صفی اللہ گل
دنیا بھر میں معدنی وسائل پر کنٹرول کے لیے ایک نئی اور شدید کشمکش شروع ہو چکی ہے، جس میں تانبے جیسے اہم دھات کی مانگ محرک کی حیثیت رکھتی ہے۔
تانبے کی مانگ اور سپلائی میں بڑھتا فرق
توانائی کی منتقلی اور جدید ٹیکنالوجیز کے باعث تانبے کی عالمی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ اس کی سپلائی اس کا ساتھ نہیں دے پا رہی۔ اس عدم توازن نے تانبے کی قیمت کو تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے،
جو فی ٹن تقریباً 13,300 ڈالر کے قریب ہے۔ پیشین گوئیوں کے مطابق، سنہ 2040 تک سالانہ سپلائی اور مانگ کے درمیان فرق 10 ملین ٹن تک پہنچ سکتا ہے، جو قیمتوں پر مستقل دباؤ برقرار رکھے گا۔
معدنیات کی صنعت میں انضمام کی لہر
اس ماحول نے معدنیات کی صنعت کی بڑی کمپنیوں کو اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے آپس میں ضم ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ دنیا کی دو بڑی معدنی کمپنیوں، گلینکور اور ریو ٹنٹو کے درمیان پھر سے انضمام کی بات چیت شروع ہوئی ہے۔ اگر یہ انضمام ہو جاتا ہے، تو 260 ارب ڈالر مالیت کی ایک نیا صنعتی دیو وجود میں آئے گا۔
یہ اقدام ایک اور بڑے انضمام کے فیصلے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ اینگلو امریکن اور کینیڈا کی ٹیک ریسورسز کے ضم ہونے سے جو نئی کمپنی “اینگلو ٹیک” بنے گی، وہ فوری طور پر تانبے پیدا کرنے والی دنیا کی پانچویں بڑی کمپنی بن جائے گی۔ اس پیش رفت نے دیگر بڑی کمپنیوں کو بھی اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی پر مجبور کر دیا ہے۔
پاکستان کے معدنی خزانے: ایک موقع
اس عالمی دوڑ میں پاکستان اپنے وسیع معدنی ذخائر کی بدولت ایک اہم کھلاڑی بن سکتا ہے۔ بلوچستان میں واقع ریکوڈک تانبے اور سونے کا منصوبہ اس کا اہم ترین ستون ہے، جسے بارک گولڈ کمپنی چلا رہی ہے۔ اگر ریکوڈک کی صلاحیت پوری طرح متعارف ہو جاتی ہے (جس میں بارک گولڈ کے 50 فیصد حصص ہیں)، تو یہ کمپنی تانبے کے حوالے سے دنیا کی پانچ بڑی کمپنیوں میں شامل ہو جائے گی۔
اس کے علاوہ پاکستان میں اینٹی مونی جیسے دیگر اہم معدنیات کے ذخائر بھی دریافت ہوئے ہیں، جو جدید فوجی اور ٹیکنالوجی سازوسامان میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مستقبل کا راستہ: جامع ترقی
بین الاقوامی کمپنیوں کا یہ انضمام اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ معدنی وسائل کس قدر قیمتی ہیں۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ محض ان وسائل کی کان کنی تک محدود نہ رہے، بلکہ ایک جامع اور پائیدار ترقیاتی ماڈل اپنائے۔ اگر مقامی آبادی کو اس ترقی سے براہِ راست فائدہ پہنچایا جائے، تو یہ معدنی خزانے خطے میں استحکام اور خوشحالی کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس طرح پاکستان عالمی سطح پر اہم معدنیات کی سپلائی چین میں ایک بااعتماد اور اہم شراکت دار کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔




