نیشنل ڈیموکرٹک مؤومنٹ کے نام سے سیاسی جماعت کا انعقاد، ایم این اے محسن داوڑ پارٹی کا چیئرمین مقرر

پشاور ( دی خیبرٹائمز پولیٹیکل ڈیسک ) پشاور میں نئی پارٹی نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے قیام کے موقع پر تقریب کا انعقدا کیا گیا ۔ تقریب سے سے خطاب میں رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ، عبدالطیف افریدی ،بشرہ گوہر، افراسیاب خٹک، عبداللہ ننگیال بیٹنی ، جمیلہ گیلانی، بشیر مٹہ و دیگر نے شرکت کی ۔ محسن داوڑ نے نیشنل ڈیموکریٹک مؤومنٹ لانچنگ تقریب سے خطاب میں کہا کہ نئی پارٹی کی ضلعی سطح پر تنظیم سازی ہوگی ۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں قوم پرست سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا آسان کام نہیں۔ وہ قوم کو ایک جمہوری جماعت دینا چاہتے ہیں۔ پارٹی کی مشاورت سے محسن داوڑ کو نیشنل ڈیموکریٹک مؤومنٹ کا سنٹرل آرگنائزنگ کمیٹی چئیرمین مقرر کیا ۔ محسن داوڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ پارٹی کے جھنڈے کا رنگ سرخ اور کالا ہے۔ جمہوری عمل کے ذریعے پارٹی کی تنظیم سازی ہوگی اور پارٹی مشران ہمارے تحریک کا بنیادی حصہ ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو سیاست اور سیاسی جماعتوں میں حقیقی نمائندگی نہیں ملتی۔ دیگر سیاسی جماعتوں میں فیصلہ سازی کا اختیار محدود ہے۔ منصفانہ اور پرامن معاشرہ قائم کرنا منشور کا حصہ ہے۔ قدرتی وسائل پر حق حاصل کرنے کےلیے جدوجہد بھی منشور کا حصہ ہے۔ پارٹی اردو کو قومی نہیں رابطے کی زبان تسلیم کرتی ہے۔ بچوں کو مادری زبانوں میں پرائمری تک مفت تعلیم دینا پارٹی کا منشور ہے۔ ان کی پارٹی معاشی خود کفالت کو اہم سمجھتی ہے۔ ملک کی آزاد خارجہ پالیسی کی تشکیل کےلئے کوششیں پارٹی منشور کا اھم حصہ ہے ۔ محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کرنے اور عوامی رابطے کےخواہاں ہیں۔ پی ٹی ایم سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی ایم سیاسی نہیں پشتونوں کی مزاحمتی تحریک ہے، جس کے ساتھ ان کی پارٹی کا تعاون جاری رہے گا اور نئی سیاسی پارٹی بننےکےساتھ پی ٹی ایم مذید مضبوط ہوگی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتااس لئے ان کی پارٹی نے سیاست اور مذہب کو تقسیم کرنا ہے۔ ہماری سیاسی پارٹی کے تمام کارکن پی ٹی ایم کے کارکن ہیں ۔ ایم این اے علی وزیر اور کنیف پشتین تقریر کرنے پر مارشل لاء پلس ماحول میں پابند سلاسل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں