سرحد کی بندش اور خیبر پختونخوا کی معیشت : خصوصی رپورٹ :صفی اللہ گل

اعداد و شمار سے بڑھتا ہوا ایک بحران

پاک افغان سرحد کی غیر یقینی صورتحال اب محض ایک سرحدی یا سیکیورٹی معاملہ نہیں رہی، بلکہ یہ خیبر پختونخوا کی معیشت کے لیے ایک سنگین امتحان بن چکی ہے۔ سرحد کے دونوں جانب کھڑے مال بردار ٹرک اور بند گودام اس حقیقت کا اظہار ہیں کہ جب تجارتی راستے مسدود ہوتے ہیں، تو اس کے اثرات صرف سرحدی اضلاع تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے صوبے کا معاشی ڈھانچہ متاثر ہوتا ہے۔

خیبر پختونخوا کی معیشت میں انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (IDC) آمدن کا ایک کلیدی ذریعہ ہے، جس کا براہِ راست انحصار سرحدی تجارت اور افغان ٹرانزٹ پر ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، رواں مالی سال کے ابتدائی سات ماہ میں اس ریونیو میں اربوں روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں ہونے والا یہ خسارہ محض اعداد و شمار کا اتار چڑھاؤ نہیں، بلکہ صوبے کے مالیاتی استحکام کے لیے ایک واضح خطرے کی گھنٹی ہے۔
تاجر برادری کی مشکلات اور لیکویڈیٹی بحران
اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر تاجر برادری پر پڑ رہا ہے۔ ایکسپورٹ اور ٹرانزٹ معطل ہونے کی وجہ سے نہ صرف سامان کی ترسیل رک گئی ہے، بلکہ بین الاقوامی ادائیگیوں میں تعطل نے ایک شدید لیکویڈیٹی بحران پیدا کر دیا ہے۔ مہنگائی اور کاروباری اخراجات کے بوجھ تلے دبے تاجر اب قانونی واجبات اور ٹیکسوں کی ادائیگی میں بھی دشواری محسوس کر رہے ہیں۔

صوبائی مشیرِ خزانہ مزمل اسلم کی جانب سے وفاق کو بھیجا گیا مراسلہ اس معاشی صورتحال کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ابتدائی طور پر ریونیو کی وصولی عدالتی حکمِ امتناع کی وجہ سے متاثر تھی، مگر اب سرحد کی بندش ایک بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آئی ہے۔
یہاں یہ سوال اہم ہے کہ کیا سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی کے مقاصد کو معاشی سرگرمیوں کے ساتھ ہم آہنگ نہیں کیا جا سکتا؟ سرحد کی مکمل بندش کے بجائے ایک موثر مینجمنٹ سسٹم کی ضرورت ہے تاکہ سیکیورٹی پر سمجھوتہ کیے بغیر تجارت کا پہیہ چلتا رہے
مربوط حکمتِ عملی
خیبر پختونخوا پہلے ہی محدود وسائل اور بے روزگاری جیسے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ ایسے میں سرحد کی طویل بندش عام شہری، مزدور اور چھوٹے تاجر کی مشکلات میں مزید اضافے کا سبب بن رہی ہے۔
وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان ایک اعلیٰ سطحی اور نتیجہ خیز مشاورت ناگزیر ہے۔
سرحدی نظم و نسق کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ قانونی تجارت میں رکاوٹیں کم سے کم ہوں۔
تجارتی پالیسیوں کو علاقائی حقائق کے مطابق لچکدار بنایا جائے۔
اب وقت آگیا ہے کہ پالیسی ساز سرحد کو صرف ایک لکیر کے طور پر نہ دیکھیں، بلکہ اسے معاشی ترقی کی ایک شہ رگ سمجھ کر ایسے فیصلے کریں جو صوبے کی معیشت کو دوبارہ سانس لینے کا موقع فراہم کریں۔