دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ:
پاکستان کے شمال مغربی سرحدی علاقوں، بالخصوص سابقہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (FATA) اور خیبر پختونخوا کے بندوبستی اضلاع میں گزشتہ دو دہائیوں سے جاری شورش اور اس کے خلاف ہونے والے عسکری اقدامات نے نہ صرف ملک کے جغرافیائی اور سیاسی نقشے کو تبدیل کیا ہے بلکہ ایک ایسا انسانی المیہ جنم دیا ہے جس کی مثال جدید تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ شدت پسندی کے خاتمے کے لیے ریاست کی جانب سے کئے جانے والے آپریشنز نے جہاں دہشت گردی کے ڈھانچے کو کمزور کیا، وہی لاکھوں خاندانوں کو اپنے آباؤ اجداد کی زمین چھوڑنے پر مجبور کر دیا ۔ یہ رپورٹ ‘دی خیبر ٹائمز’ کے لیے ان آپریشنز کی ضلع وار تفصیل، بے گھر ہونے والے افراد (IDPs) کی مشکلات، اور وادی تیراہ میں جاری حالیہ نقل مکانی کا ایک گہرا تجزیاتی جائزہ پیش کرتی ہے۔
آپریشنز کا تاریخی تناظر اور عسکری حکمت عملی کا ارتقاء
نائن الیون کے واقعات کے بعد جب افغانستان میں طالبان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، تو القاعدہ اور افغان طالبان کے جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد نے سرحد عبور کر کے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پناہ لی۔ اس صورتحال نے ریاست کو اپنی روایتی سرحدی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کیا ۔ 2002 میں جنوبی وزیرستان میں شروع ہونے والے پہلے بڑے آپریشن ‘المیزان’ سے لے کر 2024-25 کے ‘عزم استحکام’ اور ‘سربکف’ تک، پاکستان کی عسکری حکمت عملی مختلف مراحل سے گزری ہے ۔
ابتدائی دور میں آپریشنز محدود نوعیت کے تھے، جن کا مقصد غیر ملکی جنگجوؤں کی تلاش تھا۔ تاہم، 2007 میں تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے قیام کے بعد شورش نے ایک منظم شکل اختیار کر لی، جس کے نتیجے میں ریاست کو وسیع پیمانے پر روایتی جنگ (Conventional Warfare) کا سہارا لینا پڑا ۔
عسکری آپریشنز کی جدول وار تفصیل (2002-2026)
درج ذیل جدول میں مختلف اضلاع میں ہونے والے اہم آپریشنز اور ان کے دورانیے کی تفصیل دی گئی ہے، جو اس خطے میں جنگ کی شدت اور پھیلاؤ کو ظاہر کرتی ہے:
آپریشن کا نام متاثرہ ضلع / علاقہ آغاز حیثیت / نتیجہ
آپریشن المیزان جنوبی وزیرستان 2002 عسکریت پسندوں کی تنظیم نو ہوئی
آپریشن راہِ حق سوات 2007 عارضی امن، شدت پسندی دوبارہ ابھری
آپریشن زلزلہ جنوبی وزیرستان (سراروغہ) 2008 محسود جنگجوؤں کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا
آپریشن شیر دل باجوڑ ایجنسی 2008 عسکری کامیابی، سرحد پار نقل و حرکت میں کمی
آپریشن صراطِ مستقیم خیبر ایجنسی (باڑہ) 2008 منگل باغ کے گروہ کے خلاف کارروائی
آپریشن راہِ راست سوات / مالاکنڈ 2009 فیصلہ کن کامیابی، لاکھوں افراد کی نقل مکانی
آپریشن راہِ نجات جنوبی وزیرستان 2009 ٹی ٹی پی کے قلعوں کا خاتمہ
آپریشن بریخنا مہمند ایجنسی 2009 سرحدی علاقوں کی کلیئرنس
آپریشن خواب با دے شم اورکزئی / کرم 2010 شدت پسندوں کے محفوظ ٹھکانوں کی تباہی
آپریشن ضربِ عضب شمالی وزیرستان 2014 عالمی سطح پر دہشت گردی کے ڈھانچے کی تباہی
آپریشن خیبر (1-4) خیبر ایجنسی (تیراہ) 2014 وادی تیراہ کا کنٹرول حاصل کیا گیا
آپریشن رد الفساد ملک گیر (کے پی فوکس) 2017 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا آغاز
آپریشن عزمِ استحکام خیبر پختونخوا 2024 جاری، کثیر الجہتی انسدادِ دہشت گردی مہم
آپریشن سربکف باجوڑ (ماموند) 2025 حالیہ شدت پسندی کے خلاف جاری کارروائی
اضلاع کی بنیاد پر آپریشنز کی تفصیل اور جغرافیائی اثرات
شدت پسندی کے خلاف جنگ کا اثر ہر ضلع پر مختلف رہا ہے۔ وزیرستان سے لے کر سوات تک، ہر علاقے کی اپنی سماجی اور تزویراتی اہمیت تھی جس نے آپریشنز کی نوعیت کا تعین کیا ۔
وزیرستان: شورش کا مرکز اور ضربِ عضب کے اثرات
شمالی اور جنوبی وزیرستان کو تاریخی طور پر عسکریت پسندی کا اعصابی مرکز سمجھا جاتا رہا ہے۔ جنوبی وزیرستان میں 2009 کا آپریشن ‘راہِ نجات’ محسود قبائل کے علاقوں میں ٹی ٹی پی کے اثر کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں تقریباً دس لاکھ افراد بے گھر ہوئے ۔ تاہم، شمالی وزیرستان میں 2014 تک کوئی بڑا آپریشن نہیں کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے یہ علاقہ بین الاقوامی عسکریت پسندوں، بشمول ازبک اور القاعدہ کے جنگجوؤں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بن گیا تھا ۔
15 جون 2014 کو شروع ہونے والا آپریشن ‘ضربِ عضب’ اس سلسلے کی سب سے بڑی کڑی تھی۔ اس آپریشن کے دوران میرانشاہ اور میرعلی جیسے شہروں میں آئی ای ڈی فیکٹریاں، خودکش بمباروں کے تربیتی مراکز اور میلوں طویل سرنگیں دریافت ہوئیں ۔ عسکری لحاظ سے یہ ایک بڑی کامیابی تھی، لیکن اس کی قیمت یہاں کے انفراسٹرکچر کی مکمل تباہی کی صورت میں چکانی پڑی۔ میرانشاہ اور میرعلی کے تاریخی بازار، جو سرحد پار تجارت کے مراکز تھے، ملبے کا ڈھیر بن گئے ۔ 2025 تک کی رپورٹوں کے مطابق، اگرچہ بہت سے لوگ واپس آ چکے ہیں، لیکن معاشی بحالی کا عمل سست روی کا شکار ہے اور سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انٹرنیٹ اور مواصلات کی بندش نے مقامی تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے ۔
باجوڑ اور مہمند: سرحدی تحفظ اور آپریشن سربکف
باجوڑ اور مہمند ایجنسیوں کی سرحدیں افغانستان کے صوبہ کنار سے ملتی ہیں، جو ہمیشہ سے عسکریت پسندوں کی دراندازی کا راستہ رہا ہے ۔ 2008 کا آپریشن ‘شیر دل’ باجوڑ میں طالبان کی سیاسی اور عسکری طاقت کو کچلنے کے لیے شروع کیا گیا تھا ۔ مہمند ایجنسی میں آپریشن ‘بریخنا’ نے شدت پسندوں کے سرحدی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، لیکن یہاں کا المیہ مقامی عمائدین (ملکوں) اور امن کمیٹیوں کے ممبران کی ٹارگٹ کلنگ تھی ۔
حالیہ برسوں میں، خاص طور پر 2021 میں کابل میں طالبان کی واپسی کے بعد، باجوڑ میں ایک بار پھر شدت پسندی کی لہر دیکھی گئی ہے۔ جولائی 2025 میں شروع ہونے والا آپریشن ‘سربکف’ اس کا تازہ ثبوت ہے۔ یہ آپریشن باجوڑ کی تحصیل لوئی ماموند میں کیا جا رہا ہے، جہاں گن شپ ہیلی کاپٹروں اور آرٹلری کا استعمال کر کے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ اس کارروائی کے نتیجے میں تحصیل ماموند کے 16 سے زائد دیہات میں کرفیو نافذ کر دیا گیا، جس سے ہزاروں خاندان ایک بار پھر بے گھر ہونے پر مجبور ہو گئے ۔
سوات: مالاکنڈ ڈویژن کی مکمل بحالی کا ماڈل
سوات کا المیہ 2007 میں مولانا فضل اللہ کی قیادت میں شدت پسندی کے ابھار سے شروع ہوا۔ 2009 کا آپریشن ‘راہِ راست’ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی اندرونی نقل مکانی کا سبب بنا، جہاں تقریباً 23 لاکھ افراد سوات اور ملحقہ علاقوں سے ہجرت کر گئے ۔ سوات کو دیگر علاقوں کے مقابلے میں ایک “کامیاب ماڈل” قرار دیا جاتا ہے کیونکہ یہاں سویلین انتظامیہ اور پولیس کا نظام بحال ہو چکا ہے، لیکن 2024-25 کی سیکیورٹی رپورٹس بتاتی ہیں کہ اب بھی سوات کے بالائی علاقوں میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیاں کبھی کبھار سر اٹھاتی ہیں، جس سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل جاتا ہے ۔
انسانی المیہ: بے گھر ہونے والے افراد (IDPs) کی کہانیاں
فوجی آپریشنز کے دوران ہونے والی نقل مکانی صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں ہے بلکہ یہ لاکھوں انسانی زندگیوں کی تباہی کی داستان ہے۔ 2003 سے 2019 کے درمیان اندازاً 60 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے ۔
کیمپوں کی زندگی اور رجسٹریشن کے مسائل
نقل مکانی کرنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد نے صوابی، مردان اور پشاور کے کیمپوں، جیسے جلوزئی کیمپ میں پناہ لی ۔ تاہم، 90 فیصد سے زائد آئی ڈی پیز کیمپوں کے بجائے اپنے رشتہ داروں یا کرائے کے مکانات میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ اپنی روایتی قبائلی پرائیویسی برقرار رکھ سکیں ۔
رجسٹریشن کا عمل ہمیشہ سے ایک متنازع مسئلہ رہا ہے۔ بہت سے خاندان، خاص طور پر وہ خواتین جن کے پاس شناختی کارڈ نہیں تھے، سرکاری امداد اور راشن سے محروم رہ گئے ۔ 2026 کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والوں کو بھی نادرا (NADRA) کے سسٹم میں خرابی اور انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔
نقل مکانی کا اہم واقعہ متاثرہ آبادی (اندازاً) سال حوالہ
آپریشن راہِ راست (سوات) 2,300,000 2009
آپریشن راہِ نجات (جنوبی وزیرستان) 1,000,000 2009
آپریشن ضربِ عضب (شمالی وزیرستان) 961,000 2014
حالیہ تیراہ نقل مکانی 15,000-20,000 خاندان 2026
حالیہ باجوڑ (ماموند) نقل مکانی 100,000 افراد 2025
بے گھر افراد کے ساتھ سماجی رویے اور نفسیاتی اثرات
قبائلی علاقوں سے آنے والے آئی ڈی پیز کو اکثر بڑے شہروں میں “شدت پسندی کا ہمدرد” سمجھا جاتا رہا ہے، جس نے ان کے لیے روزگار اور رہائش کے حصول کو مزید مشکل بنا دیا ۔ ایک پوری نسل ایسی پروان چڑھی ہے جس نے اپنے بچپن کا بہترین حصہ خیموں میں یا دربدر ٹھوکریں کھاتے گزارا ہے۔ سوات اور وزیرستان کے واپسی کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی بارودی سرنگوں (Landmines) اور آئی ای ڈیز کے خوف میں جیتے ہیں، جو ان کے گھروں اور کھیتوں میں اب بھی کہیں نہ کہیں دفن ہیں ۔
وادی تیراہ: حالیہ آپریشن اور نقل مکانی (2025-2026)
ضلع خیبر کی وادی تیراہ اس وقت شورش کا تازہ ترین مرکز بنی ہوئی ہے۔ یہ علاقہ اپنی تزویراتی لوکیشن اور دشوار گزار پہاڑی سلسلوں کی وجہ سے ہمیشہ سے شدت پسند گروپوں، جیسے لشکرِ اسلام اور ٹی ٹی پی کے لیے اہم رہا ہے ۔
جنوری 2026 کی جبری نقل مکانی کا پس منظر
دسمبر 2025 کے آخر میں، سیکورٹی فورسز اور ضلعی انتظامیہ نے تیراہ کے مشران (بزرگوں) کے ساتھ مذاکرات کیے تاکہ وادی کو عسکریت پسندوں سے پاک کرنے کے لیے فیصلہ کن آپریشن شروع کیا جا سکے ۔ 21 دسمبر 2025 کو ہونے والے معاہدے کے تحت، مقامی آبادی کو 10 جنوری سے 25 جنوری 2026 کے درمیان گھر خالی کرنے کا حکم دیا گیا ۔
اس نقل مکانی کو “مشروط نقل مکانی” کہا جا رہا ہے، جس میں حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ آپریشن دو ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا اور 5 اپریل 2026 سے واپسی شروع ہوگی ۔ تاہم، مقامی آبادی اس معاہدے سے خوش نہیں تھی۔ قبائلی جرگے کے ممبران کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ “مجبوری” میں کیا ہے کیونکہ تیراہ کی صورتحال ایسی ہو چکی تھی کہ وہاں انسانوں کا رہنا ناممکن ہو گیا تھا ۔
انسانی کہانیاں: شدید سردی اور رجسٹریشن کا بحران
تیراہ سے ہونے والی حالیہ نقل مکانی شدید سردی کے موسم میں ہو رہی ہے۔ جنوری 2026 کی برفباری اور منفی درجہ حرارت میں خواتین، بچے اور بوڑھے کھلے آسمان تلے سڑکوں پر راتیں گزارنے پر مجبور ہیں ۔
40 سالہ زبیر خان، جن کا تعلق بار قمبر خیل قبیلے سے ہے، بتاتے ہیں کہ وہ اپنے اہل خانہ اور مویشیوں کے ساتھ کئی روز تک ‘پائندی چینہ’ رجسٹریشن سینٹر کے باہر کھڑے رہے ۔ گاڑیوں میں لدے سامان کے ساتھ لوگ بھوک اور پیاس کی شدت برداشت کر رہے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے خوراک اور پناہ گاہوں کے انتظامات انتہائی ناقص ہیں ۔ مزید برآں، ناری بابا کے مقام پر ایک گاڑی الٹنے سے تین بے گھر افراد جاں بحق ہو گئے، جو اس انسانی المیے کی سنگینی کو واضح کرتا ہے ۔
معاوضہ اور حکومتی وعدے
حکومت نے تیراہ کے متاثرین کے لیے درج ذیل معاوضوں کا اعلان کیا ہے:
مد رقم (پاکستانی روپے) تفصیل
فوری نقد امداد 250,000 فی خاندان (ون ٹائم)
ماہانہ وظیفہ 50,000 واپسی تک ماہانہ بنیادوں پر
مکمل تباہ شدہ گھر 3,000,000 سروے کے بعد ادائیگی
جزوی نقصان 1,000,000 گھروں کی مرمت کے لیے
تجارتی نقصان 1,000,000 دکانوں اور کاروبار کے لیے
اگرچہ یہ معاوضہ ماضی کے آپریشنز کے مقابلے میں زیادہ ہے، لیکن باڑہ بازار اور وزیرستان کے تجربات بتاتے ہیں کہ سروے اور ادائیگیوں کا عمل برسوں پر محیط ہوتا ہے، جس سے مقامی آبادی کا ریاست پر اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے ۔
معاشی تباہی اور سماجی ڈھانچے کا بکھرنا
شدت پسندی کے خلاف جنگ نے اس خطے کے معاشی مستقبل کو گہرا نقصان پہنچایا ہے۔ حکومت پاکستان کے 2011 کے ایک تخمینے کے مطابق، اس جنگ کی براہِ راست اور بالواسطہ لاگت 70 ارب ڈالر سے زائد تھی ۔
باڑہ بازار کی مثال: ایک معاشی قتل گاہ
باڑہ بازار کبھی پورے پاکستان میں غیر ملکی اور الیکٹرانکس کی اشیاء کا مرکز تھا ۔ 2009 میں آپریشن کی وجہ سے اسے سیل کر دیا گیا اور جب 2016 میں اسے دوبارہ کھولا گیا، تو وہاں 2000 سے زائد دکانیں ملبے کا ڈھیر بن چکی تھیں ۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ ان کا کروڑوں روپے کا سامان دکانوں میں ہی گل سڑ گیا ۔ 2018 تک صرف 3000 دکانیں ہی بحال ہو سکیں، جبکہ بجلی، پانی اور سڑکوں جیسے بنیادی مسائل آج بھی حل طلب ہیں ۔
زراعت اور لائیو سٹاک کا نقصان
فاٹا اور خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع بنیادی طور پر زرعی معاشرے ہیں۔ آپریشنز کے دوران جب لوگ بھاگتے ہیں، تو وہ اپنے پیچھے کھڑی فصلیں اور مویشی چھوڑ جاتے ہیں ۔ باجوڑ اور مہمند میں مویشیوں کی ہلاکت اور آبپاشی کے نظام کی تباہی نے غربت کی شرح میں ریکارڈ اضافہ کیا ہے ۔
جدید دور کی شدت پسندی اور آپریشن عزمِ استحکام (2024-2025)
2021 کے بعد پاکستان میں عسکریت پسندی کی ایک نئی لہر آئی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان (TTP) نے افغانستان میں طالبان کی فتح کے بعد اپنی کارروائیوں میں تیزی پیدا کی ہے ۔
سیکیورٹی صورتحال کا تجزیہ 2025
رپورٹس کے مطابق 2025 پاکستان کے لیے گزشتہ ایک دہائی کا سب سے خونریز سال رہا ہے۔ صرف ستمبر 2025 میں خیبر پختونخوا میں 45 عسکریت پسند حملے ہوئے ۔ سیکورٹی فورسز نے 2025 میں 75,000 سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے، جن میں 2,597 عسکریت پسند ہلاک ہوئے ۔
آپریشن ‘عزمِ استحکام’ کا آغاز جون 2024 میں کیا گیا تھا، جس کا مقصد محض عسکری کارروائی نہیں بلکہ سماجی اور معاشی بحالی بھی ہے ۔ تاہم، مقامی سیاسی قیادت اور قبائلی مشران اس آپریشن کی شفافیت پر سوال اٹھاتے ہیں اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے خدشات کا اظہار کرتے ہیں ۔
ڈیجیٹل بلیک آؤٹ اور اس کے اثرات
جدید جنگ اب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں ہے۔ شمالی وزیرستان میں جولائی 2025 میں 10 روزہ انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی بندش نے مقامی معیشت کو مفلوج کر دیا ۔ تاجروں کو روزانہ لاکھوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے، جبکہ طلباء اور آن لائن کام کرنے والے نوجوان ریاست کے اس اقدام کو اپنے معاشی قتل کے برابر قرار دیتے ہیں ۔
نتیجہ اور سفارشات: پائیدار امن کی تلاش
خیبر پختونخوا اور سابقہ قبائلی علاقوں میں ہونے والے آپریشنز نے بلاشبہ ریاست کی رٹ بحال کرنے میں مدد دی ہے، لیکن انسانی اور معاشی قیمت اس قدر زیادہ ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ وادی تیراہ کی حالیہ نقل مکانی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ۔
تجزیاتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو پائیدار امن کے لیے صرف عسکری اقدامات کافی نہیں ہیں۔ ریاست کو ‘کلیئر’ (Clear) کے بعد ‘ہولڈ’ (Hold) اور ‘بلڈ’ (Build) کے مراحل پر زیادہ توجہ دینی ہوگی ۔
اہم نکات:
1. معاوضوں کی فوری ادائیگی: باڑہ، وزیرستان اور اب تیراہ کے متاثرین کو وعدہ کردہ رقوم کی شفاف اور فوری ادائیگی یقینی بنائی جائے تاکہ ان کی معاشی زندگی بحال ہو سکے ۔
2. انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نو: تباہ شدہ تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور بازاروں کی بحالی کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے ۔
3. ڈیجیٹل شمولیت: سیکیورٹی کے نام پر انٹرنیٹ کی طویل بندش کے بجائے جدید مانیٹرنگ سسٹم اپنایا جائے تاکہ مقامی معیشت متاثر نہ ہو ۔
4. سیاسی اور سماجی مکالمہ: آپریشنز کے آغاز سے قبل مقامی قیادت کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ عوام اور ریاست کے درمیان موجود خلیج کو ختم کیا جا سکے ۔
‘دی خیبر ٹائمز’ کی یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ قبائلی پٹی کے باسیوں نے ریاست کے تحفظ کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ اب یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں ان کے گھروں میں باعزت واپسی اور پائیدار معاشی خوشحالی فراہم کرے۔ جنگ کے سائے جب تک ان وادیوں سے نہیں چھٹیں گے، پاکستان کے اس خطے میں حقیقی استحکام ایک خواب ہی رہے گا ۔




