پشاور( دی خیبرٹائمز ماینٹرنگ ڈیسک )
افغانستان کے صوبوں پکتیکا اور ننگرہار میں تین مختلف مقامات پر زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ افغانستان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پاکستانی فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے ان علاقوں میں فضائی حملے کئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق صوبہ پکتیکا کے علاقوں اورگون اور بیرمل میں اتحاد المجاہدین پاکستان (حافظ گل بہادر گروپ) کے دو تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ صوبہ ننگرہار کے علاقے خوگیانی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک مبینہ مرکز پر بھی فضائی کارروائی کی گئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں جانی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم ہلاکتوں کی حتمی تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
افغانستان میں موجود ذرائع نے فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے، تاہم تادمِ تحریر افغان طالبان (امارتِ اسلامی افغانستان) اور حکومتِ پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بنوں میں پاک فوج کی ایک بکتر بند گاڑی کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں پاک فوج کے ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی شہید ہو گئے تھے۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق اس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ اتحاد المجاہدین پاکستان (حافظ گل بہادر گروپ) نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، اور یہ گروہ افغانستان سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔
پاکستانی حکام ماضی میں متعدد بار افغان طالبان سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لئے استعمال ہونے سے روکیں۔ تاہم حالیہ واقعات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحد پار کارروائیوں اور ان کے ممکنہ نتائج پر دونوں ممالک کی جانب سے آئندہ چند گھنٹوں یا دنوں میں باضابطہ مؤقف سامنے آ سکتا ہے۔




