سانحہ کوئٹہ، جسٹس فائز عیسیٰ رپورٹ منظرعام پر لاکر عملدرآمد کیا جائے، میاں افتخارحسین

پشاور ( دی خیبرٹائمز پولیٹیکل ڈیسک ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ چار سال پہلے کوئٹہ میں نہتے وکلاء کو بے رحمی کے ساتھ شہید کیا گیا لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ انکے لواحقین کو ابھی تک انصاف نہیں ملا۔ سانحہ کوئٹہ کی چوتھی برسی کے موقع پر بلوچستان کے تنظیمی عہدیداروں سے ٹیلیفونک بات چیت کے دوران میاں افتخار حسین نے تمام شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سانحہ کوئٹہ بارے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ رپورٹ کو منظر عام پر لاکر عملدرآمد کیا جائے، کیونکہ آج بھی لواحقین اپنے پیاروں کیلئے انصاف مانگ رہے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی شہداء کی وارث جماعت ہے اور ان کے لواحقین کے مطالبات کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 08 اگست پاکستان کی تاریخ میں ایک دردناک او سیاہ دن تھا جب دہشت گردوں نے خونی کھیل کھیلتے ہوئے 60 سے زائد وکلاء کو شہید اور درجنوں کو زخمی کرکے عدل و انصاف کیلئے لڑنے والی وکلا برادری کو شدید صدمے سے دوچار کیا اور اتنی بڑی تعداد میں شہادت سے عدلیہ سے منسلک اہم ستون کو زبردست نقصان پہنچایا مگر سانحہ کوئٹہ سمیت دیگر واقعات میں وکلاء کی بڑی تعداد کی شہادت، زخمی ہونے کے باوجود وکلاء برادری اپنے فرائض اور عدل و انصاف کی جنگ ثابت قدمی سے جاری رکھے ہوئے ہے اور ثابت کردیا کہ وہ جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے فرض کی ادائیگی کا عزم رکھتے ہیں۔ میاں افتخارحسین نے کہا کہ ایک ہی دن میں بلوچستان کے قابل ترین افراد کو ہم سے جدا کیا گیا۔ جس ملک میں انصاف نہ ہو وہاں اس قسم کے واقعات کی روک تھام ممکن نہیں۔حکومت کی ناکام داخلہ و خارجہ پالیسی کے نتیجے میں دہشتگردی دوبارہ سر اٹھارہی ہے اور انتہاپسندی ایک بار عروج پر پہنچ رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عملدرآمد کی جائے کیونکہ پانچ سال پہلے بنائے گئے نیشنل ایکشن پلان چند نکات کے علاوہ ابھی تک عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ ہم باچا خان بابا کی سوچ اور فکر پر عمل پیرا ہو کر تمام انسانیت کی فلاح کی بات کرتے ہیں اور ہم ہی محفوظ نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں