شمالی وزیرستان کے سرکاری اداروں کے اہلکاروں کو ) آئی او ایم ) کے تعاون سے سی آر اے کا پشاور میں دور وزہ ورکشاپ

پشاور ( دی خیبرٹائمز جنرل رپورٹنگ ڈیسک) شمالی وزیرستان کے سرکاری اداروں کے اہلکاروں کو اقوام متحدہ کی تنظیم انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن( آئی او ایم ) کے تعاون سے غیر سرکاری تنظیم سی آر اے نے پشاور میں دوروزہ ورکشاپ منعقد کیا جس میں شرکاء کو فاٹا انضمام کے بعد مختلف سرکاری اداروں کے مابین پیدا ہونے والے تنازعات ،لوگوں کو سامنے آنے والے سماجی اور معاشی مسائل اور بے گھر افراد کی دوسری آبادکاری و بحالی جیسے سنگین مسائل پر بحث کی گئی اور ان کے حل کیلئے تجاویز پیش کی گئیں۔ورکشاپ کے بارے میں تنظیم کے ایک اعلی عہدیدار ابرار خان نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ مرجر کے بعد قبائلی عوام کی زندگیوں میں بہت زیادہ تبدیلیاں سامنے آئی ہیں جس میں انہیں ایک طرف اگرچہ سہولیات بھی میسر آگئی ہیں تاہم اس کے ساتھ ساتھ انہیں اس نئے سیٹ اپ میں گونا گوں مسائل و مشکلات بھی پیش آرہی ہیں جس کو سلجھانے کیلئے اس قسم کے ورکشاپس تمام قبائلی علاقوں میں منظم کئے جارہے ہیں جس میں سرکاری اداروں کے اہلکاروں ، قبائلی نوجوانوں اور عمائدین کو سروس ڈیلیوری، مختلف اداروں کے بارے میں معلومات اور آگہی دلائی جارہی ہے ۔ابرار خان نے مزید واضح کیا کہ اس قسم کے ورکشاپس کا مقصد لوگوں کو صحت مند سیاسی ، سماجی اور معاشی زندگی کی طرف لوٹ آنے میں مدد فراہم کرنا ہے تاکہ یہ لوگ ایک بار پھر شدت پسندی اور دہشت گردی کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں۔ ورکشاپ میں شریک اسسٹنٹ کمشنر میران شاہ عمر خطاب گورکی نے بتایا کہ یہ اور اس قسم کی دیگر سرگرمیاں اس نئے نظام میں عوام کو اپنے سماجی حقوق اور سروس ڈیلیوری کے بارے معلومات کی فراہمی کیلئے بہت مفید ثابت ہونگے تاکہ عوام کو اس نئے نظام سے مکمل طور پر استفادہ کرنے میں مدد مل سکے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں