیا ہے ۔   
پاکستان، ایک میزبان اور ثالث کے طور پر، اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم نے جو لاجسٹک اور سفارتی ڈھانچہ تیار کیا ہے، وہ بین الاقوامی معیار کے عین مطابق ہے ۔ اب گیند امریکہ اور ایران کے کورٹ میں ہے کہ آیا وہ اپنی انا کو بالائے طاق رکھ کر خطے کے لاکھوں انسانوں کی زندگیوں اور عالمی استحکام کو ترجیح دیتے ہیں یا دوبارہ بارود کی سیاست کی طرف لوٹ جاتے ہیں ۔   
یہ مذاکرات 21 ویں صدی کے تزویراتی منظرنامے میں پاکستان کی نئی پہچان بن سکتے ہیں، جہاں وہ اب صرف ایک فرنٹ لائن اسٹیٹ نہیں بلکہ عالمی امن کا ایک سرگرم سہولت کار بن کر ابھرا ہے ۔ دنیا کی نظریں اب جناح کنونشن سینٹر سے نکلنے والے اعلامئے پر لگی ہیں، جو شاید تاریخ کے دھارے کو ہمیشہ کے لئے بدل دے ۔