کرونالاک ڈاؤن,افغانستان میں پھنسےڈرائیوروں کاوطن واپسی کیلئےاپیل

شمالی وزیرستان ( دی خیبر ٹائمز ڈسٹرک ڈیسک ) کرونا وائرس سے جنگ لڑنے کے دوران لاک ڈاون کے باعث سینکڑوں گاڑیاں اور اس کا عملہ آراکین افغانستان میں پھنس گئے ہیں، سوشل میڈیا کے ذریعے افغانستان میں پھنسے ہوئے افراد پاکستان واپس آنے کیلئے حکام سے اپیل کرتے ہیں، لیکن حکام کی کانوں میں ان کی اپیل نہیں اترآئی، شمالی وزیرستان غلام خان کے راستے افغانستان جانے والے 120 سے زائد ٹرک کا عملہ آراکین اس وقت غلام خان بارڈر پر واپسی کا رونا رورہے ہیں، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں وہ فریادکرتے نظر آرے ہیں، کہ اسے وطن واپسی یقینی بائیں، ان کا کہنا ہے، کہ وہ تمام احتیاطی تدابیر اپنانے کیلئے قرنطینہ سنٹرز میں رہنے کیلئے بھی تیارہیں، میرعلی میں موجود وزیرستان ٹرانسپورٹ کے صدر حاجی نورعلی خان نے ( دی خیبر ٹائمز ) کوبتایا، کہ غلام خان کے قریب افغانستان کے صوبہ خوست میں ان کے 120سے زائد ٹرک اور ان کا عملہ آراکین بری طرح پھنس گئے ہیں، ان کے بچے ان کے ہاں آتے ہیں اور روز ان کی فریاد سنتے ہیں، جسے طفل تسلیاں دینے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے، انہوں نےکہا کہ غلام خان کے راستے داخل ہونے والوں میں ان کے ٹرک ڈرئیوروں میں شمالی وزیرستان کے علاوہ ضلع بنوں اور ضلع لکی مروت کے لوگ بھی شامل ہے، جو مستقل طورپاکستان اور افغانستان کے روٹ پر ٹرک چلانے کی مزدوری کرتے ہیں، حاجی نورعلی خان کے مطابق وہ گذشتہ ایک مہینے سے شمالی وزیرستان کے انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہیں، لیکن انکا بھی ایک ہی جواب ہے کہ کوشش جاری ہے، جلد واپسی کیلئے اسلام آباد اور کابل انتظامیہ رابطے کررہے ہیں، ان کا کہنا تھا، کہ افغانستان میں پھنسے ہوئے ان کے ٹرکوں کے ڈرئیورز اور کلینرز کے ساتھ اب پیسے بھی ختم ہوگئے ہیں، جو فاقوں پر اتر آئے ہیں، ایک براگ نامی ٹرک ڈرئیورکو شدید کوفت کے باعث دل کا دورہ ہوا، جو ان کیلئے جان لیوا ثابت ہوا، جس کی میت بھی وہ پاکستان منتقل نہ کرسکے، اورانہیں افغانستان ہی میں سپرد خاک کردیاگیا، حاجی نورعلی خان کا یہ بھی کہناتھا، کہ ٹرک اور ان کے ساتھ موجود عملہ آراکین مکمل غیر محفوظ ہے، اللہ نہ کریں اس کے ساتھ کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے، ساتھ ساتھ رمضان کا آمد ہے وہ اگر اپنے بچوں کے ہاں نہ پہنچ سکے تو ان کے گھروں میں بھی فاقے آنے کاامکا ن ہے، پاک افغان بارڈر غلام خان کے تحصیلدار غنی الرحمان وزیر نے بتایا کہ وہ مسلسل حکام سے اس حوالے سے بات کررہے ہیں، امید یہی ہے کہ اسے جلد واپس آنے کیلئے اجازت مل جائیگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں